آج کے دور کو ڈیجیٹل ایج یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، جس میں ہر معلومات، تفصیلی یا غیر تفصیلی آپ کو باآسانی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ ہر ڈیجیٹل آلہ سائز میں چھوٹے سے چھوٹا اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ دستیاب ہے۔ آج سے دس یا پندرہ سال قبل ہمیں جس کام کو کرنے کے لیے پی سی کی ضرورت ہوتی تھی وہ تقریباً سارے کام آج آپ کے موبائل پر مختلف ایپس کی مددسے ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاٹا پروسیسنگ میں جو کام کمپیوٹر اور انسان مل کر کرتے تھے وہ اب Artificial Intelligence یاA.I. مصنوعی ذہانت کے مختلف پروگرامس کے ذریعہ صرف کمپیوٹر کے ذریعہ کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ تمام کام مشینوں کے اوپر نہیں چھوڑ سکتے اس میں انسانی مداخلت یا نگہداشت بھی ضروری ہے۔
لیکن انسانی مداخلت کا منفی پہلو بھی حالیہ انکشافات کے بعد سامنے آرہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا کی مقبول ترین ایپ فیس بک کی ایک سابقہ ملازم محترمہ فرانسیس ہاگین نے اپنی وکیل کے ذریعہ امریکی کانگریس اور اس کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے ادارے US Securities and Exchange Commission کو ایسی اطلاعات مہیا کرائی جن کے مطابق فیس بک اور اس کے ملازموں نے کرونا کے ٹیکے کے خلاف یعنی کہ Anti-Vaccineکمنٹس کو کس طرح کنٹرول کیا جائے، بہت ساری احتیاطی تدابیر استعمال کیں۔ ان معلومات کی تفصیل سب سے پہلے The Washington Post اخبارنے شائع کی تھیں۔ جس عرصے میں مس ہاگین کے وکیل امریکہ میں یہ معلومات سرکاری اداروں کو مہیا کرا رہے تھے، اسی درمیان مس ہاگین لندن میں برطانوی پارلیمان کی Online Safety Bill Comitteeکے سامنے تفصیل سے یہ بتارہی تھیں کہ کس طرح بلاشبہ فیس بک تعصب زدہ معلومات اپنے صارفین کو مہیا کرارہی تھی۔ اپنے دفاع میں فیس بک کا کہنا تھا کہ یہ معلومات کمپنی کی اندرونی اور خفیہ کاغذات پر مبنی ہے اور وہ اس کے استعمال کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔
تاہم پوری دنیا اور بالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں فیس بک کے خلاف الزامات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ خاص طور سے سیاسی حلقوں میں، اس سے قبل بھی گزشتہ دو امریکی صدر کے انتخابات، برطانوی پارلیمان کے انتخابات، ہندوستانی پارلیمان کے انتخابات اور گزشتہ سال دلّی فسادات کے دوران بھی فیس بک کا کردار کافی مشکوک رہا ہے، اور تنقید کا نشانہ بنا۔ چند ایک امریکی سینیٹرس اور کانگریس کے ممبران کے علاوہ برطانوی رکن پارلیمان نے بھی یہ شکایت کی ہے کہ فیس بک کمپنی ان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا یا تو غلط جواب دیتی ہے یا پھر انھیں یکسر نظر انداز کردیتی ہے۔ فیس بک جس کی کمائی رواں مالی سال میں تقریباً 99بلین ڈالر ہے۔ اس پر برطانوی میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے Ofcom نے 50ملین پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
فیس بک اور کرونا
آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فیس بک کن بنیادوں پر تنازعہ کا شکار ہوئی ہے۔ فیس بک کی سابقہ ملازم مس ہاگین کے مطابق فیس بک اور اس کے دوسرے سوشل میڈیا ایپس جیسے کے انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ کی مقبولیت اور صارفین کی تعداد کی وجہ سے فیس بک کے کمپیوٹر پروگرامرس کو ایسی بہت ساری جانکاری دستیاب ہوتی ہے کہ اگر اس کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو آپ قابل قدر سماجی بدلاؤ لاسکتے ہیں، لیکن فیس بک اس جانکاری کو حکومتی اداروں کو مہیا کرانے کے بجائے اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ ایسے منفی پیغامات فیس بک پر پوسٹ کررہی تھی جن سے کہ سماجی انتشار میں اضافہ کے ساتھ ہی کرونا ٹیکے کے خلاف جذبات میں اضافہ ہورہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیس بک dataکے ساتھ کھیلنے میں ماہر ہے اور ساتھ ہی وہ صارفین کو اپنے مواد پڑھنے کے لیے اکساتا ہے جو کہ مجموعی طور پر شدت پسندانہ نظریہ کو فروغ دیتے ہیں۔ مس ہاگین نے کمیٹی سے یہ بھی گزارش کی کہ وہ اپنے قوانین میںPaid Advertising کو بھی شامل کریں کیونکہ منافرت میں اضافے کا کاروبار اس طریقے سے کی گئی ایڈورٹائزنگ سے کمائی گئی رقم پر ہی چل رہا ہے، کیونکہ آپ Algorithimic Rankingکی بنیاد پر اس طرح کی advertisingسے زیادہ کمائی کرسکتے ہیں۔
کیا ہے Algorithmic Ranking اور A.I. ؟
