سرینگر // محکمہ آر اینڈ بی اور پی ایم جی ایس وائی کے آپسی تال میل کے فقدان کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے کیونکہ پیر پنچال کے آر پار محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے بیشتر سڑک منصوبے کھٹائی کا شکار ہیں۔ محکمہ کی جانب سے جن سڑکوں کی تعمیر کئی سال قبل شروع کی گئی ، ان کا کام ادھورا چھوڑ دیا گیا اور اب نہ ہی ان سڑکوں کی مرمت محکمہ تعمیرات عامہ کر رہا ہے اور نہ ہی پی ایم جی ایس وائی ان سڑکوں کی دیکھ ریکھ کا ذمہ لے رہی ہے ۔معلوم رہے کہ سڑکوں سے محروم بستیوں کو جوڑنے کیلئے مرکزی سرکار نے 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت ایک فلیگ شپ پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد ایسی بستیوںکو سڑکوں کے ذریعہ جوڑناہے جہاں سڑک سہولت دستیاب نہیں ہیں۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مال سال2020.21میں جموں وکشمیر میں کل 3500.00 کلو میٹرمسافت کی سڑکوں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا تھا جس میں سے محکمہ کا دعویٰ ہے کہ 2,254.497کلو میٹر مسافت کی سڑکوں کی تعمیر مکمل کر دی گئی ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ 177 بستیوں میں سے 94 کو سڑک رابطوں سے جوڑ دیا گیا ہے اور محکمہ کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے اس مالی سال کے دوران 1245.503 کلو میٹرمسافت کی سڑکوں کی مرمت اور تجدید ہونا ابھی باقی ہے جبکہ 83بستیاں ابھی بھی سڑک رابطوں سے محروم ہیں ۔محکمہ کے مطابق مالی سال 2019.20میں467بستیوں کو جوڑا جانا تھا تاہم صرف 14 کو جوڑدیاگیا ۔مالی سال2018.19میں کل 520بستیوں کو جوڑنا تھا جس میں سے216کو جوڑا گیا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ نے جن سڑکوں کی تعمیر مکمل کر لی ہے ان کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے اور ان کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں 3ہزار 2سو61بستیوں کو سڑک رابطہ فراہم کرنے کی خاطر حکومت نے فلیگ شپ پروگرام شروع کیا تھا جس کے تحت پہاڑیوں کو چیر کر بھی سڑکیں بنائیںگئیں لیکن کہیںیہ ناقابل استعمال ہیں اور کہیں تعمیر مکمل نہیں ہوئی ہے۔ضلع رام بن میں 30کے قریب سڑکیں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے زیر تحت آتی ہیں، جن کی تعمیر کا کام کئی سال قبل شروع کیا گیا لیکن ان میں سے صرف 5سے6سڑکیں ہی قابل آمد ورفت ہیں۔چنجول سے بانہال ، بانہال سے منگت ، بانہال سے مہو ، مکرکوٹ سے نیل ، کھڑی سے ترگام ، اکڑال سے سینا ، پیڑا سے ڈھلوان ساونی سڑک انتہائی خستہ ہیں ۔ایسا ہی حال ضلع ڈوڈہ اور کشتوار اضلاع کا بھی ہے وہاں پر بھی ان سڑکوں کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جاتا۔ بگلی سے چمپن ، جٹیار سے گونڈو ، چنگہ سے کالسر ، گندو سے ڈھوریڑ ی سڑکوں کا کام سال2006.7میں شروع ہوا تھا لیکن یہ خستہ حالت میں ہیں ۔ کشمیر کے کپوارہ ، بانڈی پورہ ، بارہمولہ ، اوڑی ، کرناہ ، سمیت ، گریز مژھل ، کیرن ودیگرعلاقوں میں کئی ایک پروجیکٹوں کی تعمیر بھی تاخیر کا شکار ہے۔کیرن میں مشینوں کے ذریعے بستیوں کو جوڑنے کیلئے تعمیر کی گئی سڑکوں پر گاڑیوں کا چلنا ناممکن ہے کیونکہ یہ سڑکیں نہیں بلکہ نالیاں ہیں۔ سال2017.18میں محکمہ نے مرکزی سرکار نے سڑکوں کی تعمیر کو مکمل بتانے کیلئے اعزاز بھی حاصل کیا لیکن سڑکوں کی حالت کسی نے بھی نہیں دیکھی کہ سڑکیں کس قدر خستہ حالت میں ہیں۔