رام بن//مرکزی حکومت کے عوامی رَسائی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے ، کوئلہ اور کان کنی رائو صاحب پاٹل دانوے جو جموںوکشمیر یوٹی میں ضلع رام بن کے دو روزہ دورے پر ہیں نے 272 کلومیٹر طویل اودھمپور۔ سری نگر ۔ بارہمولہ ریلوے لائن ( یو ایس بی آر ایل )پروجیکٹ کی پیش رفت کی رفتار کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے پتنی ٹاپ میں ایک میٹنگ میں پروجیکٹ پر پیش رفت کی راہ میں رُکاوٹ پیدا کرنے والے مسائل کا بھی جائزہ لیا۔مرکزی وزیر مملکت نے یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ پر پیش رفت کی رفتارکا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اَفراد کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خوابوں کا منصوبہ 2023 ء تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے لوگوں کی ترقی اور فلاح و بہبودکے لئے فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے۔اُنہوں نے حصولی زمین ، تعمیراتی مواد اور معمولی معدنیات کی پیش رفتا کی رفتار کا پہلے سے جائزہ لیتے ہوئے ریلوے اٹھاٹیوں ،ضلعی اِنتظامیہ اور تعمیراتی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ اِس کی بروقت تکمیل کے لئے اَپنی کوششوں کو ددگنا کریں ۔اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ تعمیراتی مواد کی خریداری کے لئے مقررہ وقت میں اِجازت کا طریقہ کار اَپنائیں تاکہ اِس پروجیکٹ کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیر مملکت نے عمل آوری ایجنسیوں کے لئے تعمیراتی مواد کی دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ قلیل مدتی اجازت نامے جاری کرے تاکہ ریلوے مستقبل میں بھی بغیر کسی پریشانی کے ضروری تعمیراتی مواد خرید سکے۔وزیر نے پروجیکٹ کے تمام ونگوں کے چیف انجینئران سے پروجیکٹ کی لاگت میں اضافے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔مرکزی وزیر مملکت کو جانکاری دی گئی کہ یو ایس بی آر ایل کی کل لمبائی 272کلومیٹر ہے جس میں سے 161کلومیٹر پہلے ہی شروع ہو چکا ہے جبکہ 111کلومیٹر کٹرہ ۔ بانہال پر کام جاری ہے اور اپریل 2023ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔کٹرہ ۔ بانہال سٹریچ 27نمبر پرمشتمل ہے ۔ میں ٹنلوں اور 8 نمبرسرے ٹنلوں میں 97 کلومیٹر ٹنل کا کام شامل ہے۔ٹی۔49 سب سے لمبی ٹنل ہے یعنی 12.75کلومیٹر رام بن ضلع کے سنگل دا علاقے میں سمبر۔ ارپنچالا کے درمیان واقع ہے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ یہ منصوبہ 27,949کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے اور 786 اَفراد جنہوں نے اَپنی 75 فیصد اراضی چلی گئی ہے کو ریلوے میں ملازمت فراہم کی گئی ہے ۔ اِس کے علاوہ مقامی لوگوں کو دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔یہ بھی بتایاگیا کہ 200 کلومیٹر سے زیادہ اپروچ سڑکیں بشمول 1ٹنل اور 320 پُل کام کی جگہوں تک پہنچنے کے لئے تعمیر کئے گئے ہیں ۔ دریائے چناب پر رام بن گول سٹیٹ ہائئی وے پردھام کنڈ کے قریب ایک روڈ پُل تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بھاری مواد کو منتقل کیا جاسکے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ دریائے چناب کے پار ایک خاصل پُل جو 467 میٹر وسط میں ہے ، دریا کے کنارے سے 359 میٹر کی بلندی پر تعمیر کیا جارہا ہے ۔ مزید یہ کہ یہ مکمل ہونے پر دُنیا کا بلند ترین ریل پُل ہوگا ۔ میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ کٹرہ ۔ بانہال سیکشن پر 37 پُل جو مشترکہ لمبائی کے ساتھ 7.035 کلومیٹر پر تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے 23مکمل ہوچکے ہیں اور باقی پُلوں پر کام جاری ہے۔بانہال سے بارہمولہ تک 136کلومیٹر ریلوے لائن پہلے شروع ہوچکی ہے اور اِس کی برقی کاری کا کام جاری ہے ۔ تمام ٹینڈر دئیے گئے ہیں اور ایس اینڈ ٹی پلان بھی منظور کرلیا گیا ہے اور کام زو رو شور سے جاری ہے ۔بانہال ۔ بارہمولہ سیکشن میں ریلوے الیکٹرکشن کے کاموں کی تکمیل کا ہدف مارچ 2022ء ہے۔ریلوے حکام نے یو ٹی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا جو کہ مناسب کام کا ماحول فراہم کرنے کے علاوہ آمدنی سے متعلقہ کاموں کو مکمل کرنے کے لئے ہے۔اس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن نے کہا کہ پروجیکٹ کے لئے حصولی اراضی کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر لاجسٹک سپورٹ بھی متعلقہ عمل در آمد ایجنسیوں کو فراہم کی جارہی ہے ۔ اُنہوں نے تین درجے کے پی آر آئی سسٹم کے قیام کا بھی مختصر بیان دیا۔دریں اثناء مقامی لوگوں نے وزیر سے ملاقات کی اور ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنی مقامی ترقیاتی ضروریات سے آگاہ کیا۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسرت الاسلام ، اے جی ایم این آر نوین گلاٹی ، سی اے او ناردرن ریلوے اے کے کھنڈ یلوال ،ڈی آر ایم ، ایف آر زیڈ شمالی ریلوے سیما شرما ، چیف اِنجینئر یو ایس بی آر ایل شمالی ریلوے سندیپ گپتا ، ایس ایس پی پی ڈی نیتیا ، متعلقہ چیف اِنجینئران ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کلکٹر ریلوے ( اے ڈی سی ) ، ریلوے کے ڈپٹی چیف اِنجینئر ان دیگر متعلقہ اَفسران موجودتھے۔