کچھ خاص دن عالمی سطح پر یا ملکی سطح پر بڑے ہی تزک و اہتمام سے منائے جاتے ہیں۔ جس میں ہم بلاشبہ یوم جمہوریہ، یوم آزادی، بچوں کا دن وغیرہ۔
۵؍ستمبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے سابق صدرجمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن ۵؍ستمبر ۱۸۸۸ء کو سروپلی ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے۔ رادھا کرشنن پیشے سے مدرس تھے اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ملک کے سب سے اعلیٰ او رپُروقار عہدے پر پہنچے تھے۔ اس لیے ان کی یوم پیدائش پر یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اساتذہ کا دن مخصوص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اساتذہ،والدین کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔
محترم قارئین! سکندر اعظم سے لے کر نوبل انعام پانے والے سائنس داں عبدالسلام نے اپنی ترقی کا سہرا اُستاد کے سر باندھا تھا۔ سکندر اعظم کا اقول ہے کہ میرے والدین نے مجھے زمین پر لایا اور میرے اُستاد نے مجھے آسمان کی بلندی تک پہنچایا۔ عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے اُستاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا کہ کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ انعام نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حق دار نہ بنتا۔ میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت اس ایک روپئے سے بھی کم ہے۔
اُستاد اپنے طلبہ کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر علم کی روشنی عطا کرتے ہیں۔ زندگی گزارنے کا سلیقہ، گفتگو اور رہن سہن کا طریقہ سکھاتے ہیں۔ اس لیے جس طرح ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کرتے ہیں۔ ان کی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ اُسی طرح اُستاد کا بھی ادب و احترام کریں۔ ان سے علم سیکھیں اور اُس پر عمل کریں۔
فی زمانہ کرونا وائرس کے خطرناک عفریت سے نبرد آزما ہیں ایسے حالات میں ہمارے اساتذۂ کرام اسکول و کالج جارہے ہیں اور آن لائن تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں پر دستک دے رہے ہیں۔ مزید یہ گذشتہ سال ۲۰۲۰ء میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور اپنی خدمات بھی پیش کیں۔
اُستاد کی عظمت اور احترام کی بے شمار مثالیں تاریخ کے اوراق میںدرج ہیں۔ آئیے آج کے دن ہم اور آپ یہ کوشش کریں کہ ہماری شاگردی بھی تاریخ بن جائے۔ اپنے اُستاد کے لیے اس سے بڑا تحفہ اور کیا ہوسکتا ہے۔
اُستاد کے لیے ایک قطعہ ؎
نونہالوں کو قندیل حرم دیتا ہے
دستِ معصوم کو لوح و قلم دیتا ہے
بانٹتا پھرتا ہے روشنی سورج کی طرح
ڈوبتا ہے تو ستاروں کو جنم دیتا ہے