ہر سال 10؍ دسمبر کو عالمی سطح پر یہ دن یومِ "انسانی حقوق "کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ روایت اس تاریخی دن کی یاد تازہ کر دیتی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10؍ دسمبر 1948کو انسانی حقوق کی بحالی اور اس کے تحفظ کے لئے ایک عالمی منشور کا اعلان کیا تھا، جسے عا لمی انسانی حقوق کے اعلامیہ کا نام دیا گیا ۔ یہ اعلا میہ ایک ایسی دستاویز ہے جو انسانی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد217کے ذریعہ اس کے 183ویںاجلاسِ عام میں منظورکیا گیا۔ یہ عالمی منشورِ انسانی حقوق 30دفعات پر مشتمل ہے۔ 500سے زائد زبانوں بشمول ارد و میں اس اعلامیہ کے تراجم ہو چکے ہیں۔ موجودہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں ان حقوق سے واقفیت رکھنا بیحد ضروری ہے۔ اس لئے منشورِ انسانی حقوق کے اعلامیہ میں درج ان 30دفعات کو یہاں بیان کیا جارہا ہے تاکہ قارئین نہ صرف اپنے حقوق سے کما حقہ واقف ہو سکیں بلکہ ان حقوق کی برقراری اور اس کے تحفظ کے لئے خود کو سرگرمِ عمل رکھیں تاکہ کوئی طاقت ان حقوق کو چھین نہ سکے۔ خاص طور پر اپنے وطنِ عزیز میں انسانی حقوق کی جو پامالی ہورہی ہے اس کی روک تھام کے لئے خود شہریوں میں انسانی حقوق سے متعلق شعور اور آ گہی کی ضرورت پہلے سے زیادہ اب محسوس کی جارہی ہے۔ عالمی انسانی حقوق کا منشور اعلان کرتا ہے کہ:
1۔تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وقار اور حقوق کے معاملے میں سب مساوی ہیں۔
2 ۔ ہر فرد نسل، رنگ، جنس، زبان ، مذہب یا کسی بھی قومی و سماجی حیثیت کے کسی بھی امتیاز کے بغیر تمام حقوق اور آزادیوں کا مستحق ہوگا۔
3۔ ہر فرد کو زندہ رہنے، آزاد رہنے اور اپنی جان کی حفاظت کرنے کا حق حاصل رہے گا۔
4۔ کسی بھی شخص کو نہ غلام بنایا جائے اور نہ محکوم رکھا جائے۔ غلامی اور غلاموں کی تجارت کی ہر شکل ممنوع ہوگی۔
5۔ کسی بھی شخص کو تشدّد ، ظلم و ستم ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
6۔ ہر فرد کو قانون کی نظر میں بحیثیتِ فرد ایک تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہوگی۔
7۔ قانون کی نگاہ میں سب کی حیثیت مساوی ہوگی اور سب کو کسی امیتاز کے بغیر یکساں قانونی تحفظ حا صل ہوگا۔
8۔ ہر فرد کو قانون کے ذریعہ ملنے والے بنیادی حقوق کے منافی قوانین کے خلاف ٹربیونل کے ذریعہ قانونی چارہ جوئی کا حق رہے گا۔
9۔ کسی شخص کو بِلا جواز گرفتار نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے نظربندی یا جِلاوطنی کی سزا دی جائے گی۔
10۔ ہر شخص اپنے بنیادی حقوق و فرائض کے تعین یا اپنے خلاف ہونے والی کاروائی کے خلاف آزاد عدلیہ سے رجوع ہوسکتا ہے۔
11۔ کسی تعزیری جرم کی صورت میں فرد کو اس وقت تک بے قصور سمجھا جائے گا جب تک کہ اس کا جرم قانون کے مطابق ثابت نہ کردیاجائے
12۔ کسی فرد کی نجی زندگی اور خاندانی امور میں مداخلت نہیں کی جائے گی اورر نہ اس کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جائے گا۔
13۔ ہر فرد کو اپنی مملکت میں رہائش کے ساتھ نقل و حرکت کی مکمل آزادی ہوگی۔
14۔ کسی بھی فرد کو ظلم اور تشدّد سے بچنے کے لئے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کا حق حاصل رہے گا۔
15۔ ہر فرد کو شہریت حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ بِلا جواز کسی کوشہریت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ شہریت کی تبدیلی کا حق سلب کیاجائے گا۔
16۔ہر بالغ مرد و عورت کو بِلا امتیاز نسل، شہریت یا عقیدہ شادی کرنے اور گھر بسانے کا حق حا صل ہوگا۔
17۔ ہر فردکو تنہا یا دوسروں کے ساتھ جائیداد رکھنے کا حق رہے گا۔
18۔ہر فرد کو فکر و خیال، ضمیر اور عقیدے کی آزادی ہوگی ۔ اس حق میں تبدیلی عقیدہ و عبادت بھی شامل ہے
19۔ہر فرد کو آزادیِ اظہار خیال ، اپنی رائے رکھنے اور کسی قانونی ذریعہ سے معلومات حاصل کرنے اور پہنچانے کا حق حاصل ہے۔