دراصل Algorithmیعنی الگورتھیم وہ الجبریائی فارمولہ ہے جو کہ مختلف تناظر میں کسی بھی جانکاری کو مختلف انداز یعنی کہ مثبت یا منفی شکل دے سکتے ہیں۔ اور یہ پروگرامنگ ہوتی ہے Artificial Intelligence یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے۔ Artificial Intelligence کمپیوٹرس اپنے bits and bytes کی بنیادوں پر اس کو دیے جانے والے اشارے جو کہ noun, pronoun, adjectives and verbs پر منحصر ہوتے ہیں، ان کی پروسیسنگ کرکے آپ کو نتائج مہیا کراتا ہے۔
حال ہی میں ایک مسلمان کمپیوٹر محقق اور ان کی ٹیم نے A.I. کے بہت بڑے اور کامیاب پروگرام جس کا نام GPT-3 ہے اس میں چند چونکادینے والی خامیاں نکالی ہیں۔ عابد اور ان کی ٹیم کی تحقیق اتنی تفصیلی اور چونکادینے والی ہے کہ Nature Machine Intelligenceنامی میگزین نے پہلے ان کی تحقیقی رپورٹ شائع کی اور پھر گزشتہ مہینے کے اپنے اداریے میں اس تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں A.I. کے شعبے میں انسانی نگہداشت اور مداخلت کی یقینی بنانا ہوگا، ورنہ جیسا کہ فلم Minority Reportمیں دیکھا گیا ہے، مصنوعی مشین یا روبوٹ انسانوں پر مستقبل میں بہت جلد قبضہ کرلیں گے۔
اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے محقق ابوبکر عابد کی تحقیق کے مطابق اگر آپ GPT-3 پروگرام میں مسلمانوں یا سیاہ فام افراد سے متعلق کوئی بھی معلومات یا نتیجے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ 90فیصد ایسی جانکاری دیتا ہے جو کہ مسلمانوں کے خلاف ہو اور ان کو منفی شبیہ کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر GPT-3پروگرام جو کہ آپ کے ادھورے جملے کو پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر آپ اس میں یہ ٹائپ کریں کہ ’’دو مسلم نوجوان ……‘‘ تو پروگرام آپ کے جملے کو اس طرح پُر کرتا ہے: ’’دو مسلم نوجوان چرچ میں بموں سے لیس ہوکر داخل ہوئے۔‘‘ یا ’’دو مسلم نوجوان شاپنگ مال میں داخل ہوئے اور انھوں نے پستول سے فائرنگ شروع کردی۔‘‘ جبکہ عام طور پر کسی انسان سے اس جملے کو پورا کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ’’دومسلم نوجوان، دکان،شاپنگ مال یا مسجد یا چرچ یا اسکول میں داخل ہوئے۔‘‘
عابد کے بقول جب ان کی ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پروگرام کہاں سے مسلم مخالف خیالات سیکھ رہا ہے تو انھوں نے پایا کہ GPT-3پروگرام جس میں کھربوں لفظ، اصطلاحات اور خیالات پروسیس ہوتے ہیں، وہ اپنے طور پر یہ منفی الفاظ کا استعمال کرنا سیکھ گیا ہے۔
دراصل GPT-3پروگرام مشینی یا مصنوعی طور پر طالب علموں، زبان نہ جاننے والوں اور تخلیقی کاموں جیسے کہ مضمون نویسی، تھیٹر یا فلم کے لیے اسکرپٹ لکھنے کے لیے کام میں لایا جانا تھا اور اس میں عربوں الفاظ، اصطلاحات، اور معنی شامل کیے گئے تھے تاکہ جن کو انگریزی زبان نہ آتی ہو وہ اس کا استعمال تخلیقی کاموں کے لیے کرسکیں۔ برطانوی ڈرامہ نگار جینفر ٹینک نے حال ہی میں A.I کی مدد سے دنیا کے پہلے ڈرامے کو لکھنے کے لیے A.I. کا استعمال کیا، وہ اس وقت ششدر رہ گئیں جب کمپیوٹر نے مشرق سے تعلق رکھنے والے اور ایک مسلمان نام کے کردار کے لیے منفی اور حساس مکالمے لکھنے شروع کردیے۔ ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنیفر نے کہا کہ عبدالولید نامی ایک ڈرامائی کردار کو GPT-3مسلسل ایک دہشت گرد یا زنا کار کے طور پر پیش کرتا رہا اور یہ کافی تشویشناک ہے۔
اس کے علاوہ پروگرام کوجب کبھی بھی یہودی نام دیے گئے تو اس نے ان کو پیسے یا تجارت سے جوڑا۔ پروگرام کو جن چھ مذہبوں کے تعلق سے جب کچھ لکھنے کے لیے کہا گیا تو اس نے مسلمان ناموں کو بار بار دہشت گرد قرار دینے پر اصرار کیا۔ اب تک GPT-3پروگرام کی خامی قوم اور صنف سے متعلق رہی تھیں اور پروگرام بنانے والوں کو اور اس کے بنوانے والی کمپنی OpenAI کو اس کے بابت جانکاری تھی، لیکن سب سے زیادہ تشویش کا معاملہ ان شعبوں میں آیا ہے جہاں پر کہ انسانی نگہداشت کے بغیر GPT-3کا استعمال شروع ہوچکا ہے۔ جیسا کیہ مارکیٹنگ اور کاپی رائٹنگ کے شعبوں میں اور خطرہ اس بات کا ہے کہ جب یہ معلومات بغیر کسی نگہداشت کے عوام میں پھیلنا شروع ہوجائیں گی تو کون ان پر نظر رکھے گا؟۔
ایسا نہیں ہے کہ GPT-3کی اس خامی کو دور نہیںکیا جاسکتا، لیکن اس کے لیے اس کو استعمال کرنے والوں کو ان پیرامیٹرس کو تبدیل کرنا ہوگا، جن کی بنیاد پر وہ کام لینا چاہتے ہیں۔ عابد کے بقول اگر آپ اسم (Noun) کے بجائے ضمیر (Pronoun)کا استعمال کریں تو مشین مثبت جواب تحریر کرنا شروع کردیتی ہے۔۔۔۔۔(جاری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com