سرینگر //جواہر لال نہرو میموریل اسپتال اور کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں زیر علاج 4کورونا وائرس مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے دونوں اسپتالوں میں عام لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے جسکی وہاں سے سونہ وار اور رعناواری کے علاوہ دیگر علاقوں میں رہنے والے عام مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وبائی بیماری سے قبل دونوں اسپتالوں میں روزانہ 3ہزار سے زائد مریض علاج و معالجہ کیلئے آتے تھے جبکہ 100سے زائد جراحیاں انجام دی جاتی تھیں لیکن متوقع کورونا وائرس کی دوسری لہر کیلئے دونوں اسپتالوںمیں عام لوگوںکے داخلے پر پابندی ہے ۔ 250بستروں پر مشتمل رعناواری اسپتال میں2کورونا وائرس مریض زیر علاج ہیں جنکی حالت مستحکم ہے جبکہ 80بستروں پر مشتمل کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں بھی 2کورونا مریض زیر علاج ہیں جن میں ایک کی حالت مستحکم جبکہ ایک کو سانس لینے کیلئے آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں تعینات ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا’’ او پی ڈی کھولنے کے حوالے سے حکومت کو آخری فیصلہ لیناہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا ’’ اسپتال میں روزانہ 250مریض ملاحضہ کیلئے آتے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے اسپتال عام مریضوں کیلئے بند ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے کہا کہ اسپتال میں معمول کا کام بحال کرنے کیلئے پرنسپل سے درخواست کی گئی ہے ‘‘۔ رعناواری اسپتال میں عالمی وباء سے قبل روزانہ 2500مریض او پی ڈی میں علاج و معالجہ کرانے آتے تھے جبکہ اسپتال میں 60جراحیاں انجام دی جاتی تھیں۔اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ’’ اسپتال میں کام کرنے والے 300ملازمین بے کار بیٹھے ہیں کیونکہ کوئی بھی عام مریض علاج کیلئے یہاں نہیں آتا ہے ‘‘۔انہوںنے بتایا’’ ستمبر مہینے سے اسپتال خالی پڑا ہے اور اب صرف اسپتال میں 2کورونا وائرس مریض زیر علاج ہیں‘‘۔ فائنانشل کمشنر ہیلتھ اتل ڈلو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’رعناواری میں بے شک صرف 2ہی مریض زیر علاج ہیں لیکن وہاں کورونا وائرس مریضوں کیلئے dialysisکی سہولیات دستیاب ہیں جو اورکہیں نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں بھی لوگوں کو وہاں سخت مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہم آنے والے دنوں میں صورتحال کا جائزہ لیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ وہاں کورونا وائرس سے متاثرہ خواتین کیلئے زچگی کی سہولیات دستیاب ہے لیکن ہمیں وائرس کے طرز عمل کا ابھی کچھ بھی معمول نہیں ہے مگر اُمید ہے کہ ہم دونوں اسپتالوں کو جلد کھولنے کے قابل ہونگے‘‘۔