کبھی کبھی ہم آسان واقعات میں حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں ، بشرطیکہ ہم ان پر غور کریں۔ ہم پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ، تربیت حاصل کرتے ہیں اور اپنے منصوبے او ر مقصد تک پہنچنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں ، جیسا کہ ذرایع ابلاغ کی دنیا کا تعلق ہے ،سامعین و ناظرین تک کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات بہم پہنچانا ایک پیشہ وری ہے اور ہم جامع معلومات حاصل شدہ تکنیک ، میدان میں پیشہ ورانہ مہارت کی حیثیت سے اپناتے ہیں اور پیشہ ور ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن بعض اوقات سادہ لوح لوگ اپنے زمینی تجربات ، انسانیت کے سبق سے ہمیں زندگی کا سبق سکھاتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک’’مچھلی فروش‘‘کی کی سچی کہانی ہے ، جس کا انٹرویو حالیہ انتخابات کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ محض2 منٹ کے دورانیہ کے انٹرویو میںبہت کچھ کہا گیا ہے۔ انٹرویو لینے والوں کا شکریہ کرتے ہوئے میرے نزدیک اس کی دو جہتیں ہیں۔سب سے پہلے وقت کے مقابلے میں جامعیت کے حوالے سے مواصلاتی ہْنراور دوسرا سماجی و سیاسی نظام کا ’پوسٹ مارٹم‘۔
ایکسادہ لوح عورت کاایک منٹ 55سکینڈ کا یہ انٹرویو ہمارے پورے معاشرتی تانے بانے کے بارے میں عیاں راچہ بیاں والا معاملہ ہے۔ اس غر یب ’ماہی گیر‘ ماں کے استعمال کردہ الفاظ عمومی سطح پرایک غریب شخص کی کہانی اور مصائب کی علامت ہیں۔ اس کے اعمال ، اشاروں اور ہنسی سے ایک عام آدمی کی حالت ِ زار بیان کی گئی ہے۔
جالکدوز فیرن میں ملبوس اس درمیانی عمر کی والدہ جیسی عورت نے جوابات اور دلائل کے حوالے سے ایک سیاست دان اور تجزیہ کار کیلئے جوابات اور دلائل کی گہرائی کی روسے ایک لمحہ فکریہ چھوڑدیا ہے۔ انٹرویو کرنے والے کو وہ ایک سانس میں پوچھتی ہے ، ٹھیک ہے، آپکو ووٹ ڈالا، آپ منسٹر بن گئے ، پھر اگر ہم’’درخواست‘‘ لے کر آئیں تو آپ میرے بچوںکی خاطر کچھ کتابوں کیلئے ایک سفارش پیش کریں گے ’’آپ سر(جناب) پر لکھیں گے‘‘ (آپ سر پرمارک کریں گے جو پی اے ہوسکتا ہے) وہ کیس ہیڈ ماسٹر کے پاس بھیجے گا۔ ہیڈماسٹر ہمیں کہے گا’’جائو‘‘ اور ہم مایوسی واپس لوٹیں گے… تب ہم کیا کریں گے؟۔
یہ بیان ہمیں بتاتا ہے کہ غریب ’’ موج‘‘ (ماں) کے پاس اس تجربے کے حوالے سے کوئی بڑی مانگ نہیں تھی جس کے بارے میں وہ بات کرتی تھی بلکہ انہیں اپنی بیٹی کے بچوں کے لئے کچھ درسی کتب کی ضرورت تھی ، جس کی وجہ سے شاید وہ دھچکا لگا تھا!
