کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون ویکسینیز اور قدرتی بیماری سے ملنے والے تحفظ پر جزوی حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔یہ بات اس حوالے اب تک جاری ہونے والی پہلی طبی تحقیق میں بتائی گئی۔مگر تحقیق میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ کورونا کی یہ نئی قسم مدافعتی نظام سے مکمل طور پر نہیں بچ پاتی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسینز کے استعمال کے بعد وقت گزرنے سے تحفظ میں آنے والی کمی کو اینٹی باڈیز بڑھا کر بحال کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے اگرچہ کلینکل نتیجہ کی تصدیق ہونا باقی ہے مگر نتائج سے اس خیال کو ٹھوس تقویت ملتی ہے کہ بوسٹر ویکسینیشن اومیکرون سے تحفظ کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔افریقہ ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ولیم ہینکوم نے بتایا کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ اومیکرون کے خلاف ویکسین سے ملنے والے تحفظ کی شرح گھٹ جائے گی، مگر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ ویکسینز کورونا کی اس نئی قسم سے متاثر ہونے پر سنگین پیچیدگیوں اور موت سے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ ناگزیر ہے کہ ہر فرد کی کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن ہو۔یہ انسانی مدافعتی نظام کے اومیکرون سے نمٹنے کے حوالے سے پہلی تحقیق ہے اور اس کے لیے محققین نے فائزر ویکسین استعمال کرنے والے 12 افراد کے خون کے نمونوں میں اومیکرون کی جانچ پڑتال کی۔ان نمونوں میں مدافعتی ردعمل کا موازنہ وائرس کی ابتدائی قسم سے کیا گیا۔تحقیق میں شامل 12 میں سے 6 افراد ایسے تھے جو جنوبی افریقہ میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران متاثر ہوئے تھے اور بعد میں ویکسینیشن ہوئی تھی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیماری سے محفوظ رہنے والے مگر ویکسینیشن کرانے والے افراد کے خون میں اومیکرون کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں اصل قسم کے مقابلے میں 41 گنا کمی آئی مگر یہ نئی قسم مکمل طور پر مدافعتی نظام سے نہیں بچ سکی۔اس کے مقابلے میں جن افراد کی ویکسینیشن ہوچکی تھی اور وہ ماضی میں کووڈ سے متاثر بھی ہوئے تھے، ان کے نمونوں میں اومیکرون کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح زیادہ تھی، جس سے عندیہ ملا کہ ویکسین کا بوسٹر ڈوز بیماری سے تحفظ کے لیے مؤثر ہوسکتا ہے۔سائنسدانوں کو پہلے ہی اومیکرون کے خلاف تحفظ کی شرح میں کمی کی توقع تھی مگر ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اینٹی باڈیز سے ہٹ کر ٹی سیلز کورونا کی اس نئی قسم کے خلاف زیادہ بہتر کام کرسکیں گے اور بیماری کی سنگین شدت سے بچائیں گے۔
محققین نے کہا کہ اومیکرون پر تحقیق کے نتائج ہماری توقعات سے بہتر ہیں، جتنی زیادہ اینٹی باڈیز آپ حاصل کریں گے، اتنا زیادہ بیماری سے تحفظ ملنے کا امکان ہے۔امپرئیل کالج کے امیونولوجی پروفیسر ڈینیئل آلٹمن نے کہا کہ تحقیق سے ایک واضح پیغام ملتا ہے کہ جن لوگوں کی ویکسینیشن نہیں ہوئی یا جن افراد نے ویکسینز کی 2 خوراکیں استعمال کی ہیں، وہ اومیکرون کے مقابلے میں کافی کمزور ہیں، مگر جن افراد کو بوسٹر ڈوز دیا گیا یا ویکسینیشن کے ساتھ قدرتی بیماری کا سامنا بھی کرچکے ہیں، ان کو بیماری سے زیادہ تحفظ حاصل ہے، چاہے اینٹی باڈیز کی سطح میں 41 گنا کمی ہی کیوں نہ آئے۔برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر پال موس نے کہا کہ تشویشناک دریافت یہ ہے کہ وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں اومیکرون کے خلاف 40 گنا تک کمی آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ محض ڈھائی فیصد اینٹی باڈیز سرگرمی ہی باقی رہی، مگر اس طرح کے نتائج غیرمتوقع نہیں تھے، ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ بوسٹر ویکسینیشن اینٹی باڈیز کی سطح میں اضافہ کرتی ہے جو بیماری کے خلاف قیمتی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔دوسری جانب سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون کے خلاف وائرس کی اصل قسم کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی افادیت میں اوسطاً 7 گنا کمی آئی۔