سرینگر//جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اضافی فوجیوں یا ان کی تعداد کم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور بھارتی فوج چوکس ہے اور وادی میں کسی دراندازی کی اجازت نہیں دے گی۔ منگل کو ایس کے آئی سی سی میں نوجوانوں کے لئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے15کور کے لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ سرحد پار عسکریت پسند سردیوں کے آغاز سے پہلے ہندوستان کی طرف گھسنے کی آخری کوشش کریں گے ،’’یہ ہمارے دشمن ایجنٹوں کے لیے ایل او سی پر آخری موقع ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جنگجوئوں کو آگے دھکیل سکیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان پٹ آتے رہیں گے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کنٹرول لائن پر بالکل چوکس ہیں، ہم کسی بھی درانداز کو اندر نہیں آنے دیں گے اور اگر کوئی کوشش کامیاب بھی ہوگی تو وادی کے اندر عوام کی مدد سے ختم کر دیے جائیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ ایل او سی پر دراندازی کے خلاف اقدامات پہلے سے موجود ہیں اور دراندازی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اضافی فورسز یا ان کی تعداد کم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جی او سی نے کہا ، "میں نہیں سمجھتا کہ مزید افواج کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان حالیہ مقابلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہاں آپریشن گزشتہ چند دنوں سے جاری ہے،یہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کا معیاری عمل ہے، اس لیے میں اسے کسی بھی کارروائی سے پہلے یا بعد میں جوڑنا پسند نہیں کروں گا۔"لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ اگرچہ حملوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے ، پاکستان وادی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے لیے کنٹرول لائن کے اس پار سے رسی کھینچ رہا ہے۔"مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اضافہ ہوا ہے یا کچھ ہوا ہے۔ لیکن ہاں ، شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ہر نقصان خاندانوں کے لیے اہم ہے۔انہوں نے کہا ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت محتاط رہنا ہوگا کہ وادی کشمیر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی ان وحشیانہ اور قابل مذمت ہلاکتوں سے متاثر نہ ہو۔