جنگلاتی اراضی سے انخلاء کے نام پر قبائلوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت: نیشنل کانفرنس
سرینگر// نیشنل کانفرنس جنگلاتی اراضی سے بے دخلی کے نام پر گوجر بکروال طبقہ کے لوگوں کو وقفے وقفے کے بعد نشانہ بنانے کے ایک منظم سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکمرانوں کو مستقبل میں ایسی کسی بھی کارروائی انجام دینے سے خبردار کیا ہے۔ پارٹی کی سینئر لیڈر سکینہ ایتو، ترجمان عمران نبی ڈار اورضلع صدر کولگام عبدالمجید لارمی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کی طرف سے جموں میں جاری کیا گیا یہ سلسلہ گذشتہ سال کشمیر پہنچ گیا اور نومبر کے ماہ میں لدرپہلگام میں جنگلوں میں قائم کوٹھوں کوبلا جواز طریقہ پر منہدم کئے گئے اور اب گذشتہ دنوں پتھری شوپیان میں قبائیلیوں کو بلاجواز طور پر نکالنے کیلئے جو غیر انسانی طریقہ کار اختیار کیا ،اُس کی جتنی بھی مذمت اور ملامت کی جائے ،کم ہے۔ بیان میں کہاکہ زم پتھری شوپیان میں حکام کا غیر انسانی طریقے کا یہ عالم تھا کہ قریباً2درجن لوگ زخمی ہوگئے۔ پارٹی لیڈران نے اس غیر انسانی کارروائی میں ملوث افسران اور اہلکاروں کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی لیڈران نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران ایک طرف قبائلی اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کے بلند بانگ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب جموں سے لیکر کشمیر تک قبائیلوں کو بلاجواز اور غیر قانونی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال حکومت نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے یہ بات عوام تک پہنچائی کہ جو لوگ جنگلوں میں قیام پذیر ہیں ،انہیں مکمل جنگلوں میں رہنے کے حقوق دیئے جائیں گے اور انہی اشتہارات میں ان قوانین کا بھی خلاصہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی بلاجواز اور غیر قانی طور پر ان لوگو ںکو نشانہ بنایا جارہاہے۔
راج بھون نے او ایس ڈی کو گرمجوشی سے الوداع کیا
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، راج بھون کے اَفسران اور عملہ نے آج میجروِپن یادو کو گرمجوشی سے الوداع کیا جنہوںنے لیفٹیننٹ گورنر کے او ایس ڈی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔میجر وِپن یادو نے یہاں 2018 کے بعد سے ہی گورنر کے اے ڈی سی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے سبکدوش ہوئے آفیسر کو مبارک باد دیتے ہوئے میجر یادو کے فرائض سرانجام دیے ہوئے طرز عمل ، مستعدی ، خلوص اور لگن کی تعریف کی اور انہیں روشن مستقبل میں کامیابی کی اُمید کی۔
بے روزگاری اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ | غریب طبقہ کو معاشی طور معذور کرکے رکھ دیا:تاریگامی
سرینگر//رجسٹرڈ تعمیراتی کارکنوں ، شکارا والوں، پونی والوں، ڈندی والوں، پالکی والوں اور سیاح گایئڈوں کو بطور COVID-19 امداد 1000روپے ماہانہ کی ادائیگی ناکافی قرار دیتے ہو ئے سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ بے روزگاری اور کھانے پینے کی قیمتوں میں اضافے نے جموں و کشمیر میں معاشرے کے غریب طبقے کو معذور کردیا ہے۔ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کہ تعمیراتی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد ،جو ابھی تک بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہے اور باہری ریاستوں سے آئے مزدور اس ریلیف سے مستشنی ٰرکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگست 2019 کے بعد سے ، اس شعبے سے وابستہ لوگوں کی آمدنی ، جو کم اجرت والے مزدوروں پر مشتمل ہیں ، کام نہ ملنے کی وجہ سے تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ شدید متاثرہ لوگوں میں سے کچھ میں تعمیراتی کارکن ، کار، بس،منی بس، تویرا، سومو، آٹو ڈرائیور، چھوٹے دکان والے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور شامل ہیں۔ تایگامی نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی زد میں ان لوگوں کی اکثریت کو زیادہ قیمتوں پر اشیائے خوردنی خریدنے کے لئے بچت اور اضافی آمدنی نہیں ہے۔تاریگامی نے کہاکہ ٹرانسپورٹ صنعت سے وابستہ افراد معذور ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے بینکوں سے قرضوں پر گاڑیاں لے رکھی ہیں جس کے لئے انہیں قسط اور سود ادا کرنا پڑتا ہے ، حالانکہ پچھلے تقریبا دو سالوں میں انہیں مشکل سے ہی کوئی کام کا دن ملا ہے۔ اسی طرح متعدد لاک ڈاؤن نے ہزاروں خاندانوں کی بقا کو مشکل بنا دیا ہے جو دستکاری کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں،لوگ کشمیر میں ایک مضبوط وجود کی تلاش کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہزاروں کاروباری افراد اپنے عملے کو ادائیگی نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے فہرستوں پر رکھ سکتے ہیں۔خطے کے ہزاروں مزدور ، جو موسم سرما کے مہینوں میں ہماچل پردیش ، پنجاب ، ہریانہ ، دہلی ، راجستھان ، یوپی اور دیگر مقامات پر مزدوری تلاش کرنے جاتے تھے ، کوویڈ19کی وبائی بیماری کے سبب گذشتہ موسم میں نہیں جاسکے۔ اسی طرح سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد کو اگست 2019 سے روزی کمانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔تاریگامی نے کہاکہ نومبر 2018 کو سیب کی فصل اور درختوں کو غیر موسمی برف باری کی وجہ سے نقصان پہنچااور اگست 2019 میں مرکز کی جانب سے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد لاک ڈاون کی وجہ سے کشمیر میں پھلوں کی صنعت کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2019 میں 7 نومبر کو ایک اور غیر متوقع برف باری کے بعد 2020 اور 2021 میں یکے بعد دیگرے کوویڈ 19 لاک ڈاؤن سے کشمیر میں میوہ کی صنعت پر تباہی مچا دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس صورتحال کے سبب غریب خاندانوں کے لئے ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوا ہے ،حکومت کی ناکافی ریلیف اور زمینی صورتحال کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج ہے جس کو ترجیحی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
کوکرناگ میں نوزائیدہ بچی کو بدلنے کا الزام | ڈی این اے ٹیسٹ سے بچیوں کی شناخت کی جائیگی
عارف بلوچ
اننت ناگ //ضلع اننت ناگ کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دینے کے بعد خاتون نے اسپتال انتظامیہ پر بچی کوبدلنے کا الزام عائد کیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے نومولود بچیوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیاہے ۔ سب ضلع اسپتال کوکرناگ میں ساگم اور تکیہ ماگام سے تعلق رکھنے والی 2خواتین نے بیک وقت 2بچیوں کو جنم دیا۔ مسرت جان ساکنہ ساگم نے بچی کو جنم دیاجبکہ تکیہ ماگم سے تعلق رکھنے والی سعیدہ رفاقت نامی خاتون نے بھی ٹھیک اسی وقت بچی کو جنم دیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دونوں حاملہ خواتین نے نارمل ڈیلوری کے دوران دو بچیوں کو جنم دیا۔تاہم مسرت جان نے اسپتال انتظامیہ پر بچہ بدلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ جو بچہ سعیدہ رفاقت کے پاس ہے وہ بچہ اس کا ہے۔معاملہ کے بعد اسپتال انتظامیہ نے الجھن کو سلجھانے کے لیے نومولود بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔ انتظامیہ نے دونوں نو زائد بچوں کے ڈی این اے نمونے جانچ کے لئے کے لیے روانہ کئے ہیں ۔
8ایس پی او کے لواحقین میں45لاکھ روپے ریلیف منظور
