اننت ناگ+شوپیان// سنگم بجبہاڑہ میں گرینیڈ دھماکے کے نتیجے میں 2شہری زخمی ہوئے جبکہ شوپیان میں شبانہ جھڑپ کے دوران کیا گیا محاصرہ ختم کیا گیا جس میں دو جنگجو اور ایک فوجی حوالد ہلاک ہوئے تھے۔پولیس نے بتایا کہ شام7بجکر 15منٹ پر سنگم بجبہاڑہ میں ڈیوٹی پر تعینات96بٹالین سی آر پی ایف اہلکاروں پر جنگجوئوں نے اس وقت گرینیڈ داغا، جب یہاں لوگوں کی اچھی خاصی بھیڑ تھی۔پولیس نے بتایا کہ جنگجوئوں کانشانہ چوک گیا اور گرینیڈ سڑک پر زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا جس کے باعث اگر چہ فورسز کو کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ گرینیڈ کے آہنی ریزوں سے40سالہ عبدالحمید میر ولد محمد رمضان میر ساکن رکھ لتر پلوامہ اور35سالہ محمد عارف بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکن سنگم زخمی ہوئے۔حملے کے بعد یہاں افرا تفری مچ گئی۔ادھر وانگام شوپیان کا شبانہ محاصرہ اتوار کی صبح قریب 4بجے اٹھا لیا گیا۔شبانہ تصادم آرائی رات کے 12بجے دوسرے جنگجو کی ہلاکت پر ختم ہوئی لیکن اسکے بعد بھی 34آر آر، 178بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس نے تلاشی کارروائی جاری رکھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جنگجو مشتبہ جگہ سے باہر آئے تھے جس کے دوران ان کی ہلاکتیں ہوئیں۔ مہلوک جنگجوئوں میں شوپیان ضلع کا سب سے مطلوب جنگجو بھی شامل ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ جنگجو کی شناخت عنایت اللہ شیخ ولد محمد امین شیخ ساکن رام نگری شوپیاں کے بطور ہوئی جو پولیس ریکارڈ کے مطابق( 28فروری 2018) سے سرگرم تھا۔ وہ حزب سے وابستہ تھا ۔دوسرے جنگجو کی شناخت عادل احمد ملک ولد نذیر احمد ملک ساکن دھن ویٹھ کوکر ناگ کے بطور کی گئی ہے۔ وہ29اگست 2020 سے سرگرم تھا۔ اس مسلح تصادم آرائی میں فوجی حوالدار پنکو کمار ہلاک جبکہ سپاہی مندیپ سنگھ زخمی ہوا۔ اتوار بعد دوپہر ایک بجے ضلع میں موبائل سروس بحال کی گئی۔ادھر اتوار کو ہیشوپیان کے ترکہ وانگام نامی گائوں کو ایک بار محاصرے میں لیا گیا۔ گائوں میں جنگجو ئوںکی موجود گی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد 44 آر آر، سی آر پی ایف کی 178 بٹالین اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر تلاشی مہم کا آغاز کیا۔شب کے 9بجے تک یہاں محاصرہ جاری تھا۔