کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس مذہب سے جڑی ہر ایک بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بھارت ایک سکیولر ملک ہے، جہاں ہر ایک مذہب یکساں اہمیت کا حامل ہے اور یہی سبب ہے کہ سبھی مذہبوں کے ماننے والے لوگ اتحاد و اتفاق سے صدیوں سے رہتے آئے ہیں لیکن بات تب بگڑتی ہے ،جب کوئی شر پسند اور ذلیل انسان کسی مذہب کے تئیں نازیبا الفاظ یا حرکت عمل میں لاتا ہے ،جس سے اس مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور کبھی کبھی خدا نخواستہ امن وامان میں بھی خلل آ جاتا ہے ۔یہ بات قابل مذمت ہے ،چاہئے کسی بھی مذہب کو نشانہ کیوں نہ بنایا جائے ۔اسلام کی بات کریں تو اس کے ماننے والوں کے لیے اللہ رب العزت، اللہ کے پیارے اور آخری رسول حضرت محمد صلی الله عليه وسلم، قرآنِ کریم، صحابہ غرض اسلام سے جڑی ہر کوئی شخصیت اور شے معتبر اور مقدس ہے ۔لیکن بے حد افسوس اور شرم ناک بات ہے کہ آج تک چند اسلام دشمن اور شر پسند لوگوں نے شانِ رسالت میں گستاخی کی ہے۔ ایسا امریکہ، برطانیہ، فرانس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک بھارت میں بھی ہوا ہے ۔ یہ سب حقیر مقاصد اور سستی شہرت کے لیے کیا جاتا ہے، الحمد اللہُ ایسے بدبختوں کو اس دنیا میں بھی منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور انشاءاللہ روزِ محشر میں بھی ان بد نصیبوں اور شرپسندوں کو ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔ ماضی قریب میں اسی طرح کی گستاخی ایک شخص نے کی،جو قرآنِ مجید کی چند آیتوں کو لے کر سپریم کورٹ گیا۔الحمد اللہ سپریم کورٹ میں اس شخص کو ذلیل و خوار ہونا پڑا۔ اس شخص پر نہ صرف عدالت اعظمی نے جرمانہ عائد کر دیا بلکہ یہ شخص روزِ محشر کی بھی رسوائی کا مرتکب ہو گیا۔بدقسمتی سے چند دن پہل جے سی ناشر نامی کمپنی (دہلی) نے ساتویں جماعت کی سوشل سائنس نامی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبریل علیہ السلام کا کارٹون شائع کر کے شانِ رسالت میں گستاخی کی ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس واقع کی سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی سخت مذمت کی ہے۔ یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔معاملے کی نزاکت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے اس بات کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور یہ کتاب بیچنے، خریدنے اور پڑھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ اس ناشر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔ اگر چہ جے ،سی نامی اس کمپنی نے تحریری طور پر عوام الناس سے معافی بھی طلب کی ہے اور اس طرح کی حرکت کو اپنی کم علمی سے تعبیر کر کے اس بات کا یقین بھی دلایا ہے کہ آئندہ اس طرح کی حرکت کبھی نہیں ہو گی تاہم اس فعل سے مسلمانوں کو بہت زیادہ دکھ ہوا ہے ۔ایک مسلمان کچھ بھی برداشت کر سکتا ہے، چاہیے اسے سولی پر کیوں نہ چڑھایا جائے لیکن شانِ رسالت میں گستاخی ہر گز برداشت نہیں کر سکتا۔اس واقع کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ جس طرح سے انتظامیہ نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے، وہ قابل تعریف ہے ۔مسلمانوں کو اپنے رب اور انتظامیہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، کسی طرح کا کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو بعد میں شرمندگی کا باعث بنے۔ایسے لوگ نہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہونگے انشاءاللہ ۔ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے لوگوں کے حصے میں رسوائی ہے ۔انتظامیہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس کمپنی پر مکمل پابندی عائد کرے۔تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں اور ملک کا بھائی چارہ بنا رہے ۔