سرینگر//پولیس سر براہ دلباغ سنگھ نے فوت ہوئے ایس پی اوزکے لواحقین کے حق میں 45لاکھ روپے کی رقم بطور (اسپیشل ریلیف) منظور کی ہے۔پولیس ہیڈ کواٹر کی جانب سے اجراء کر دہ مختلف حکمناموں کے مطابق دلباغ سنگھ نے دوران ڈیو ٹی قدرتی موت یا کسی بیماری کے نتیجے میں فوت ہو نے والے 8ایس پی اوز کے ورثاء کے حق میں پانچ پانچ لاکھ روپے بطور مالی امداد کو منظوری دی۔پانچ پانچ لاکھ روپے کی یہ رقم ایس پی اوسنجیو کمار،بیلی رام،راجندر سنگھ،مدن لعل،بھگت سنگھ،منسا رام،حلیمہ بیگم اور غلام محی الدین کے حق میں منظور کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دلباغ سنگھ نے مارے گئے ایس پی اونظیر احمد خان کے اہلخانہ کے حق میں پانچ لاکھ روپے کی رقم منظورکی ہے۔یاد رہے کہ ایس پی او نظیر احمد خان 29مارچ کو سوپورمیں ایک جنگجویانہ حملے کے دوران مارا گیا تھا اور مذکورہ ا یس پی او کے ورثاء کو پہلے ہی 50پچاس ہزار روپے کی رقم آخری رسومات اور تجہین و تدفین کے لئے ادا کی گئی ۔ پولیس ہیڈکواٹر نے اپنے افسران،اہلکاروں سمیت ایس پی اوز اور ان کے اہلخانہ کی فلاح و بہبود اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے اور اس سلسلے میں پولیس ہیڈ کواٹرنے کئی ایک اسکیمیںدر دست لی ہیں جن سے براہ راست ہزاروں پولیس اہلکار اور ان کے الخانہ مستفید ہو رہے ہیں۔
منسٹریل ایگزیکٹیوو ٹیلی کام کیڈروں میںتعینات 9اہلکارترقیاب
سرینگر//پولیس سربرا دلباغ سنگھ نے منسٹریل ایگزیکٹیو کیڈر اور ٹیلی کام کیڈر سے وابستہ9اہلکاروں کو ترقیاں ملنے پر مبارکباد دی ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹر سرینگر نے منسٹریل ایگزیکٹیو کیڈر کے ایک سب انسپکٹر اور ٹیلی کام کیڈر کے 8سب انسپکٹروں کو ترقیوں کے احکامات جاری کئے ہیں۔ محکمہ کی پروموشن کمیٹی کی سفارشات اورباریک بینی سے سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد یہ حکمنامے زیر نمبرات1620اور 1621بتاریخ 25مئی 2021کو جاری کئے گئے۔ ان احکامات کی رو سے محمد سلیم شیخ SI (S)منسٹریل ایگزیکٹیو کیڈر کو انسپکٹر جبکہ ٹیلی کام کیڈر کے 8سب انسپکٹروں، جن کے نام چرن داس، رشپال سنگھ، محمد یوسف، عبدالرشید ، غلام نبی، بلونگ راج ، عبدالرحمان اور گل محمد ہیں، کو کو انسپکٹر کی ترقیوں سے نوازا گیا ہے۔
پلوامہ میں خشخاش اور بھنگ کی کاشت پر پابندی | تعاون نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی: ڈی ایم
پلوامہ//ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پلوامہ بصیر الحق چودھری نے ضلع میں خشخاش اور بھنگ کی کاشت اور خریدو فروخت پر مکمل پابندی عائد کی ہے ۔ جاری کئے گئے ایک حکمنامے کے مطابق چند سماج دشمن عناصر ارضی کے بڑے قطعوں میں خشخاش اگاتے ہیں اورافین حاصل کرتے ہیں جو کہ خطرناک شے ہے۔ اپنی آمدن اور معاش کا ذریعہ بنانے کیلئے خشخاش کی پوست اور پھلی کوپیس کر اسے نشیلی ادویات بنا کر پڑوسی ریاستوں کو اور مقامی طور پر سمگل کرتے ہیں۔ حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ خشخاش، بھنگ کی کاشت ضلع انتظامیہ کیلئے ایک چلینج ہے اور اس بدعت نے نہ صرف ڈرگ مافیا کو جنم دیا ہے بلکہ نوجوانوں اور نوعمرروں کو اس نشیلی بدعت کے شکار ہوجاتے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں ذہنی و جسمانی عوارض میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر زمینوں میں اگائی گئی خشخاش فصل کو تباہ کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائیگا۔
وادی کی معیشت بری طرح متاثر: اکنامک الائنس | متاثرین کیلئے مہاراشٹرا اور نئی دہلی کی طرز پر مالی پیکیج دی جائے
