ایک طرف درختوں کو کاٹ کاٹ کر شہروں کے شہر ’’ کنکریٹ کے جنگلات‘‘ میں بدلے جا رہے ہیں تو دوسری طرف آکسیجن کے ذرائع دن بدن محدود ہو رہے ہیں، یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ کا سونامی تیزی سے کرہ ٔارض کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔
ابھی کچھ دن پہلے ٹی وی چینل تبدیل کرتے کرتے ایک چینل پر آ کر میرے ہاتھ رُک گئے۔یہ ایک غیر ملکی ٹی وی چینل تھا، شاید جرمنی کا تھا۔ میرے سامنے سکرین پر کوئی کانفرنس نما مذاکرہ چل رہا تھا، جس میں شریک ایک مقررپُرجوش لیکن انتہائی مدلل انداز میں تقریر کر رہا تھا اور خطابت کی اس خوبی نے ہی میرے ہاتھ چینل بدلنے سے روک رکھے تھے۔ اس مقرر کے الفاظ کچھ یوں تھے:
’’ خدا کیلئے کنکریٹ کے ان تیزی سے بڑھتے جنگلات کو پھیلنے سے روکیں ،اپنے لئے،اپنے خاندانوں کیلئے اور آنے والی نسلوں کے لئے۔ اور میں یہ کہنے میں ذرا برابر بھی نہیں ہچکچاؤں گا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں، جب آنے والی نسلیں ہمارے اِس’’ جرم‘‘ کو کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔اللہ نے یہ زمین سونا اُگلنے کیلئے بنائی ہے ،اس زمین میں اناج ، پھل اور قیمتی دھاتیں جا بجا پوشیدہ ہیں اور پھر اس سے بھی غور طلب بات یہ ہے کہ اس دھرتی پر صرف انسانوں کا ہی حق نہیں ہے بلکہ چرند و پرند ،چوپائے اور دوسرے اَن گنت حشرات العرض کا بھی اس زمین پر برابر کا حق ہے ،جسے انسان نے’’ کنکریٹ کے جنگلوں ‘‘میں بدل کر دوسری مخلوقات کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔
کبھی سوچا آپ نے کہ قدرت صحراؤں، بیابانوں میں سبزہ اور درخت کیوں پیدا کرتی ہے ؟ شاید اس لئے کہ قدرت کو اپنی دیگر مخلوقات جو انسانوں کے علاوہ بھی جا بجا پھیلی ہوئی ہیں ،ان کے رہن سہن اور رزق کا ذریعہ پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جی ہاں!لیکن اس سے بھی اہم یہ کہ اس کرہ ٔارض پر آکسیجن جو دراصل انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ،کے تناسب کو بیلنس کرنا مقصود ہوتا ہے۔ لیکن اس کرۂ ارض پر پھیلے بنی نو ع انسان کے ساتھ کتنا ظلم جاری ہے کہ ایک طرف درختوں کو کاٹ کاٹ کر شہروں کے شہر ’’ کنکریٹ کے جنگلات‘‘ میں بدلے جا رہے ہیں تو دوسری طرف آکسیجن کے ذرائع دن بدن محدود ہو رہے ہیں اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ کا سونامی تیزی سے کرہ ٔارض کو غیر مستحکم کررہا ہے‘‘۔
یہ تقریر جس کا ایک ایک لفظ نہ صرف حقیقت پر مبنی تھا بلکہ ہمارے لئے ایک وارننگ بھی تھی۔ چونکہ مذکورہ مقرر نے گلوبل وارمنگ کو آنے والا سونامی قرار دیا ہے تواس حوالے سے میں یہاں کوشش کروں گا کہ اپنے قارئین کو بتاؤں کہ گلوبل وارمنگ دراصل ہے کیا؟
اس کرۂ ارض کی آب و ہوا میں مسلسل بڑھتا اوسط درجۂ حرارت گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے۔ جغرافیائی ماہرین کے مطابق کرہء ارض میں مختلف نوعیت کی گیسیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرو آکسائیڈ ، میتھین اور سلفر ہیں ، ’’گرین ہاؤس گیسز‘‘کہلاتی ہیں،جن کے اخراج سے فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی بڑی وجہ ہے۔ان گیسز کی موجودگی کے باعث سورج کی کرنیں زمین سے ٹکرانے کے بعد واپس خلاء میں نہیں جا سکتیں، جس کے باعث فضاء کا درجہ ٔ حرارت بڑھتا رہتا ہے نتیجتاً اس سے زمین کے درجہ ٔحرارت میں بھی اضافہ ہونا ایک قدرتی عمل ہے، اس عمل کو سائنسی طور پر ’’ گرین ہاؤس افیکٹ ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اضافہ دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ صنعتی ترقی میں اضافہ کے بعد زیادہ شدت اختیار کرتا چلا گیا۔ مثال کے طور پر1750ء کے صنعتی انقلاب کے بعد سے اب تک ماحولیاتی حدت میں 141فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے کی وجوہات :
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہے، جس کے سبب کرۂ ارض کا درجہ حرارت مسلسل اضافے کی جانب رواں دواں ہے؟کون نہیں جانتا کہ ایندھن ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔چنانچہ جب ہم تیل،کوئلہ یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس گیس کا نصف حصہ فضا میں رہ جاتا ہےجبکہ باقی حصہ پودے، درخت زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اگر درختوں کی کمی لاحق ہو گی یا سرے سے درخت موجود ہی نہ ہوں گے تو کاربن ڈائی آکسائڈ جذب ہونے سے رہ جائے گی، جس کے سبب یہ فضائی آلودگی کا روپ دھار لیتی ہے۔
اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ آکسیجن بنی نوع انسان ہی نہیں تمام جانداروں کے لئے ناگزیر ہے۔اب جب ہوس انسان نے درختوں کو کاٹ کاٹ کر شہر شہر قریہ قریہ کو’’ کنکریٹ کے جنگلوں ‘‘ میں بدلنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کے ذرائع محدود ہو کے رہ گئے ہیں۔ اور یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس کے سبب درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔وہ یوں کہ آکسیجن کے تین ایٹم ملا کر اوزون گیس بناتے ہیں۔یہ گیس کرہ ارض کی بیرونی فضا میں زمین سے لگ بھگ 12 کلومیٹر سے لیکر 48 کلومیٹر تک جمع ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اوزون ہی وہ مؤثر ذریعہ ہے جو سورج سے آنے والی مضر شعاعوں کو زمین کی طرف بڑھنے سے روکتا ہے۔
چنانچہ اس گیس کی قلت یا کم یابی کے سبب فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔جو درجۂ حرارت بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس سلسلے میں دنیا میں چھڑی جنگوں کا کرداربھی نمایاں وجہ ہے۔ امریکہ سمیت مختلف ممالک کی طرف سے ایٹمی اسلحے کے استعمال سے ایٹمی تابکاری میں اضافہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ،جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔یہاں دوسری جنگ عظیم کا ذکر بے محل نہ ہو گا ،جس کا اختتام ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی تباہی کی شکل میں ہوا۔ امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کر کے ایٹمی تابکاری سے فضائی آلودگی میں اس قدر اضافہ کر دیا تھا کہ برسوں ان شہروں میں اپاہج بچے پیدا ہوتے رہے بلکہ ابھی بھی اس کے منفی اثرات کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔
ناسا کے ادارے کے مطابق آتش فشانی بھی گلوبل وارمنگ کی ایک وجہ ہے، اس کیساتھ ساتھ ایک اور بڑی وجہ زمین اور سمندروں کی تہہ میں چھپے وہ بے دریغ قدرتی وسائل ہیں جو معدنیات اور تیل وغیرہ کی شکل میں کروڑوں سالوں سے انسان کی آنکھ سے مخفی رہے۔ لیکن اب پچھلی چند دہائیوں سے ان وسائل کی دریافت اور بے دریغ استعمال فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ کی ایک اور وجہ مختلف انسانی سرگرمیاں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ چونکہ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں، اس لئے درختوں کے بے دردانہ قتل کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک فارمنگ بھی کسی حد تک میتھین گیس کے باعث گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہی ہے۔ اسی طرح ماہرین کے مطابق فصلوں میں نائٹروجن کھاد کا استعمال بھی گلوبل وارمنگ میں اضافہ کا سبب ہے۔اب تو دنیا بھر کے ماہرین باآواز بلند چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ’’گلوبل وارمنگ اس صدی میں لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘‘
اثرات :
گلوبل وارمنگ کی وجہ سے زراعت کے شعبے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب جیسے گرمیوں میں سخت گرمی ، سردیوں میں دھند اور سموگ،خشک علاقوں میں بارشیں اور بارش والے علاقوں میں خشک سالی جیسی تبدیلیاں زراعت کیلئے نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ گلوبل وارمنگ انسانوں اور جانوروں میں مختلف قسم کی بیماریاں بھی پیدا کر رہی ہے۔صرف اسی پر ہی بس نہیں کہیں بے وقت اور کہیں سرے سے بارشوں کا نہ ہونا بھی زراعت پیشہ طبقے کیلئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔جبکہ اکثر علاقوں میں کثرت سے ہوتی بارشیں سیلاب کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔ لیکن ماہرین اس سے بھی زیادہ زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کو مستقبل کا خطرہ قرار دے رہے ہیں جو گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے نیچے ہوتی جا رہی ہے۔
آج کل ہر کچھ عرصے بعد دنیا کے مختلف علاقوں سے جنگلات میں آگ لگنے کی خبریں آتی رہتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ہی درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہے۔جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ ہو جاتاہے تو دوسری طرف جنگلوں میں بسی جنگلی حیات متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔گلوبل وارمنگ کے سبب عالمی طور پر گلیئشیرز پگھل کر ایک طرف سطح سمندر کو بلند کرتے آرہے ہیں تو دوسری طرف سیلاب کے خطرات میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
