اردو خواتین قلم کاروں میں کئی خواتین قلم کار ایسی گزری ہیں جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الا قوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت منوا چکی ہے ۔ایسے ہی تخلیق کاروں میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔انہوں نے اردو ادب کے تئیں اپنی قابلِ قدر خدمات انجام دے کر اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوایا۔یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو ادب کو جن تخلیق کاروں پر ہمیشہ ناز رہے گا اُن میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی شامل ہے۔دراصل کسی بھی میدان میں قدم رکھنا کمال نہیں ہوتا ،اصل کمال تو یہ ہوتا ہے کہ اُس میدان میں اُتر کر کیسے ایک انسان اپنی محنت اور لگن سے محور بن کر میدان میں ٹکا رہے ۔ہر میدان کی طرح اُردو ادب کے میدان میں بھی کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں، جنہوں نے محض چند گوشوں سے متعلق خامہ فرسائی کر کے اپنے آپ کو اردو ادب سے وابستہ تو کر لیا لیکن تادیر اس میدان میں خود کو ایک فعال شخصیت کے طور پر نہ رکھ پائے ۔لیکن کئی قلمکار ایسے بھی ٹھہرے جنہوں نے شاید ادب کے میدان میں آگے بڑھنے کا عزم و استقلال دکھایا او ر دوسرااپنے آپ کو توجہ کا مرکز بنانے کے اسرار و رموز سے بھی قلمکاری سے بخوبی واقفیت کامظاہرہ بھی کیا ۔انہی قلمکاروں میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا نام ادب کے با وقار اور با ذوق قارئین کے لیے محتاجِ تعارف نہیں ۔صادقہ نواب سحر کی ہمہ جہت شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے سلام بن رزاق یوں رقمطراز ہیں:۔
’’اردو میں عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے بعد خواتین قلمکاروں میں بہتکم نام ملکی سطح پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں ۔صادقہ نواب سحر کی کثیر الجہات صلاحیتوںکو دیکھتے ہوئے اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ عصمت چغتائی اور قرۃالعین حیدر کی ادبی روایت کو آگے بڑھانے والی خواتین قلمکاروں میں ایک نمایاں کردار ادا کریں گی‘‘۔۱؎
سچا قلمکار وہی ہوتا ہے جو جو نہ صرف اپنی تخلیقات سے قاری کے جسم و جان بلکہ ذہن و دل بھی جھنجھوڑنے کا ہنر بخوبی جانتا ہواور صادقہ نواب سحر بھی ایسے ہی باشعور تخلیق کاروں میں سے ہیں۔اردو ادب اور خاص کر اردو ناول نگاری میں ’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘جو کہ ۲۰۰۸ء میں شائع ہوا ہے،کے ساتھ دیگر مشہور و معروف قلمکاروں کی طرح صادقہ نواب سحر کی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی۔اس ناول کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کے نام کو کافی سراہا گیا اور صادقہ نواب سحر کا نام جو کہ بہت کم لوگ جانتے تھے یا جس نام سے بہت کم لوگ متعارف تھے ،اس ناول کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ نام ہر ایک کی زبان پر آگیا ۔صادقہ نواب سحرنے تقریباََادب کی ہر اصناف پر طبع آزمائی کی ۔انہوںنے شاعری کی ‘ڈرامے لکھے،افسانے لکھے اور ساتھ ہی ناول کے فن میں بھی اپنی چھاپ چھوڑ دی ہے۔اپنے پہلے ناول کے بعد مصنفہ نے ناول ’’جس دن سے‘‘ ۲۰۱۶ء میں لکھ کر ادب میں اپنے پہلے سے قایم مقام کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا ۔ناول ’’جس دن سے ‘‘ میں مصنفہ نے والدین کے جھگڑے سے بچوں کی زندگی پر ہونے والے اثرات کو بیان کیا ہے۔دراصل یہ مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی معصوموں سے ان کا بچپن چھین کر ان کی زندگیوں کو تباہ و برباد کرتا ہے ۔اس ناول میں ’جیتیش‘کو مرکزی کردار کی حیثیت حاصل ہے ۔