عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز بتایا کہ سال 2025 کے دوران سکمز صورہ ،جی ایم اسی جموں اور جی ایم سی سرینگر میں مجموعی طور پر تقریباً 10 ہزار کینسر کیسز درج کیے گئے۔حکومت کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں صرف سکمز صورہ میں 16 ہزار سے زائد کینسر کیسز رجسٹر ہوئے ہیں، جو خطے میں کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولیات میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ایم ایل اے احسن پردیسی کے سوال کے جواب میں وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نےبتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران سکمز صورہ میں تقریباً 16 ہزار کینسر کیسز درج کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اسٹیٹ کینسر انسٹییٹوٹ کو 4 فروری 2023 سے مرحلہ وار فعال بنایا جا رہا ہے۔ سکمز صورہ میں 100 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ نیشنل پروگرام برائے انسداد کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور فالج (NPCDCS) کے تحت مرکزی فنڈنگ سے قائم کیا گیا، جس کے لیے 120 کروڑ روپے صرف انفراسٹرکچر کے لیے منظور کیے گئے تھے۔ اگرچہ اس ادارے کا افتتاح 5 دسمبر 2020 کو کیا گیا تھا، تاہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا عمل ابھی جاری ہے۔وزیر موصوفہ نے بتایا کہ اس وقت ادارے کا تقریباً 80 فیصد حصہ فعال ہے اور عملہ مرکزی ہسپتال سے تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ڈاکٹروں، نرسنگ اسٹاف، پیرا میڈیکل، ٹیکنیکل اور معاون عملے کی مستقل تقرری کی تجویز حکومت جموں و کشمیر کے زیر غور ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سکمز صورہ میں 2023 کے دوران 5,108 کیسز، 2024 میں 5,387 (5.4 فیصد اضافہ) اور 2025 میں 5,791 کیسز (7.5 فیصد اضافہ) درج کیے گئے۔جی ایم سی جموں میں 2023 میں 1,767 کیسز، 2024 میں 2,206 اور 2025 میں 2,569 کیسز رجسٹر ہوئے۔جبکہ جی ایم سی سرینگر میں 2022 میں 1,159، 2023 میں 1,640، 2024 میں 1,659 اور 2025 میں 1,558 کیسز درج کیے گئے۔سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ رپورٹ شدہ کیسز میں معمولی اضافہ لازمی طور پر کینسر کی شرح میں حقیقی اضافے کی عکاسی نہیں کرتا، کیونکہ بہتر تشخیصی سہولیات اور جدید ٹیسٹوں کی دستیابی سے کیسز کی نشاندہی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور انتظار کے وقت میں کمی کے لیے تشخیصی خدمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔ سکمز میں PET اسکین کی تعداد 2024 میں 1,410 سے بڑھ کر 2025 میں 2,250 ہو گئی ہے۔سکمز بطور ریاستی سطح کا اعلیٰ ترین طبی مرکز، دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو جدید تشخیص اور سرجری کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہجی ایم سیجموں میں بائیو کیمسٹری اور پیتھالوجی ٹیسٹ بغیر تاخیر کے کیے جا رہے ہیں، جبکہ PET اسکین رپورٹس عموماً 3 تا 4 دن میں فراہم کی جاتی ہیں۔ دستیاب نہ ہونے والی تحقیقات کے لیے متعلقہ ہسپتالوں کو ریفرل پروٹوکول کے تحت بھیجا جاتا ہے اور سہولیات کو مرحلہ وار مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جی ایم سی سرینگر میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ سمیت جامع کینسر علاج اور سرجری کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیر صحت نے بتایا کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم نے حال ہی میں جی ایم سی سرینگر کے لیے 16 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی PET اسکین مشین کی خریداری کی انتظامی منظوری دی ہے، جو JKMSCL کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اس اقدام سے تشخیصی اور علاج کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
جموں و کشمیر میں گزشتہ سال 2025کے دوران 10 ہزار کینسر کیسز درج، گزشتہ تین برسوں میں سکمز صورہ سرفہرست