20۔ہر فرد کو پُرامن اجتماع کرنے اور تنظیم قائم کرنے کا حق رہے گا۔ کسی کو کسی خاص تنظیم سے وابستہ ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
21۔ ہر فرد کو اپنے ملک کی حکومت میں راست یا منتخبہ نمائندوں کے ذریعہ شرکت کا حق رہے گا۔اس میںآزادانہ رائے دہی بھی شامل ہے۔
22۔ ہر فرد کو باوقار زندگی گزارنے کا حق ہوگا۔ اسے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق حا صل رہیں گے۔
23۔ہر فرد کو پیشہ کی آزادی ہوگی۔ یکساں کام کی یکساں اجرت ملے گی ۔ بیروزگاری سے تحفظ پانے کا حق فرد کو دیا جائے گا۔
24۔ کام کے اوقاتِ متعین کئے جائیں گے اور ہر فرد کو راحت وآرام کا موقع دیا جائے گا۔ کسی کام کرنے والے کا استحصال نہ ہو۔
25۔ہر فرد کو اپنے افراد خاندان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے پورے مواقع دئے جائیں گے تا کہ ایک خوشحال خاندان وجود میں آ سکے
26 ۔ہر فرد کو حصولِ تعلیم کا حق حاصل ہوگا۔تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی تعمیر ہوگی اور مضمون کے انتخاب کا حق والدین اور بچوں کو ہوگا۔
27۔ہر فرد کو علوم و فنون سے لطف اندوز ہونے اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہونے کے پورے مواقع حا صل ہوں گے۔
28۔ ہر فرد ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی ماحول میں زندگی بسر کرنے کا مستحق ہوگا جس کا تذکرہ اس منشور میں کیا گیا ہے۔
29۔ ہر فرد پر اس معاشرے کی کچھ ذ مہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جس کی بجا آوری سے بہتر معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
30۔ اس منشور کے کسی بھی حصے کی ایسی تعبیر نہیں کی جا سکے گی جس کا مقصد ان حقوق اور آزادیوں کا صفایا کرنا ہو جو اس منشور میں بیان کی گئیں ہیں ۔ یہ حق کسی بھی ریاست، گروپ یا فرد کو حاصل نہیں ہوگا۔
یہ وو انسانی حقوق ہیں جواقوام متحدہ کی جانب سے ایک عالمی منشور(World Charter) کے ذریعہ دنیا کے سامنے لائے گئے۔ ان حقوق کو پیش کرنے کا مقصد یہی تھا کہ احترامِ آدمیت کے جذبہ کو فروغ دیا جائے اور ایک عام انسان کے حق کو بحیثیت ِ انسان کے تسلیم کیا جائے۔ ان حقوق کے اعلامیہ کو جاری کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ دنیا سے جبر و استبداد کی زنجیروں کو کاٹ دیا جائے گا۔ انسان کو آزاد فضاء میں ایک با وقار زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔ لیکن کیا واقعی عالمی حقوقِ انسانی کے اس منشور پر عمل درآمد ہوا؟ کیا دنیا سے آمریت اور فسطایت کا بھوت ختم ہو گیا؟ کیا دنیا کے سارے انسان چین و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں ؟ آج یہ سوال سنجیدگی سے زیرِ بحث آنا لازمی ہے کہ جن ممالک نے آج سے سات دہے قبل جن انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہوئے اس اعلامیہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا ، کیا وہ خود اس کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ عراق، ایران اور افغانستان میں انسانی حقوق کی جو دھجیّاں اُڑائی گئیں اس میں کس نے اپنی بربریت اور سفاکیت کا بدترین مظاہرہ کیا۔ دنیا جا نتی ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہادعلمبرداروں نے ہی قتل و خون کا یہ بازار گرم کیا تھا۔