جیتیش جسے سبھی جیتو کہہ کر پکارتے ہیں ،کے والدین کی روز روز کی اَن بن اس قدر شدید ہوجاتی ہے کہ ایک دن ’جیتو‘کی ماں گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔’جیتو‘ کا بڑا بھائی ماں کے ساتھ جاتا ہے جبکہ جیتو باپ کے پاس ہی رہ جاتا ہے ۔ماں کے چلے جانے کے بعد بھی جیتوکے والد کی اپنی بیوی کے تئیں نفرت ختم ہونے کی بجائے اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔’جیتو ‘کا والد اپنی بیوی کو گالیاں دینے کے لیے اُسے بار بار فون کرتا اور جیتو کو بھی اس طرح کی نازیبا حرکات کے لیے مجبور کرتا ہے ۔اقتباس ملاحظ فرمائیں:۔
’’اور پھر مجھے زندگی میں وہ دن بھی یاد آگئے جب رات کے وقت ڈیڈی مجھے پی سی اولے جاتیــ‘‘،’’ماں کو گالیاں دے ۔‘‘پبلک فون کا رسیور زور سے میرے کان پر دبا دیتیـ،’’تیری ماں نے۔۔۔ایسا کیا ویسا کیا ۔۔۔۔۔تو اس کو گالیاں دے‘‘،وہ شراب کے نشہ میں ہوتے وہ مجھے جھنجھوڑتے ۔۔۔۔۔۔پیٹتے میں آپ ہی ماں کو گالیاں دیتا اور روتا ۔۔۔۔۔۔۔۔مما سے کہہ نہیں پاتا کہ یہ الفاظ میرے نہیں‘‘۔۲؎
جہاں تک ان کے ناول ’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘اور ناول ’’جس دن سے‘‘کا تعلق ہے تو ان دونوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔اگرچہ پہلے ناول میں انہوں نے ’متاشا ‘کی زبانی متاشا کی اور اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہزاروں متاشاؤں کی روداد کو سُنایا ہے ۔اسی طرح ناول ’’جس دن سے ‘‘میں مصنفہ نے ’جیتو‘کے کردار کے ذریعے ایسے مسائل اُجاگر کیے ہیں جو کئی بچوں کی زندگیوں کو اجیرن بناتے ہیں ۔دراصل ’جیتو‘ کے والد کے ذریعے مصنفہ نے کئی بد کردار مردوں کی قلعی کھولنے کی سعی کی ہے ۔’ جیتو‘ کی والدہ کے گھر چھوڑنے میں سب سے بڑاہاتھ اس کے والد کا ہوتا ہے۔وہ بدکردار مرد کے روپ میں اس ناول میں جلوہ گر ہوا ہے جس کا رشتہ کئی اور عورتوں سے ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ جب اس کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی بھی جاتی ہے تو یہ اور دو عورتوں سے شادی کر کے ’جیتو‘کو انھیں ماں پکارنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔
’جیتو‘ کے دماغ پر بچپن کی یہ تلخ یادیں اماوس کے چاند کی مانند ہمیشہ قایم رہتی ہے ۔’جیتو‘ بچپن سے ہی کسی پر بوجھ نہ بن کراپنی ذمہ داریوں کا بوجھ خود اُٹھاتا ہے۔وہ بچپن سے کال سینٹر میں کام کر کے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اگرچہ وہ پہلے پہلے گھر کے ناخوشگوار ماحول کی وجہ سے پڑھائی میں بہت کمزور رہتا ہے لیکن پھر وہ دن بہ دن محنت کر کے وکیل بن جاتا ہے اور ’سائرہ ‘نام کی لڑکی سے اُسے سچی محبت ہو جاتی ہے ،لیکن وہ تلخ یادیں جو بچپن میں اُس کا مقدر تھیں ،اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیںاور اُسے ہر قدم پر ستاتی ہیں۔ان کرداروں کے علاوہ بھی مذکورہ ناول میں کئی اور کردار شامل ہیں جن میںمینکا،ساحل وغیرہ خاصی اہمیت کے حامل ہے۔مصنفہ نے مذکورہ ناول میں رشتوں کی توڑ پھوڑ سے پیدا شدہ مسائل کو نہایت ہنر مندی سے پیش کیا ہے۔بقولِ پروفیسر اشرف جہاں:۔
’’صادقہ نواب سحر نے بھی اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی بڑے شہروں کی زندگی کو پیش کیا ہے جس میں رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ سے نوجوان لہو لہان ہے جنسی کشش کو محبت کا نام دے کر ملنے جلنے کی آزادی ہے نائٹ کلب ہے،بار ہے،شراب اور شباب مہیا ہے لیکن سکون نہیں ہے انسان کی روح تڑپتی ہے ۔اسے سارے شورو غل میںتنہائی کے اژدہے ڈستے ہیں،وہ اس ماحول سے کیسے بھاگ سکتا ہے جہاں سب کچھ کمر شیل ہے ۔مذہب کو چھوڑکر بھی انسان پریشان ہے ۔کسی چیز پر بھروسہ نہیں۔‘‘۳؎