یہ اور کچھ دیگر عوامل ایسے ہیں ،جنکی وجہ سے عالمی طور پر درجہ حرارت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہو رہاہے۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک عالمی ادارے کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آنے والے30 سالوں میں دنیا شدید گرمی کی لپیٹ میں ہوگی۔جس میں گرم ممالک تو متاثر ہونگے ہی سرد ممالک بھی گرمی کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ اس تحقیق میں خلیج فارس کاذکر بطور خاص کیا گیا ہے جہاں گیسوں کی موجودگی سے گرمی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گی۔اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران ،عراق، سعودی عرب ، دبئی کے علاوہ پڑوسی ممالک میں اس قدر شدید گرمی ہو گی کہ چھ گھنٹے کا درجۂ حرارت 60 سے 74 سنٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
برصغیربھی گلوبل وارمنگ کی زد میں :
برصغیر کے ممالک ہندوستان اورپاکستان میں شروع سے بدقسمتی آڑے رہی ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے اس مسئلے کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ان ملکوں میں موسمی تبدیلیوں کے مہلک اثرات بارے بین الاقوامی برادری بار بار مطلع کرتی رہی ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے 1989 ء سے پاکستان کو نہ صرف تیزی سے بدلتی صورت حال سے خبردار کر رکھا تھا بلکہ اقوام متحدہ نے تو تین عشرے پہلے ہی اُسےان ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جوسمندروں میں پانی کی بلند ہوتی سطح کے باعث خطرے سے دوچار ہیں۔ ماحول کے حوالے سےاس ملک اسوقت دیگر ممالک کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ابھی چند ماہ پہلے ایک بڑے شہر کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قراردیا گیا تھا۔ہمارے ہاں ماحول کی آلودگی اور گلوبل وارمنگ میں جہاں قدرتی عوامل کا دخل ہے ،اس سے کہیں زیادہ ہمارااپنا عمل دخل بھی ہے۔
ہماری سڑکوں پر ناقص پٹرول کے باعث نکلتا زہریلا دھواں بڑی آلودگی کا سبب ہے۔لیکن ان سب سے زیادہ خطرناک عمل درختوں کی کثرت سے ہوتی کٹائی ہے ،جسے بے ہنگم بڑھتی آبادی کے سبب رہائشی کالونیوں میں تیزی سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ایک طرف بڑھتی آبادی فضائی آلودگی کا باعث بن رہی ہے تو دوسری جانب بنی نو انسان آکسیجن جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی طور پر پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ دس سر فہرست ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ ابھی حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بنک نےاس کو عالمی اوسط درجے سے کہیں زیادہ گرمی پڑنے کے خطرے سے خبر دار کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر اس ملک میں کاربن کے اخراج کی یہی صورت حال برقرار رہی تو اگلی چند دہائیوں تک وہاں کے درجہ حرارت میں 4.9 ڈگری سنٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ چونکہ قطب شمالی اور جنوبی کے بعد سب سے زیادہ گلیشئرز رکھنے والا ملک ہے، جہاں حال ہی میں معمول سے ہٹ کر گلیشئیرز پگھلنے کی وجہ سے ایک طرف تو سطح سمندر بلند ہوئی جبکہ دوسری طرف شمالی علاقہ جات میں پانی کے اچانک خلاف معمول بہاؤ کے سبب آمدورفت کے کچھ مسائل بھی کھڑے ہو گئے تھے۔ ان علاقوں میں کثرت سے ہوتی لینڈ سلائیڈنگ کو بھی نظر اندازنہیں کیاجا سکتا جو موسمی تبدیلیوں کے سبب آئے دن کا معمول بن چکا ہے۔
اگر ہم مندرجہ ذیل نقاط پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تو گلوبل وارمنگ کے اس ’’ سونامی ‘‘کو بہت حد تک کم کر سکتے ہیں۔عالمی معیار کے مطابق کسی بھی خطے کے کل رقبے کا 25 فیصد جنگلات کیلئے مختص ہونا چاہئے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں کے کل رقبے کے3 فیصد کے لگ بھگ جنگلات تھے جو بڑھنے کی بجائے کم ہوتے ہوتے اب ایک فیصد رقبے کے برابر رہ گئے ہیں جو یقینا ہم سب کیلئے لمحہء فکریہ ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پرزیادہ سے زیادہ نئے درخت لگائے جائیں اور پہلے سے لگے درختوں کی حفاظت کی جائے۔ ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عالمی درجۂ حرارت کم کرنے میں درخت ہی سب سے مؤثر کردار ادا کرتے ہیں ۔ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں سے 64 فیصد اخراج انسانی سرگرمیوں کے باعث ہے۔
موسمی اثرات کو کم کرنے کیلئے قابل تجدید توانائیوں کو رواج دینا چاہئے۔ آب پاشی کیلئے شمسی توانائی ہی پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔الیکٹرک گاڑیاں دور حاضر میں فیول کے مقابلے میں بہترین ماحول دوست ثابت ہو سکتی ہیں۔ائیر کنڈیشنرز کا استعمال محدود کیا جائے۔ اے سی اور ریفریجریٹربھی مضر صحت گیسیں خارج کرتے ہیں۔زراعت میں کیمیائی کھادوں کی جگہ قدرتی کھاد کے استعمال کوترجیح دینا چاہئے۔