عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر حکومت نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے 800 سے زائد عمارتوں کی تعمیر کے لیے اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ اہم سیاحتی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔یہ معلومات وزیر سیاحت نے ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ کے سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ سال 2023 سے 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 807 اجازت نامے جاری کیے گئے۔ ان میں سے 245 اجازت نامے سال 2023-24 میں، 147 سال 2024-25 میں جبکہ 415 اجازت نامے سال 2025-26 میں جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق رہائشی مکانات کے لیے سب سے زیادہ 544 اجازت نامے دیے گئے، جبکہ 121 کمرشل عمارتوں کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ 26 ہوٹل، 14 ہٹس اور 2 گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر کی بھی اجازت دی گئی۔حکومت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کئی معروف سیاحتی مقامات پر غیر قانونی اور بغیر اجازت تعمیرات کی بڑی تعداد موجود ہے، جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
گلمرگ میں 21 غیر قانونی ڈھانچوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 20 کو سیل جبکہ ایک کو منہدم کیا گیا۔ پہلگام میں 28 غیر مجاز تعمیرات سامنے آئیں، جن میں سے 13 کو سیل کیا گیا جبکہ باقی کے خلاف کارروائی جاری ہے۔پتنی ٹاپ میں 15 غیر قانونی ڈھانچے منہدم کیے گئے جبکہ کئی دیگر کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک دیا گیا۔ ویری ناگ میں چار غیر مجاز تعمیرات پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
دودھ پتھری سب سے زیادہ تشویشناک علاقہ بن کر سامنے آیا جہاں 147 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی ہوئی، جن کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے اور ایف آئی آر درج کی گئی۔ سونمرگ میں پانچ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بھدرواہ میں 358 نوٹس جاری کیے گئے۔حکومت کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے خلاف سیلنگ، انہدام، جرمانے اور قانونی کارروائی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی معاملات میں مزید کارروائی زیر عمل ہے۔