اس ناول کے پلاٹ کی جہاں تک بات کی جائے تو مصنفہ نے اس ناول کا پلاٹ روزمرہ کے معاشرے سے اخذ کیا ہے ۔اسی طرح اس ناول کے اُسلوب کا جہاں تک تعلق ہے تو مصنفہ کے سادہ اُسلوب کی حسین جھلکیاں اس ناول میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔زبان و بیان کا حسین جادو بھی اس ناول میں جگہ جگہ ملتا ہے۔اس ناول میں جہاں تک واقعات کا تعلق ہے وہ تسلسل کے ساتھ آگے روان دواں ہیں ۔اسی طرح اگرچہ اس ناول میں پیش آنے والے چند کردار بے حسِ نظر آتے ہیں لیکن کچھ مایوس اور نااُمید بھی نظر آتے ہیں۔مصنفہ نے ناول میں اس بات کو عیاں کیا ہے کہ بڑے شہروں میں جس چیز کو محبت سمجھا جاتا ہے وہ دراصل جنسی کشش ہے ۔یعنی جیسے’ جیتو ‘کے ساتھ کئی لڑکیاں وابستہ ہوتی ہے لیکن دیرپا اُس کا ساتھ نہیں دے پاتی اور مالدار اشخاص سے شادی کرتی ہے ۔ ناول میں’ جیتو ‘کے علاوہ ’جیتو ‘کے والد اور اس کی والدہ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اگر کرداروں سے متعلق مصنفہ کی انفرادیت کی بات کی جائے تو اصل میں مصنفہ کی یہی خوبی ہے کہ وہ کرداروں کے عادات و اطوار ،فکر و عمل کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے یہ کردار ان کے اپنے خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔اس ناول کی منفرد بات یہ ہے کہ مصنفہ نے ایک عورت ہوکے بھی مرد کی نفسیات کو لوگوں کے روبرو کرنے کی کامیاب سعی کی ہے ۔رتن سنگھ مصنفہ کی اس خوبی پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔
’’گھٹے ہوئے واقعات ،چست جملے،نفسیاتی اعتبار سے حقیقی تجزیہ اور فکری سطح پرمکمل کہانی صرف جیتو کی داستان نہیں رہ جاتی ہے بلکہ یہ داستان اس ملک کے اُن لاکھوںکروڑوں گھرانوں کی داستان بن جاتی ہے جہاں زندگی اسی قسم کے بدنما حالات کا شکار ہو کر اندھیروں میں بھٹکتی رہ جاتی ہے۔‘‘۴؎
’جیتو‘کا والد جب ’مینا ‘نام کی ایک عورت سے شادی کرتا ہے ’جیتو ‘اُسے روکنے کی کافی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ناکام ہو جاتا ہے ۔یہاں پر مصنفہ نے مردوں کی عیاشی کے ساتھ ساتھ عورت ذات کی خود غرضیوں اور فحاشیت کو بھی موضوع بنا یا ہے۔
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصنفہ نے اس ناول میں اس طرح کے حقائق سے پردہ اُٹھاکر قاری کے روبرو کرنے کی کوشش کی ہے جس سے پڑھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ،واقعی صادقہ نواب سحر کو اگر انسانی نباض شناس بھی کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ۔ان کی تحریروں میں اکثر ایک طرح کی سحر انگیزی پائی جاتی ہے اور اسی طرح کی سحر انگیزی ان کے زیرِ تبصرہ ناول میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔واقعی اپنے معاصرین میں مصنفہ ایک الگ چھاپ چھوڑنے میں کامیاب و کامران ہیں ۔
(حواشی :ا۔میر تُراب علی ید الہیٰ (پروفیسر)،محمد اسلم ِنواب ،صادقہ نواب سحر شخصیت اور فن :فکشن کے تناظر میں ’’ناقدین کے تنقیدی اور تاثراتی مضامین سے انتخاب‘‘،روشناس پرنٹرس دہلی،۲۰۱۷ء، ص۴۶)،۲۔صادقہ نواب سحر،جس دن سے،عفیف پرنٹرس دہلی،۲۰۱۶ء،ص۳۵)،۳۔میر تُراب علی ید الہی ،پروفیسرمحمد اسلم ِنواب ،صادقہ نواب سحر شخصیت اور فن :فکشن کے تناظر میں ’’ناقدین کے تنقیدی اور تاثراتی مضامین سے انتخاب‘‘،روشناس پرنٹرس دہلی،۲۰۱۷ء، ص۴۳۸)،۴۔میر تُراب علی ید الہیٰ ،پروفیسرمحمد اسلم ِنواب ،صادقہ نواب سحر شخصیت اور فن :فکشن کے تناظر میں’’ناقدین کے تنقیدی اور تاثراتی مضامین سے انتخاب‘‘،روشناس پرنٹرس دہلی،۲۰۱۷ء، ص۴۵۰)
)ریسرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر(
ای میل:[email protected]