انسانی حقوق کی پامالی کے جو روح فرسا واقعات دنیا میں دیکھنے میں آ رہے ہیں ، یہاں وہی طاقتیں شہریوں کی آزادیوں اور ان کے حقوق کو نگلتی جارہی ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ کے نعرے لگاتے ہوئے دنیا کو گمراہ کر رہی ہیں۔ یہ تلخ اور نا قابل تردید حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا عفریت جو آج ہر طرف منڈلاتا نظر آرہا ہے یہ ان ہی انسانیت دشمن قوتوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے جو دنیا کی تمام اقوام کو اپنی غلا می میںجکڑے رکھنا چاہتی ہیں۔اقتدار کی حریص یہ طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے قانون اور آئین کو روندتے ہوئے اپنے ہی شہریوں کی آزادیوں پر ڈاکے ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ آج جب کہ جمہوریت کا دور دورہ ہے لیکن کیا واقعی جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے۔ آزادانہ انتخاب اور اظہارِ خیال کی آزادی اب بے معنی ہوتی جا رہی ہے۔ جمہوری ادارے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر ہر فرد کو خوشحال اور مطمئن زندگی گزارنے کا موقع دینے کی باتیں ہر سیاسی پارٹی کر تی ہے ، لیکن اقتدار پر آ تے ہی شہریوں کے حقوق اور آزادی پر قدغن لگانا حکمران اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں۔ فرد کی عزت و توقیر، اس کے عہدے اور منصب کی بنیاد پرکی جارہی ہے۔ ایک عام انسان گھٹن اور بےچینی کے اضطراب آمیزماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ رنگ و نسل، علاقہ و ذات، جنس و زبان اور مذہب کے امتیازات اب بھی نہ صرف باقی ہیں بلکہ اس میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔ یورپ کے تہذیب یافتہ سماج میں آج بھی گورے اور کالے کے درمیان امتیاز برتا جاتا ہے۔ امریکہ، جو انسانی حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا ٹھیکیدار ہے وہاں انسانیت کس قدر شرمسار ہوتی ہے اس کے لئے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ آئے دن ہونے والے وہاں کے بدبختانہ واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ ساری دنیاکو انسانی حقوق کا درس دینے والے خود اپنے ملک میں ان حقوق کی کس طرح بے توقیری کرتے ہیں۔ حکومتوں کی بے جا مداخلت نے فرد کی نجی زندگی کو بھی پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ کوئی شخص آزادی کے ساتھ فون پر اپنے افرادِ خاندان سے بات بھی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے جائز حقوق کو منوانے سے اس لئے کتراتا ہے کہ کہیں حکومت کا عتاب اس پر نازل نہ ہوجائے۔ اس وقت ساری دنیا میں انسانی حقوق داؤ پر لگ چکے ہیں۔ جہاں جہاں انسانی حقوق کے لئے آوازیں اٹھ رہی ہیں ، انہیں کچل دیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی بھی کسی سے کم نہیں ہے۔
ہندوستان ، جو ہمارا وطنِ عزیز ہے ، یہاںگزشتہ چند دہوں سے انسانی حقوق کے تئیں حکومت نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے شہری شدید کرب سے دوچارہیں۔ملک کے دستور نے شہریوں کو جو بنیادی حقوق عطا کئے ہیں، انہیں سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت خود اپنے ہی شہریوں پر مختلف پابندیاں عائد کرکے ان سے اظہار خیال کی آزادی چھین رہی ہے۔ حکومت سے سوال کرنا اب ملک سے غداری مانا جا رہا ہے۔ عقیدہ اور عبادت کی آزادی کو ختم کرنے کے لئے نِت نئے قوانین بنائے جارہے ہیں۔ ایک مخصوص طبقہ کو شہریت سے محروم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ پارلیمانی اکثریت کو بنیاد بناکردستور میں تبدیلی کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔یہ سارے غلط اور غیر آئینی کاموں کو انجام دیتے ہوئے حکومت اگر10؍ دسمبر کو یوم " عالمی انسانی حقوق "منانے کا اہتمام کر تی ہے تو یہ محض ایک رسم کی ادائیگی ہوتی ہے۔ اس دن حکومت کو اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ اس نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر ملک میں بچے آکسیجن کے نہ ملنے سے مرتے ہیں ، عورتیں عصمتوں کے لُٹنے سے خودکشی کرلیتی ہیں ، مزدور کام کے نہ ملنے سے زندگی سے ہار جاتا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں رکھ کر بھی نوکری کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے تو کیا یوم انسانی حقوق منانے کی کوئی معنویت ہے؟
(رابطہ ۔91+9885210770)