سرینگر //کشمیر کی متعدد شاہرائوں پر بیت الخلائوں کی عدم موجودگی مسافروں کیلئے کسی بڑی پریشانی سے کم نہیں ہے اور لوگ کھلے میں حاجت بشری رفع کرنے پر مجبور ہیں جس سے ہر سو غفونت پھیل رہی ہے ۔جہاں سرکار ماحول کو غفونت سے پاک رکھنے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہیں وہیں کشمیر کی مختلف شاہرائوں پر آئے روزمسافروں کو کھلے کھیتوں اور جھاڑیوں کے پیچھے دیکھا جاتا ہے اور حکام اس سنگین مسئلہ کی جانب دھیان دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔سال 2010ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سینی ٹیشن اور پانی کو ’انسان کا بنیادی حق‘ قرار دیتے ہوئے ہر سال 19نومبر کو ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منانے کا اعلان کیا تھا۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کی حکومتوں اور اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ہے کہ وہ لوگوں کو صفائی اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔اسی کڑی کے تحت بھارت بھر میں سوچھ بھارت ابھیان بھی شروع کیا گیا ،سوچھ بھارت مشن کے تحت جموں وکشمیر کو سال2019میں اوڈی ایف (اوپن ڈیفیکیشن فری )کا درجہ دیا گیا تاہم زمینی سطح پر حالت یہ ہے کہ دیہات میں کئی جگہوں پر بیت الخلاء بنائے ہی نہیں گئے جبکہ کئی جگہوں پر بیت الخلاء کسی کام کے ہی نہیں رہے ہیںاور کئی جگہوں پر بنا کر اکھاڑ دیئے گئے ، چلو گائوں دیہات میں تو کسی حد تک صورتحال بہتر ہے لیکن شاہرائوں پر جہاں ان کی اشد ضرورت تھی وہاں پر بھی ان کا کہیں دور دور تک نام نشان نہیں ہے ۔سرینگر بارہمولہ ، بارہمولہ اوڑی ، سرینگر بانڈی پورہ ،بانڈی پورہ گریز ، سوپور کپوارہ ، کرناہ کپوارہ ، سرینگر اننت ناگ شوپیاں ، کولگام ، پلوامہ شاہرائوں پر اِکا دُکا ہی بیت الخلاء کہیں کہیں تعمیر ہیں جہاں تک مسافروں کو پہنچنے میں کافی دقتیں پیش آتی ہیں ۔ بیرون ممالک اور ملک کی متعدد ریاستوں میں شاہرائوں پر ہر پانچ کلو میٹر کے فاصلہ پر بیت الخلاء موجود ہیں لیکن یہاں 20کلو میٹر کے فاصلہ پر بھی کہیں ان کا نام نشان دور دور تک نہیں دکھائی دیتا ۔مسافروں کو مجبوراً شاہرائوں پر قائم پٹرول پمپوں پر موجود بیت الخلائوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کبھی کبھار انہیں وہاں پر بھی ان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔سرکار نے گذشتہ سال منصوبہ بنایا تھا کہ ہر ایک شاہراہ پر مسافروں کیلئے بیت الخلاء تعمیر کرائے جائیں گئے جہاں ایک تو محکمہ کو ان سے فائدہ ہو گا، وہیں مسافروں کو بھی راحت ملے گئی لیکن اس سنگین معاملہ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی اورحکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیںہو رہا ہے ۔کئی ایک مسافروں نے بتایا کہ قصبہ جات میں کئی جگہوں پر بیت الخلاء تعمیر ہیں، لیکن شاہرائوں پر جہاں ان کی اشد ضرورت ہے ،وہاں پر کہیں پر بھی ان کا نام ونشان نہیں ہے اور مسافروں کیلئے کھلے میں حاجت بشری رفع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز کشمیر مطہرہ معصوم نے بتایا کہ بہت سی جگہوں پر بیت الخلائوں کی تعمیر ہوئی ہے جو کام کررہے ہیں اور محکمہ نے مزید بیت الخلائوں کی تعمیر کیلئے تجویز بھی حکام کو بھیجی ہے اور جہاں کہیں بھی اس کی ضرورت ہوگی وہاں ان کی تعمیر شروع کی جائے گی ۔انہوں نے مسافروں سے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ کہیں پر ان کی ضرورت ہے تو وہ محکمہ کے ساتھ رابطہ کریں وہاں انہیں تعمیرکیاجائے گا ۔
سوچھ بھارت مشن | ماحول کو غفونت سے پاک رکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا
سوچھ بھارت مشن |