سرینگر//کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے تاجروں ،صنعت کاروں،کارخانہ داروںا و رٹرانسپوٹروںکی مالی خستہ حالی کو مد نظر رکھتے ہوئے مہاراشٹرا اور دہلی سرکاروں کی طرز پر جامع پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فاروق احمد ڈارنے کہا کہ کورونا لاک ڈائون کے دوران قریب15لاکھ لوگوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے اورگزشتہ2برسوں کے دوران اور امسال بھی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وادی میں تاجروں و کامگاروں کی مالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستکاری شعبے کو قریب70ہزارجبکہ باغبانی،پھولبانی، زراعت اور ابریشم(سریکلچر) شعبہ جات سے12ہزار ،ٹرانسپورٹ شعبے کو 60ہزار،طبی و نگہداشت سہولیات شعبے کو2500 ،سروس سیکٹر(شعبہ خدمات) میں66ہزار، تعلیمی شعبے میں بھی قریب1500اور فائنانس سیکٹر میں1000لوگوں کو اپنا روزگار متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ فاروق ڈار نے کہا کہ جنرل ٹریڈ سے وابستہ20ہزار سیلز مینوں کے علاوہ سیاحتی شعبے سے وابستہ30ہزار لوگوں کا بھی روزگار متاثر ہونے کا احتمال پیدا ہوگیا ہے۔انہوںنے کہا کہ پائور پروجیکٹوں،تعمیراتی کاموں اور ٹھیکیداری شعبے میں بھی20ہزار ہنر مند کاریگروں کو کورونا لاک ڈائون کا خمیازہ اٹھانا پڑرہا ہے جبکہحکام کی جانب سے رجسٹرڈ کئے گئے 3لاکھ 82ہزار مزدور ں کے علاوہ 1 لاکھ دیگر مزدوروں و محنت کشوں کا روزگار فی الوقت متاثر ہوگیا ہے۔انہوںنے کہاکہ سرکار کی جانب سے جامع پیکیج کے بغیر نہ ہی تجارتی شعبے کو بچایا جاسکتا ہے اور نا ہی روزگار کے متاثر ہونے کو بچایا جاسکتا ہے۔ فاروق ڈار نے کہا کہ سرکار کو چاہے کہ وہ اُن خاندانوں کی تلاش کریں جو روزانہ بنیادوں پر کماتے اور کھاتے ہیں۔انہوں نے سوالیہ انداز میںکہا کہ اس مشکل صورتحال میں وہ کیسے زندہ رہیں گے،اور وہ کس طرح اپنے بچوں کی کفالت کرسکتے ہیں؟
لاک ڈائون کو مرحلہ وار طریقے پر ختم کیا جائے: ٹریڈ الائنس
سرینگر// کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے ایک ماہ سے جاری کورونا کرفیو کے بیچ تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو چاہے کہ لاک ڈائون کو مرحلہ وار ختم کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیں۔ اعجاز شہدار نے کہا کہ29اپریل کو جموں کشمیر میں کورونا لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لانے کے بعد اب ایک ماہ سے لاک دائون جاری ہے،جس کے نتیجے میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں جہاں بند ہیںوہی ٹرانسپورٹ بھی غیر متحرک ہے۔ شہدار نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پہلے ہی تجارتی شعبے کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجر کسی بھی ایسے فیصلے کے حق میں نہیں ہے جس کے نتیجے میں موجودہ وباء بے قابو ہوجائے اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائے تاہم اب وقت آچکا ہے کہ سرکار طبی ماہرین اور اداروں کے ساتھ مشاورت کرکے لاک ڈائون کو مرحلہ وار ختم کرنے کے معاملے کو زیر غور لائے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے خاتمے کیلئے جس طرح ماضی میں تاجروں نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر انتظامیہ کو تعاون دیا،ایک بار پھر تاجر اس روایت کو جاری رکھے گے تاہم سرکار کو تاجروں کے مالی خسارے اور معاشی تنگ دستی کا بھی سوچنا چاہئے۔
کورونا کرفیو کا منفی پہلو:نائی طبقہ فاقہ کشی کا شکار | ہفتہ میں چند دنوں دکانیں کھولنے کی مانگ
سرینگر//یو این آئی// کورونا کی دوسری لہر کے قہر کو روکنے کے لئے نافذ کورونا کرفیو سے جہاں تمام تر تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں وہیں نائی طبقہ کے روزی روٹی کی سبیل بھی معطل ہے ۔وادی کشمیر میں بیشتر نائی غیر مقامی ہیں جن میں سے اکثر یہاں اپنے اہل وعیال کے ساتھ مقیم ہیں اور دکانیں چلاتے ہیں۔اترپردیش سے تعلق رکھنے والے مستقیم احمد نامی ایک نائی نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کورونا کرفیو سے ایک بار پھر نہ صرف ہمارے عیال کو فاقہ لگنے کا اندیشہ ہے بلکہ قرضے کا بوجھ پہاڑ کی صورت اختیار کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا: 'میں یہاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ آیا ہوں، ڈیرہ اور دکان کرایہ پر لیا ہے ، کام چل رہا تھا تو عیال کو پالتا تھا اور ڈیرے اور دکان کا کرایہ بھی ادا کر رہا تھا لیکن اب کام بند ہے ،عیال پالنے کی کوئی صورت نظر نہیں آر ہی ہے ، کرایہ ادا کرنے کی بات ہی نہیں ہے '۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف اخراجات گھر کی بھر پائی کے لئے دکانداروں کا قرضہ دوسرا ڈیرے اور دکان کے کرایے کا قرضہ بڑھ رہا ہے جس کا بوجھ اٹھانا نا ممکن ثابت ہو رہا ہے ۔