عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ حکام نے جمعہ کے روز ایچ ایم ٹی سرینگر کے علاقے میں غیر لیبل شدہ شہد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 725 کلو گرام شہد ضبط کر لیا، جس پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ اور تیار کنندہ کی تفصیلات درج نہیں تھیں۔
(ڈی ایف سی او) نے خبردار کیا ہے کہ بغیر لیبل کے غذائی اشیاء کی فروخت غیر قانونی ہے اور یہ عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ محکمہ نے واضح کیا کہ کشمیر کی منڈیوں میں غیر محفوظ خوراک کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
جاری بیان میں ڈی ایف سی او کے ترجمان نے کہا کہ مخصوص اطلاع ملنے پر فوڈ سیفٹی انفورسمنٹ وِنگ نے ایچ ایم ٹی کے ابان شاہ علاقے میں ہدفی معائنہ کیا، جہاں تقریباً 725 کلوگرام شہد بغیر قانونی لیبلنگ کے ذخیرہ کیا گیا تھا، جسے موقع پر ضبط کر لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسٹاک پر لازمی تفصیلات درج نہیں تھیں، جن میں پروڈکٹ کا نام، خالص مقدار، پیکنگ/تیاری کی تاریخ، بہترین استعمال کی مدت یا میعاد ختم ہونے کی تاریخ، تیار کنندہ یا پیکر کا نام و پتہ، ایف ایس ایس اے آئی لائسنس نمبر اور (جہاں قابل اطلاق ہو) ذخیرہ کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجزیاتی جانچ کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ڈی ایف سی او نے فوڈ بزنس آپریٹرز کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر لیبل شدہ غذائی اشیاء کی فروخت قانوناً جرم ہے اور اس سے عوام کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
محکمہ نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مشتبہ یا غیر لیبل شدہ خوراک کی اطلاع فوری طور پر فوڈ سیفٹی ہیلپ لائن نمبر 104 پر دیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پیک شدہ خوراک پر تیار کنندہ کی مکمل تفصیلات، تاریخِ پیکنگ اور استعمال کی آخری تاریخ درج ہونا لازمی ہے۔ یہ کارروائی کشمیر کی منڈیوں میں غیر محفوظ اور غیر معیاری خوراک کے خلاف محکمہ کی سخت پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔
ایچ ایم ٹی سرینگر میں 725 کلو غیر لیبل شدہ شہد ضبط، محکمہ صحت کا الرٹ جاری