مگر تحقیق میں لوگوں میں ویکسینیشن سے بننے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں فرق بھی دیکھنے میں آیا جیسے کچھ افراد کے خون کے نمونوں میں مدافعت میں کوئی کمی ریکارڈ نہیں ہوئی جبکہ کچھ ایسے تھے جن کی اینٹی باڈیز کی سطح میں 25 گنا سے زیادہ کمی آئی۔دریںاثناایک دوسرے سے کافی دور مقیم ویکسین شدہ 2 افراد میں اومیکرون پھیلنے کا انکشاف ہواہے۔ہانگ کانگ کے ایک قرنطینہ ہوٹل میں ویکسینیشن مکمل کرانے والے 2 مسافروں میں کافی فاصلے کے باوجود کورونا کی نئی قسم اومیکرون پھیل گیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے طبی ماہرین اس کے لیے اتنے پریشان کیوں ہیں۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ دونوں میں سے کوئی بھی فرد نہ تو اپنے کمرے سے باہر نکلا اور نہ ہی ان کا کسی اور رابطہ ہوا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہوا کے ذریعے اومیکرون کا پھیلاؤ اس وقت ہوا جب کھانے لینے یا کووڈ ٹیسٹنگ کے دوران ان کے کمروں کے دروازے کھولے گئے۔عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں کہا تھا کہ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے اومیکرون کی میوٹیشنز کے ویکسینز کی افادیت پر مرتب اثرات اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار کو سمجھنے کے لیے فوری طور پر تحقیقی کام شروع کیا جن کے نتائج آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آسکتے ہیں۔ہانگ کانگ میں ہونے والی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ قرنطینہ ہوٹل میں ایک دوسرے سے کافی دور مقیم ایسے افراد جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی، میں اومیکرون کی تشخیص سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔جنوبی افریقہ میں کورونا کی اس نئی قسم کو سب سے پہلے شناخت کیا گیا تھا اور وہاں نومبر کے آخر سے کووڈ کیسز کی تعداد میں ڈرامائی اجافہ ہوا ہے۔جنوبی افریقہ سے باہر بھی درجنوں ممالک میں اب تک اومیکرون کے کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔جنوبی افریقہ میں اومیکرون سے متاثر بیشتر افراد میں بیماری کی شدت معمولی دریافت ہوئی مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا اور تحقیقی رپورٹس کے اجرا تک کورونا کی یہ نئی قسم ایک نامعلوم خطرہ ہی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دونوں مسافروں میں سے ایک 11 نومبر کو جنوبی افریقہ سے ہانگ کانگ پہنچا تھا جبکہ دوسرا اس سے ایک دن پہلے کینیڈا سے یہاں آیا تھا۔دونوں افراد نے فائزر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کی تھیں اور ہانگ کانگ آمد سے قبل کووڈ ٹیسٹ نیگیٹو رہے تھے۔
محققین نے بتایا کہ ہانگ کانگ آمد پر دونوں افراد کو ایک ہی قرنطینہ ہوٹل میں رکھا گیا اور دونوں کے کمرے ایک ہی منزل پر کافی فاصلے پر تھے۔تحقیق کے مطابق قرنطینہ کے دوران دونوں میں سے کوئی بھی کمرے سے باہر نہیں نکلا اور نہ ہی دونوں کے کمروں میں اشیا شیئر ہوئین جبکہ دیگر افراد بھی ان کے کمروں میں داخل نہیں ہوئے۔محققین نے بتایا کہ ہوٹل کی راہداری میں ہوا کے ذریعے وائرل ذرات سے ایک سے دوسرے فرد میں بیماری کی منتقلی ہی ممکنہ وجہ تھی اور اس طرح کے پھیلاؤ سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم زیادہ متعدی ہے۔جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافر میں کوونا وائرس کی تشخیص 13 نومبر کو ہوئی تھی جس میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، جس کے بعد اگلے دن یعنی 14 نومبر کو ہسپتال لے جاکر آئسولیٹ کردیا گیا۔دوسرے مسافر میں 17 نومبر کو معمولی شدت کی علامات ظاہر ہوئیں اور اگلے دن کووڈ کی تشخیص ہوئی اور پھر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
�������������������������