گول// ضلع رام بن کے گول سب ڈویژن کی پنچایت کلی مستی ، گنڈی ، بھیمداسہ کی ہزاروں آبادی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔قریباً دو سال قبل علاقہ چنا میں ایک جھولا پل گر گیا ہے اور آج تک اس پل کوتعمیر نہیں کیا گیا بلکہ وہاں اسی طرح سے ایک طرف لٹکا ہوا ہے اور لوگ بارشوں کے دوران اپنے عیال سمیت تین سال سے اس خطرے سے کھیل رہے ہیں ۔ یہ پل کلی مستا ،گاگرہ،چنا ، گنڈی ،بھیمداسہ، گوئی ،ڈاکہ،آستان مرگ وغیرہ علاقوں کوملاتا ہے اور شدید بارشوں کے دوران لوگ اکثر اس پل نہ ہونے کی وجہ سے گھروں سے باہرتک نہیں نکلتے ہیں لیکن جو لوگ پہلے سے ہی گھروں سے باہر ہوتے ہیں اور اپنے اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں انہیں اپنی جانوں پرکھیل کر یہاں اس دریا سے گزرنا پڑتا ہے ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ اگر چہ اس پل کی تعمیر کے لئے کئی مرتبہ اعلیٰ حکام، مقامی انتظامیہ اور سیاسی لیڈران سے مطالبہ بھی کیا تھا اور کرتے آ رہے ہیں لیکن اس کی طرف کوئی بھی دھیان نہیں دے رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو یہی واحد راستہ ہے جہاں سے ان کے بچے سکول آتے ہیں ،بازار آنا ہوتا ہے تحصیل ہیڈ کوارٹر کو ملانا والا یہی راستہ ہے جس وجہ سے لوگوں کو مجبوراً اسی راستہ سے آنا پڑتا ہے او ر اگر کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو اسی راستے سے اُسے لانا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے جو گزشتہ روز شدید بارشوں کے دوران یہاں چنا علاقہ میں موجود تھے اور اپنے اپنے گھروں کوجانا چاہتے تھے لیکن پانی کا بھائو کافی زیادہ تھا جس وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچے ،عورتیں اور بزرگ کافی پریشان تھے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جب وہ کافی زیادہ مجبور ہوئے اور گھر جانا بھی تھا اورانہوں نے یہاں ایک لکڑی کاعارضی پل بنایا اوراس عارضی پل کو انہوں نے پار کیا اور اپنے اپنے گھروں کوگئے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں نہ صرف بارشوں میں بلکہ خشک موسم میں بھی پانی کابھاو کافی زیادہ ہوتا ہے اور پل کے بغیر اس کو پار کرنا ناممکن ہے ۔انہوں نے یہاں مقامی انتظامیہ،ڈی ڈی سی چیرمین اور ڈی ڈی سی ممبر سے مطالبہ کیا کہ ان پر ترس کھا کر جلدازجلدیہاں پرایک پل تعمیر کریں تا کہ ان کی زندگی کاتحفظ یقینی بن سکے اوران کے بچے و عیال بناء کسی پریشانی یہاں سے سفر کرسکیں ۔