ماحول کو غفونت سے پاک رکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا
شاہراوں پر بیت الخلاوں کی عدم موجودگی مسافروں کیلئے اذیت ناک
اشفاق سعید
سرینگر //کشمیر کی متعدد شاہرائوں پر بیت الخلائوں کی عدم موجودگی مسافروں کیلئے کسی بڑی پریشانی سے کم نہیں ہے اور لوگ کھلے میں حاجت بشری رفع کرنے پر مجبور ہیں جس سے ہر سو غفونت پھیل رہی ہے ۔جہاں سرکار ماحول کو غفونت سے پاک رکھنے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہیں وہیں کشمیر کی مختلف شاہرائوں پر آئے روزمسافروں کو کھلے کھیتوں اور جھاڑیوں کے پیچھے دیکھا جاتا ہے اور حکام اس سنگین مسئلہ کی جانب دھیان دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔سال 2010ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سینی ٹیشن اور پانی کو ’انسان کا بنیادی حق‘ قرار دیتے ہوئے ہر سال 19نومبر کو ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منانے کا اعلان کیا تھا۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کی حکومتوں اور اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ہے کہ وہ لوگوں کو صفائی اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔اسی کڑی کے تحت بھارت بھر میں سوچھ بھارت ابھیان بھی شروع کیا گیا ،سوچھ بھارت مشن کے تحت جموں وکشمیر کو سال2019میں اوڈی ایف (اوپن ڈیفیکیشن فری )کا درجہ دیا گیا تاہم زمینی سطح پر حالت یہ ہے کہ دیہات میں کئی جگہوں پر بیت الخلاء بنائے ہی نہیں گئے جبکہ کئی جگہوں پر بیت الخلاء کسی کام کے ہی نہیں رہے ہیںاور کئی جگہوں پر بنا کر اکھاڑ دیئے گئے ، چلو گائوں دیہات میں تو کسی حد تک صورتحال بہتر ہے لیکن شاہرائوں پر جہاں ان کی اشد ضرورت تھی وہاں پر بھی ان کا کہیں دور دور تک نام نشان نہیں ہے ۔سرینگر بارہمولہ ، بارہمولہ اوڑی ، سرینگر بانڈی پورہ ،بانڈی پورہ گریز ، سوپور کپوارہ ، کرناہ کپوارہ ، سرینگر اننت ناگ شوپیاں ، کولگام ، پلوامہ شاہرائوں پر اِکا دُکا ہی بیت الخلاء کہیں کہیں تعمیر ہیں جہاں تک مسافروں کو پہنچنے میں کافی دقتیں پیش آتی ہیں ۔ بیرون ممالک اور ملک کی متعدد ریاستوں میں شاہرائوں پر ہر پانچ کلو میٹر کے فاصلہ پر بیت الخلاء موجود ہیں لیکن یہاں 20کلو میٹر کے فاصلہ پر بھی کہیں ان کا نام نشان دور دور تک نہیں دکھائی دیتا ۔مسافروں کو مجبوراً شاہرائوں پر قائم پٹرول پمپوں پر موجود بیت الخلائوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کبھی کبھار انہیں وہاں پر بھی ان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔سرکار نے گذشتہ سال منصوبہ بنایا تھا کہ ہر ایک شاہراہ پر مسافروں کیلئے بیت الخلاء تعمیر کرائے جائیں گئے جہاں ایک تو محکمہ کو ان سے فائدہ ہو گا، وہیں مسافروں کو بھی راحت ملے گئی لیکن اس سنگین معاملہ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی اورحکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیںہو رہا ہے ۔کئی ایک مسافروں نے بتایا کہ قصبہ جات میں کئی جگہوں پر بیت الخلاء تعمیر ہیں، لیکن شاہرائوں پر جہاں ان کی اشد ضرورت ہے ،وہاں پر کہیں پر بھی ان کا نام ونشان نہیں ہے اور مسافروں کیلئے کھلے میں حاجت بشری رفع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز کشمیر مطہرہ معصوم نے بتایا کہ بہت سی جگہوں پر بیت الخلائوں کی تعمیر ہوئی ہے جو کام کررہے ہیں اور محکمہ نے مزید بیت الخلائوں کی تعمیر کیلئے تجویز بھی حکام کو بھیجی ہے اور جہاں کہیں بھی اس کی ضرورت ہوگی وہاں ان کی تعمیر شروع کی جائے گی ۔انہوں نے مسافروں سے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ کہیں پر ان کی ضرورت ہے تو وہ محکمہ کے ساتھ رابطہ کریں وہاں انہیں تعمیرکیاجائے گا ۔
Leave a Comment