پانی نہ صرف حیاتِ انسانی بلکہ کرئہ ارض پر موجود ہر ذی روح کیلئے کلیدی اہمیت کی حامل شے ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اس قیمتی شے کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔وادی ٔکشمیر میں بے پناہ آبی ذخائر ہونے کے باوجود آئے روز اخبارات میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں اورفی الوقت متعدد علاقوں میںعوام کو جن مسائل کاسامنا ہے، صاف پانی کا فقدان ان میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال رہی تومستقبل میںحالات سنگین رخ اختیار کرسکتے ہیں۔
حکومتیں،سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور عوامی نمائندے اپنی جگہ لیکن کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی ہے کہ ہم پانی بچانے میں کیا کردار ادا کررہے ہیں؟ پانی کی قلت کیا ہوتی ہے یہ اْن لوگوں سے پوچھنا چاہئے جو اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کس شہر کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے، سوال یہ ہے کہ کس شہر کے لوگ پانی کے استعمال میں محتاط ہیں، اپنے آبی ذخائر کی حفاظت کے تئیں بیدار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی حفاظت کا کوئی خاص احساس یا جذبہ عوام میں نہیں پایا جاتا۔ پانی کم مقدار میں ملے تو لوگ پریشان ضرور ہوتے ہیں مگر اچھی مقدار میں ملے تو ضائع کرتے وقت افسوس بھی نہیں ہوتا۔
کون نہیں جانتا کہ موسموں کے بگڑتے مزاج، زمین کی بڑھتی ہوئی حدت اور زیر زمین ذخائر کی سطح کم ہونے کی صورتحال تشویش میں مبتلا کرنے والی ہے۔یہ تشویش کل اتنی نہیں تھی جتنی آج ہے اور یقین مانئے آنے والے دور کا تصور خاصا ڈرائونا ہے۔ اگر آج دنیا کی ایک تہائی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے تو اندازہ کیجئے مستقبل میں انسانی زندگی کو کیسے چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کئی سال قبل اس کے عالمی کمیشن برائے آبی وسائل نے کہا تھاکہ’’ 20ویں صدی میں کئی جنگیں تیل کے لئے لڑی گئیں لیکن 21 ویں صدی میں یہ جنگیں پانی کو لیکر لڑی جائیں گی‘‘۔ اس کے لئے حالات پیدا ہورہے ہیں، فی الحال یہ جنگیں انفرادی اور علاقائی نوعیت کی ہیں لیکن ان کا دائرہ وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹچوٹ (ڈبلیو آر آئی )نامی ایک عالمی ادارے کے مطابق پچھلے سو سالوں میں پانی کا استعمال انسانی آبادی کی شرح سے دوگنا سے زیادہ بڑھ رہا ہے۔ چونکہ پانی کی فراہمی سکڑتی چلی جا رہی ہے ، دنیا کے کچھ حصوں کو بحران کا سامنا ہے۔ڈبلیو آر آئی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی ایسے علاقوں میں رہائش پذیرہے جو شدید آبی مسائل کا شکار ممالک قرار دئے جا چکے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔ہندوستان میںملکی وسائل اوراقتصادی ترقی سے متعلق پالیسی ساز ادارے نیتی آیوگ نے 2018میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان کی مجموعی آبادی کے 60 فیصد عوام کو پانی کی قلت کے بحران کا سامنا ہے اور سال 2030ء تک پانی کے استعمال کی ضرورت میسر پانی کے مقابلے میں دگنی ہوجائے گی۔ آیوگ کی ایک تحقیق کے مطابق ہندوستان میں 70 فیصد آبی وسائل آلودہ ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ سے ہر سال دو لاکھ انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ آیوگ نے اس تحقیق میں یہ بھی پایا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک کے جی ڈی پی کو چھ فیصد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔یاد رہے کہ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد سرپنچوں کے نام بارہ زبانوں میں لکھے گئے ایک خط میں بارشوں کے پانی کو بچانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