بہار سے تعلق رکھنے والے ایک اور نائی محمد عامر نے کہا کہ تھوڑا بہت جو پیسہ بچا تھا وہ عیال پر خرچ ہو گیا اب میرا عیال مقامی دکانداروں کے رحم و کرم پر ہے ۔انہوں نے کہا: 'اگر دکانداروں نے ادھار دیا تو عیال کو پالنے کی سبیل ہوسکتی ہے لیکن اگر انہوں نے بند کیا تو فاقے لگنے طے ہیں رہی بات دکان اور ڈیرے کے کرایے کی، تو اس کا ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے '۔ اپنے مقامی ہمسائیوں کی جذبہ ہمدردی اور انسان دوستی کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'ہمارے مقامی ہمسائے بہت ہی نیک، فراخ دل اور انسان دوست ہیں، وہ روز ہمارے پاس آکر ہمیں غذائی اجناس اور مالی مدد کرنے کی پیش کش بھی کرتے ہیں'۔نائی برادری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں مالی مدد فراہم کرنے کے علاوہ ہفتے میں کچھ دن دکان کھلے رکھنے کی اجازت بھی دے ۔ ان کا کہنا ہے اگر ہمیں ہفتے میں کچھ دن دکان کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے گی تو اس طرح نہ صرف اپنے عیال کو پال سکیں گے بلکہ لوگوں کی خدمت بھی کرسکیں گے ۔
پرائمری ہیلتھ سنٹر بونیار | دانتوں کے مریضوں کیلئے مخصوص کرسیاں7سال سے خراب
اوڑی//ظفر اقبال//پرائمری ہیلتھ سنٹر بونیار میںدانتوں کے مریضوں کیلئے مخصوص خراب2کرسیاں7سال سے نہیں بدلی گئیں ۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر بونیار اوڑی میں7سال قبل وادی میں آئے سیلاب کی وجہ سے 2کرسیاں تباہ ہو گئی تھیں اور حکام نے ابھی تک ان کو تبدیل نہیں کیا جس کے سبب دانتوں کا علاج کرنے والے مریضوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسپتال میں تعینات ایک ملازم نے کہا کہ 2014میں آئے سیلاب میں یہ مخصوص کرسیاں خراب ہوگئیں جو ابھی تک کمرے میں جو ںکی توں پڑی ہیں جن کی قیمت قریب 5لاکھ روپے تھی۔مذکورہ ملازم نے کہا کہ بلاک میڈیکل آفیسر بونیار نے کئی بار چیف میڈیکل آفیسر بارہمولہ اور ڈپٹی کمشنر بارہمولہ کو بھی تحریری طور اس حوالے سے آگاہ کیا مگر ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ایک مقامی شہری ندیم احمد نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر بونیار میں ڈینٹل سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دانتوں کے مریضوں کو مجبوراً نجی کلنکوں یا پھر بارہمولہ یا سرینگر کے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہے۔چیف میڈیکل آفیسر بارہمولہ ڈاکٹر دیبا خان نے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ ڈائریکٹریٹ دفتر سے اٹھایا ہے اورکووڈ کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔ادھر بلاک میڈیکل آفیسر بونیار ڈاکٹر پرویز مسعودی نے کہا کہ یہ معالہ انہوں نے پہلے ہی ا علی حکام کی نوٹس میں لایا ہے اورامید ہے کہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ بونیار اوڑی کی قریب 85 ہزار آبادی علاج و معالجہ کیلئے پرائمری ہیلتھ سنٹر بونیار پر منحصر ہے۔میڈیکل بلاک بونیار میں 8 پرائمری ہیلتھ سنٹر کے علاوہ 28 سب سنٹرقائم ہیں۔
ضلع شوپیان کے مختلف علاقوں میں قوت مدافعت بخش اَدویات تقسیم
