اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ اگر اس کے ایک حصے میں ذرا سی بھی تبدیلی آرہی ہے تو ہمارا جسم بیکار ہوجاتا ہے۔ہمارے جسم میں ایک خاص عضو یعنی دل مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اگر خلل پیدا ہو جائے تو انسان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لئے ہم آج کل سنتے آرہے ہیں کہ حرکت قلب بند ہونے سے اتنی اموات ہوئی ہیں اور ان اموات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آئیے آج جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ کون سی بیماری ہے اور اس بیماری سے بچنے کیلئے کون سے احتیاط کرنی چاہیے۔ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے تو اس سے پہلے چھ مہینے اس کو جسم کے باقی اعضاء باخبر کرتے ہیں مگر وہ اس کی طرف دھیان نہیں دیتا ہے۔ اس بیماری کو سائنسی طور سے disease cardiovascularکے نام سے جانا جاتا ہے اور دنیا بھر میں اس کی وجہ سے فوت ہوئے اشخاص کی شرح ہرسال تقریباً 17.9ملین ہے۔disease cardiovascular انسان کے خون کی شریانوں اور دل کے اندر خرابی پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سےRheumatic Heart Disease،cerebrovascular disease، coronary heart disease جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اموات دل کا دورہ پڑنے سے ہی ہورہی ہیں اور ان اموات میں سے ایک تہائی حصہ ان اشخاص کا ہوتا ہے جن کی عمر 60سال زیادہ ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے بلڈ پریشر میں اضافہ، گلوکوز میں اضافہ اور چربی میں اضافہ ہونے کے علاوہ موٹاپا اور وزن میں اضافہ ہوتا ہے، ان میں بھی ایسی بیماریاں لاحق ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے دل کی مقدار ایک مٹھی کے برابر ہوتی ہے؟ اور یہ انسان کے جسم میں سب سے زیادہ مضبوط عضو ہوتا ہے جو ہماری تخلیق ہونے کے تین ہفتے بعد دھڑکنا شروع ہوتا ہے مگر اتنا مضبوط ہونے کے باوجود بھی ہمارا یہ دل حملے کی زد میں آسکتا ہے۔سال2020کے دسمبر میں شائع امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے ایک رسالے کے مطابق دل کے مریضوں کی تعداد 1990سے 2020تک دوگنا ہوگئی ہے۔ 1990میں دل کے مریضوں کی تعداد 271ملین تھی جبکہ 2020میں انکی تعداد 523ملین تک پہنچ گئی اور امراض قلب سے مرنے والوں کی تعداد 18.6ملین ہوگئی ہے جن میں 9.6ملین مرد اور 8.9ملین عورتیں اس سال امراض قلب سے فوت ہوئی ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ 6ملین سے زیادہ اموات ان لوگوں کی ہوئی ہے جن کی عمر 30سے 70 سال تک کی تھی اور یہ تعداد عالمی سطح پرصحت شعبہ سے وابستہ کارکنان کیلئے لمحہ فکریہ بن گئی ہے ۔ان مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو لیکر اب اسی تحقیقات میں لگے ہیں کہ اس بیماری میں روز بروز اتنا اضافہ دیکھنے کو کیوں مل رہا ہے؟
ماہرین طب نے ان لوگوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جن لوگوں میں اس طرح کی بیماریاں لاحق ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں اور اسی فہرست میں سے میں یہاں کچھ کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ لوگ باخبر ہوجانے کے ساتھ ساتھ احتیاط سے بھی کام لیں۔ مندرجہ ذیل افراد میں ایسی بیماریاں لگنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں؛
1۔بلند فشار خون۔جن لوگوں کا بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے، ان میں امراض قلب کے خطرات زیادہ رہتے ہیں،اس لئے اپنے بلڈ پریشر کو توازن میں رکھنے کیلئے مسلسل چیک اپ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
2۔ہائی کولیسٹرول والے اشخاص۔زیادہ کولیسٹرول سے انسان کی شریانوں کے اندرونی حصے موٹے ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے خون کو دل تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں یا کم مقدار میں خون دل تک پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کے خطرات زیادہ رہتے ہیں۔
3۔ذیابطیس والے اشخاص میں۔جن لوگوں کو ذیابیطس کی بیماری ہوتی ہے، ان میں دل کی بیماریاں لگنے کے امکانات دو سے چار گنا ہوتے ہیں۔
4۔موٹے اشخاص۔موٹاپن ایک ایسی بیماری ہے جس میں سبھی بیماریاں گھر کرسکتی ہیں۔ جن لوگوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے، ان میںامراض قلب کے خطرات زیادہ رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ تمباکو یا سگریٹ نوشی کرنے والوں، غیر موزون و غیر مقوی غذا استعمال کرنے والوں اور جن کے جسم میں نمک، شوگر، چربی اور کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے اور جو جسمانی ورزش نہیں کرتے ہیں یا شراب نوشی کرتے ہیں ،کو بھی دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات سو فیصد ہوتے ہیں۔
ماہرین طب نے امراض قلب سے بچنے کے طریقے بھی بتا دئیے ہیں۔ اگر انسان ان پر عمل کرے تو امراض قلب کو کم کیا جاسکتا ہے اور ان میں سے مندرجہ ذیل احتیاط بھرتنے کی ضرورت ہوتی ہے؛
انسان کو ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہئے جو مقوی اور موزون ہوتے ہیں جن میں چربی، نمک اور شوگر لیول کم ہو۔ تلی ہوئی چیزوں کے علاوہ میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنی چاہیے۔ تازہ اور ہری سبزیاں اور میوہ جات کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔ خاص طور سے کچی سبزیاں ہی کھانی چاہئیں۔گوشت کا استعمال کم کرنا چاہئے۔ دن میں کم سے کم آدھے گھنٹے کیلئے ورزش کرنی چاہئے۔ دل کو دباؤ سے بچانے کیلئے خود کو مطالعہ میں لگانا چاہئے یا عبادت میں وقت گزارنا چاہئے اور مطالعہ کیلئے سب سے بہترین قرآن پاک کی تلاوت معہ معنی پر بھی غوروفکر کرنا چاہئے۔ بزرگوں کو ان لوگوں کے ساتھ اپنا وقت گزارنا چاہئے جن لوگوں سے ان کی قرابت ہو اور جو ان کی باتیں سننے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ دل کو دباؤ سے بچانے کیلئے تھوڑا سا آرام بھی کریں۔تمباکو اور سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ان چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے اور وقت وقت پر خود کا چیک اپ کراتے رہیں اور اپنے بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول، ذیابیطس اور وزن کو توازن میں رکھنے کیلئے ڈاکٹر سے صلاح لیتے رہیں ۔اگر آپ نے ایسا نہیں کیا توبے احتیاطی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