درحقیقت کسی بھی مضبوط معیشت میں انسانی وسائل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر ملک کے لوگ بیمار اور کمزور ہوں گے تو یقینا وہ ملک کی ترقی میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے جس کاراست اثر معیشت پر پڑے گا۔ اسلئے انسانی وسائل کا صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے اور صحت مند انسانی وسائل کیلئے آلودگی سے پاک وصاف اور شفاف پینے کے پانی کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔معاشرتی سطح پر پانی کے استعمال میں کفایت اور صاف پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبو ں پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو پوری نوعِ انسانی کو مستقبل میں بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ پانی کے ہر قطرے میں زندگی پوشیدہ ہے اسلئے اس کی حفاظت ہمارا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ہمیں بحیثیت قوم کچھ کرنے کی ضرورت ہے، موقع کی نزاکت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ انفرادی طور پربھی اپنا کردار ادا کریں، ایسا نہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ہم خود اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرکے کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔ جب تک مشرق و مغرب اور شمال و جنوب غرض ہر طرف پانی کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار نہیں دیا جائے گا، دنیا کو پانی کی شدیدقلت سے روکنا ممکن نہیں۔ بحیثیت قوم ہم کھلی آنکھوں سے اپنی طرف آتی ہوئی پریشانی و تباہی کو دیکھنے میں مگن ہیں۔ ہماری زندگی کے روزمرہ معمولات میں شامل ہی نہیں کہ روزانہ دانت برش کرتے وقت نل بند کردیں۔ ٹوتھ برش منہ میں ہوتا ہے لیکن پانی کا نل یونہی کھلا ہوتا ہے۔ جتنی دیر ہم برش کرتے ہیں، نل کھلا رکھتے ہیں اور پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔اس طرح کی کئی مثالیں ہیں جن سے اجتناب لازمی ہے۔ کبھی اتنا خیال ہی نہیں آیا کہ یہ قیمتی اور پینے کے قابل پانی جو ہم ضائع کررہے ہیں،دنیا کے بیشتر حصوں میں نایاب ہے۔ کبھی دماغ نے اتنا کام ہی نہیں کیا کہ پانی بچائیں گے تو ہریالی بچے گی، انسان بچے گا، زندگی بچے گی۔
حالات نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اگرہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے، پانی بچانے کی کوشش کو ذاتی زندگی کا حصہ نہیں بنایا تو یقین رکھئے کہ ہم پانی کی کمی کی بدولت خشک سالی، قحط اور تباہ حالی کا شکار ہوجائیں گے۔اس ممکنہ تباہی کا سامنا کرنے سے بچنے کیلئے آئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم سب پانی بچائیں گے۔ اپنی نسلوں کو پیاس سے مرنے سے بچائیں گے۔ ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں انفرادی طور پر اقدامات کرنے ہونگے ۔حکومتی پالیسیوں کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا زیب نہیں دیتا کیونکہ کہیں یہ نہ ہو کہ کل ہمارے پاس ضرورت کیلئے بھی پانی دستیاب نہ ہو۔
پانی کی قدروقیمت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایک بوند کی حفاظت کا جذبہ دلوں میں پیدا ہوجائے۔ا س کیلئے ضروری ہے کہ اْن لوگوں کو سمجھایا جائے جو پانی بچانے کے عادی نہیںہیں اور بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اْن حکام کی جوابدہی طے ہو جو تحفظ آب کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتے اور پائپ لائنوں کے ٹوٹ جانے کے بعد گھنٹوں اورہفتوںحرکت میں نہیں آتے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پانی کے تحفظ کو ہم اپنی روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بنا لیں۔ہمیں واقعتا پانی کے بارے میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے اور اپنے آپ میں کچھ ضروری عادات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن میں پانی کی حفاظت کو ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بنانا بھی شامل ہے۔ اگر ہم اس طرح کی سوچ نہ اپنالیں تو پوری قوم عنقریب پانی کی قلت کے ایک غیر معمولی بحران سے دوچار ہونے والی ہے۔