شوپیان//ضلع شوپیان میں آیوش ماہرین کی ایک ٹیم نوڈل آفیسر آیوش شوپیان ڈاکٹر عشرت احمد کی نگرانی میں تشکیل کی گئی ۔ آیوش استثنیٰ کو بڑھاوا دینے والی اَدویات ، بیداری کیمپ ،ضلع کے مختلف مقامات پر عام لوگوں میں استثنیٰ بوسٹر اَدویات اور ہیلتھ ٹونک / سپلی منٹری تقسیم کرتے ہیں۔ڈاکٹر عشرت نے کہا کہ کووِڈ۔19 وَبائی مرض کے پیش نظر رواں سال 17 ؍ اپریل سے 27؍ مئی تک ضلع شوپیاں کے بلاک کیلر ، شوپیان اور زین پورہ کی 6310 مریضوں کو قوت مدافعت بخش بوسٹر ادویات مل رہی ہیں۔ اِس موقعہ پر ڈاکٹر پرنس عاشق کی سربراہی میں ضلع شوپیان کے ماہرین آیوش نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننے، ہینڈ سینی ٹائزر کااستعمال کرنے ، صابن سے ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا۔۔اُنہوں نے عوام الناس کو ضلع انتظامیہ کے ساتھ تعاون دینے کو کہا اور انہو ں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ضلع کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے ہمیشہ پیش پیش ہے۔
باغ مالکان کو سہولیات بہم پہنچانا اولین ترجیح:ڈائریکٹر
سرینگر//ڈائریکٹر ہاٹی کلچر اعجاز احمد بٹ نے جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع کا دورہ کیا جس دوران وہاں پر محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ ڈائریکٹر نے اس موقع پر اخروٹ نرسری کی دیکھ ریکھ کرنے والے ملازمین کی زبردست سراہنا کی ۔انہوںنے زینہ پورہ شوپیاں میں ہاتھ میں لئے گئے کاموں کا بھی جائزہ لیا او رآفیسران سے بھی اس ضمن میں تفصیلات حاصل کی۔ انہوںنے زینہ پورہ نرسری کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر ملازمین اور انجینئرنگ کی اس بات پر سراہنا کی ہے کہ انہوںنے وہاں پر سینچائی کی خاطر سٹوریج ٹینک قائم کی ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نے ملازمین سے تلقین کی کہ وہ باغ مالکان او راس شعبے سے جڑے افراد کو مرکزی معاونت والی اسکیموں کے بارے میں جانکاری فراہم کریں۔ انہوںنے کہاکہ شعبہ ہاٹی کلچر سے جڑے لوگوں کو سہولیات بہم پہنچانے اور انہیں مختلف اسکیموں کے دائرے میں لانے کی خاطرمحکمہ دن رات کا م کر رہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سبھی اضلاع کے چیف ہاٹی کلچر افسران کو بھی سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ہیڈ کواٹر وںپر حاضر رہیں تاکہ ہاٹی کلچر سے وابستہ باغ مالکان کو فوائد حاصل ہو سکیں۔
بجلی ملازمین کاحفاظتی پوشاکیں اورلازمی ساز و سامان فراہم کرنے کا مطالبہ
سرینگر// محکمہ بجلی کے ملازمین نے کورونا سے محفوظ رہنے کیلئے ضروری ساز و سامان کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف خود اپنی بلکہ اپنے اہل و عیال کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالکرصارفین تک بجلی سپلائی پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سلسلے میںالیکٹریکل ایمپلائز یونین کے صدر مشتاق احمد نجار نے کہا کہ موجودہ صورتحال میںجب ہر کوئی فرد گھرمیں رہنے کو ہی ترجیج دے رہا ہے محکمہ بجلی کے ملازمین صف اول پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جہاں بجلی ملازمین اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں، وہیں محکمہ یا انتظامیہ کی جانب سے انہیں اس وبا سے بچنے کیلئے حفاظتی ساز و سامان میسر نہیںہے۔انہوں نے کہاکہ ملازمین کو حفاظتی پوشاک،ماسک یا سینی ٹائزر فراہم نہیںکئے جارہے ہیں ۔نجار کا کہنا تھا کہ محکمہ کے ملازمین جن میں ڈیلی ویجر اور کیجول لیبر بھی شامل ہیں، مصیبت کی اس گڑی میںشانہ بہ شانہ محکمہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کرفیو کے نتیجے میں بھی بجلی ملازمین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سینکڑوں ملازمین پیدل سفر کر کرکے ڈیوٹی دیتے ہیںلیکن محکمہ کی جانب سے انہیں کرفیو پاس بھی فراہم نہیںکئے جا رہے ہیں اورنہ ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔یونین صدر نے لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی پوشاک اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا جائے۔
اوڑی میں ٹریجری افسر کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان
ظفر اقبال