اس نے بتایا کہ کنبے میں پانچ افرد ہیں اور مچھلی بیچنے سے روزی کماتے ہیں لیکن بعض اوقات انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ، کنبہ میں اسکی بیٹی اور بیٹی کے تین بچے شامل ہیں۔
اگلی آہ میں وہ بازار کی مہنگائی کی بات کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ قلیل کمائی میں آخر کیا کیاخریدا جاسکتا ہے ، نمک ؟ چائے! یا تیل؟ جس تیل کی قیمت آسمان چھورہی ہوتی ہے …بلکہ ایک مخصوص برانڈ کی قیمت 2200 روپے فی کنستر ٹین ہے۔
صحت کی حیثیت کے حوالے سے ’ماں‘ غیر معمولی معاملہ بیان کرتی ہے کہ شدت غربت سے وہ مچھلی فروخت کرنے کے لئے سڑک کے کنارے اپنے گھرسے باہرآنکلتی ہے۔ کیوںکہ اْسے خاندان کی سربراہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی اور پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔وہ کہتی ہیں ’’اگر میں افسردہ نہ ہوتی ، تو میں یہاں مچھلی بیچنے کے لئے نہیں بیٹھتی ، میرا بلڈ پریشر ، اچانک راتوں میں معمول سے زیادہ بڑھتا ہے اور اگلی صبح اس کے علاج میں دو سے تین ہزار کا خرچہ آتا ہے‘‘۔
دراصل ان ماں جیسے لوگ بہادر اور ذندہ دل ہیں ۔ان جامع قسم کے مشکل حالات کے درمیان زندہ رہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس کا پورا گھر ایک ہی باورچی خانے پر مشتمل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس نے محکمہ فشریز میں درخواست دی تھی (ہوسکتا ہے کہ کسی سکیم کے تحت کچھ تعمیری ڈھانچے کی ترقی کیلئے ہو) لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا ، کیوں کہ اس کا پوتا مچھلی پکڑنے کا کام کرتا ہے لیکن آج کل اْس سے کوئی مچھلی نہیں پکڑی جا سکتی تھی۔
پھر اگلی سانس میں میں وہ شایدغیر سرکاری فلاحی تنظیموں کاگلا کرتی ہیں کہ جب وہ ان کے دفتر سے مایوس ہوگئیں۔ یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ عام لوگ تمام فلاحی تنظیموں اور این جی اوز کو’’یتیم ٹرسٹ‘‘ کہتے ہیں۔راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مچھلی فروش ماں کے دعوے کو تمام فلاحی تنظیموں کی طرف سے ایک عام کال کے طور پر لیا جانا چاہئے اور فلاحی نظام کے ترویج کی بڑی اہم ضرورت ہے۔
اگلا وہ ، محکمہ سماجی بہبود کو چھو رہی ہے اور اپنی مادری زبان میں کہتی ہے’’تتہِ چھْنا سہْ صاحَب ، سہْ چھْ دیوان لکھیت مسکین باغ پیٹھ ، مسکین باغ چھِ تھاوان تتی … (اور ہنسی کے ساتھ) می دوپ ڑھْونس بلائے‘‘ (وہاں جو وہ صاحب بیٹھا ہے ، وہ (درخواست) کو مارک کرتا ہے اور مسکین باغ جانے کو کہتا ہے ، مسکین باغ میں فائلیں دھول چاٹتی ہیں … اور (ہنس کر بولتی ہے) میں نے اس کیس کو( تنگ آکر) آدھے راستے ہی چھوڑ دیا)۔
لمحہ فکریہ:دو منٹ سے بھی کم وقت میں سڑک کے کنارے مچھلی بیچنے والی بزرگ ماں نے مصائب کی ایک قابل رحم داستان رقم کی ہے ، جس میں ہمارے نظام حیات کی زمینی حقائق کو دکھایا گیا ہے۔حکومت سے لے کر فلاحی تنظیم کے سٹیک ہولڈر اس سسٹم کو پٹری پر لانے کے لئے اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔ البتہ اس ماں کی حالت ِ زار و بیان کو مد ِ نظر رکھ کر کو تمام متعلقہ افراد کے احیائے نو اور خود شناسی کے رجحان کی رو سے ایک سنگ میل کی حیثیت سے کام کرنا چاہئے۔ وہ اس منظرنامے کی زمینی حقیقت کی علامت ہے جہاں ایک سیاست دان، ہیڈ ماسٹر پر انحصار کرتا ہے ، ایک ہیڈ ماسٹر اسے بچوں کے لئے کتابوں سے محروم رکھتا ہے ، جہاں اس کے اختیارات لاعلمی کی کمی کی وجہ سے یا مہنگائی کی وجہ سے متبادل تیل کے برانڈوں کے بارے میں محدود ہیں۔ پانچ ارکانِ عیال کے ساتھ باورچی خانے میں رہائش پذیر اور کسی کی مدد اب تلک شامل ِ حال نہیں ، جہاں وہ این جی اوز کے بارے میں بھی ناراضگی ظاہر کرتی ہے ، جہاں محکمہ سوشل ویلفیئر کا ایک بڑا نام اور مسکین باغ دفتر کی ٹھوکریں کھانا اسکی قسمت ہو۔ پھر بھی وہ بہادری سے جدوجہد کرتی ہے اور یہ ہم سب کے لئے خود انحصاری اورصبر کا سبق چھوڑتی ہے اور اجتماعی طور پر ہمارے بے حس ضمیر کو ہلادیتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔7006551196