اوڑی//اوڑی میں ٹریجری افسر کی مبینہ طور ڈیوٹی سے غیر حاضررہنے کے نتیجے میںلوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ میونسپل کمیٹی اوڑی کی فیملی پنشن ہولڈربیوائوں نے بتایا کہ ان کی پنشن گزشتہ تین ماہ سے ا لتوا میںہے۔انہوں نے کہا کہ کئی بار ٹریجری دفتر اوڑی کا چکر کاٹنے کے باوجود بھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے اور دفتر میں تعینات ملازمین یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ جلدی پنشن وگزار کی جائی گی۔انہوںنے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ڈائریکٹر اکائونٹس و ٹریجریز کشمیر شاہین محمد اشرف نے بتایا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور بہت جلد مسئلہ حل ہوجائے گا۔
صحرائی کے کورونا متاثرہ بیٹوں کی رہائی کا حریت کا مطالبہ
سرینگر//حریت کانفرنس نے تحریک حریت کے سابق چیئرمین مرحوم محمد اشر ف صحرائی کے دونوںفرزندوں مجاہد اشرف صحرائی اور رشید اشرف صحرائی جنہیں حال ہی میںگرفتار کیا گیا۔ صحرائی کے دونوں فرزند جیل میں کوروناسے شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔بیان میں حریت نے مروم صحرائی کے فرزندوں کی صحت و سلامتی پر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر انکی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔بیان میں عالمگیر وبا کے پیش نظر حکام سے اپیل کی ہے کہ ان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور نظر بندوں کو رہا کیا جائے جو جموںوکشمیر سمیت بھارت کی مختلف جیلوں میں بندہیں ۔
اشتیاق بیگ کو نگوا کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد
سرینگر//جموں کشمیر میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن صدر، ایجیک کے سینئر لیڈر سشیل سودن، فشریز ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر اور گورنمنٹ ایمپلائز کانفرنس کے جنرل سیکریٹری خالد محمود نے اشتیاق بیگ کو نگوا کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے ۔ سشیل سودن بالی فارمیسی کونسل آف انڈیا کے ممبر بھی ہیںجبکہ جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کے صوبائی عہدہ بھی سنھالے ہوئے ہیں۔ ا نہوںنے کہاکہ اشتیاق بیگ ایک ایماندار اور ملازم دوست لیڈر ہیں جنہوںنے اپنی قیادت میں نگوا ملازمین کے بہت سارے مسائل حل کروائے خاص کر سکمز کے سینکڑوں ملازمین کو ترقیوں سے نوازا گیا ۔
نیشنل کانفرنس کا اظہارِ تعزیت
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے دیرینہ رکن عبدالرحمن ساکن ملہ پورہ نروہ بارہمولہ کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی۔ پارٹی کے نائب صڈر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، صدرِ ضلع بارہمولہ جاوید احمد ڈار نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ضلع سیکریٹری غلام حسن راہی نے مرحوم کے گھر جاکر تعزیت کی ۔
ماگام میںشہری گرفتار | نشیی اشیاء کی بھاری کھیپ اور نقدی برآمد
سرینگر//بڈگام میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے ممنوعہ نشیلی ادویات کی بڑی مقدار اور نقدی12900روپے برآمد کئے ۔ ماگام تھانہ نے ماز ہامہ ریلوے کراسنگ کے قریب قائم ناکہ پرایک مشکوک شخص کو رکنے کا اشارہ کیاجس پر مشتبہ شخص نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ناکہ پر پولیس پارٹی نے اسے پکڑ کر تلاشی لی۔ جس کی شناخت مظفر احمد ڈار ساکن کنی ہامہ ماگام کے نام سے ہوئی ہے۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے4کوڈین فاسفیٹ کی بوتلیں ،144نشیلی ٹیکیہ اورنقد رقم12900روپے برآمد کئے۔ اسے گرفتار کرکے تھانہ ماگام منتقل کردیا گیا۔اس سلسلے میں ماگام تھانہ میںایف آئی آر نمبر104/2021کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔تفتیش کے دوران گرفتار کئے گئے شخص نے زبیر احمد میر اورسرجیل میر ساکنان گلوان پورہ مازہامہ کے احاطے میں خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں انکشاف کیا۔ پولیس نے وہاں چھاپہ مار کر10128نشیلی ٹیکیہ سمیت ممنوعہ مادہ کی بھاری مقدار برآمدکی۔ دونوں ملزمان اس وقت گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہیں۔
گاندربل اور بڈگام میں5قمارباز گرفتار،8800روپے ضبط
سرینگر//گاندربل اور بڈگام میں پولیس نے 5قماربازگرفتار کرکے 8800روپئے ضبط کئے۔پولیس پوسٹ شادی پورہ کو ایک مصدقہ اطلاع ملنے پرلٹی آتکھو رہ علاقے میں قماربازی کے ایک اڈے پر چھاپہ مار کر محمدحنیف گرو ساکن لٹی اتھکھورہ اور نذیر احمد ڈارساکن لیٹی گوند روشن گاندربل کو گرفتار کر کے داوپر لگائے گئے 3300روپے اور تاش کے پتے ضبط کرلئے۔پولیس نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر86/2021کے تحت گاندربل تھانہ میں کیس درج کیا ہے۔اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں کھاگ تھانہ نے ہردو سورش کھاگ علاقے میں قماربازی کے اڈے پر چھاپہ مار کر عبد الستار شیخ ، غلام محمد شیخ اور محمد یاسین صوفی ساکنان پیٹھ شرن کھا گ کو گرفتار کر کے داو پر لگائے گئے 5500 روپے اور تاش کے پتے ضبط کرلئے۔پولیس نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر زیر نمبر38/2021کھاگ تھانہ میں درج کیا ہے۔
آن لائن تعزیتی اجلاس میںماہر تعلیم ڈاکٹر ممتاز احمد کو خراج تحسین
سرینگر//جموں و کشمیر پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن نے جے کے ایجوکیشن کونسل اور زراعت ٹائمز کے اشتراک سے ایجوکیشنل سوسائٹی کے بانی ڈاکٹر ممتاز احمد خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آن لائن اجلاس میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے انتقال پر تعزیت کی گئی ۔ موصوف کا انتقال جمعرات کو بنگلورو میں ہوا ۔ اس میٹنگ میںورچول موڈ کے ذریعے کشمیر بنگلور ، اور ہندوستان کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے معززین نے شرکت کی ۔ لکھنو سے شفیع اللہ نے پروگرام میں شرکت کی۔ مقررین نے مسلم معاشرے کی ترقی کے سلسلے میں ڈاکٹر ممتاز احمد کے تعاون پر روشنی ڈالی۔
مفتی محمد یعقوب بابا المدنی کے ساتھ تعزیت پرسی کا سلسلہ جاری
سرینگر//جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر کے مفتی عام مولانا محمد یعقوب بابا المدنی کے والد کے انتقال کے تعلق سے مختلف اعلیٰ سطحی وفود اور مقتدر شخصیات کا مولانا سے تعزیت کا اظہار کرنے کے لیے ان کے گھر آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ متحدہ مجلسِ علماء نے بطورِ خاص مرحوم کی بلند درجات کیلئے دعاکی اور مجلس کے وفد نے شریک غم ہونے کا اظہار کیا۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے اپنے ٹیلی خطاب میں مرحوم کے اوصاف عالیہ کو سراہتے ہوئے مفتی یعقوب کو اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا ۔مفتی نذیر احمد نے ٹیلی تاثرات میںمرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلئے دعا کی۔ مفتی عبدالرشید نے بہ نفس نفیس تشریف لاکر موت و حیات اور فقید کے تعلق سے مختصر مگر پر مغز گفتگو کی۔ بزم توحید کے وفد نے بھی سوگواران کی ڈھارس بندھائی ۔ریاست کی مقتدر علمی، دینی، فلاحی، سماجی، صحافتی، تجارتی تنظیموں کے اعلی سطحی وفود اور نامور علماء و فضلاء نے راجوری کدل آکر مفتی یعقوب کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرتے ہوئے فقید کی پروقار زندگی کے کئی گوشوں کو اجاگر کیا۔ جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر سے منسلک سینکڑوں علماء و فضلاء، اس کے تعلیمی اداروں کے طلاب و اساتذہ اور اوپر سے لے کر نچلی سطح تک کی اکائیوں تک کے منصب داروں، سینکڑوں مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داروں، ائمہ و خطباء حضرات نے بھی اس رنج والم کے موقع پر مفتی یعقوب سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کی دعاکی۔