بانہال//ضلع رام بن میں محکمہ سماجی بہبود سے مالی مدد کیلئے پچھلے قریب دس برسوں سے زیرالتوا پڑے نو ہزار سے زائد کیسوں کو لاک ڈائون کے دوران منظوری دی گئی ہے اور پچھلے دو برسوں سے دس ہزار کے قریب جسمانی طور ناخیز افراد ، بیوائوں اور بزرگوں سمیت دیگر مستحقین کو مختلف سکیموں سے امداد مل رہی ہے ۔ ضلع رام بن کے بانہال ، گول رام بن کھڑی پوگل پرستان راج گڑھ، اور رام بن کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے دس ہزار سے زائد افراد کے کیس فائلیں 2009-10سے دفتروں میں دھول چاٹ رہی تھیں لیکن پچھلے دو برسوں کے دوران دس ہزار میں سے بیشتر مستحقین کے حق میں ماہانہ مالی مدد سمیت دیگر مدعوں اور سکیموں سے امداد کی گئی ہے جبکہ ابھی مزید 4600افراد کی فائلیں منظوری کی منتظر ہیں۔محکمہ سماجی بہبود ضلع رام بن میں نیشنل اولڈ ایج سکیم اور INTEGRATED SOCIAL SECURITY SCHEME اسکیموں کے تحت دس ہزار سے زائد لوگوں کی درخواستیں قریب دس سال تک مبینہ مالی بحران کی وجہ سے بغیر کسی فیصلے کے زیرِ سماعت رکھی گئی تھیں اور اس دوران کئی بیوائیں اور بزرگ محکمہ سماجی بہبود سے سرکاری امداد ملنے کے انتظار میں اس دنیا سے ہی چل بسے ۔ اب محکمہ کا کہنا ہے کہ پچھلے دس برسوں سے زیرالتوا دس ہزار سے زائد کیسوں میں سے بیشتر کیسوں کو پچھلے دو برسوں کے عرصے میں منظوری ملی ہے اور انکی مالی معاونت کی جارہی ہے ۔ ہم نے اس سلسلے میں محکمہ سماجی بہبود کے ضلع آفیسر وحید الرحمان سے بات کی تو انہوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ کووڈانیس کے پچھلے دو برسوں میں نو ہزار سے زائد مستحق افراد کے کیس منظور کئے گئے ہیں اور انہیں مالی معاونت ملنا شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ISSSسکیم میں سے سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اپاہجوں ، بیوائوں، یتیموں اور ناداروں وغیرہ کو مختلف سکیموں کے تحت مدد ملتی ہے اور پچھلے دو سال کے لاک ڈائون کے دوران نو ہزار سے زائد زیر سماعت کیسوں کو مالی منظوری مل گئی ہے۔ وحید الرحمان نے کہا کہ اب حالیہ کیسوں میں سے ساڑھے چار ہزار سے زائد مستحقین نے محکمہ سماجی بہبود کی مختلف سکیموں کے ذریعے مالی اور دیگر مدد اور معاونت کیلئے رجوع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حال میں درخواست دینے والے مستحقین کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے اور جلد ہی انہیں بھی منظور کیلئے اعلی حکام کو بھیجا جائیگا ۔ میرج اسسٹننس سکیم کے تحت دی جانے والی امداد کے بارے میں پوچھے جانے پر ضلع افسر وحید الرحمان نے کہا کہ اس ل سکیم کے تحت 2014 کی سروے کے مطابق غیر شادی شدہ لڑکیوں کو مالی مدد ملی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد کوئی دوسری سروے نافذ العمل نہ ہونے کی وجہ سے اس سکیم سے کم ہی بیٹیاں فائیدہ اٹھا پارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2014کے بعد2017میں ایک اور سروے کی گئی تھی لیکن سرکاری طور حتمی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے اس سروے کو علملایا نہیں جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019میں لگے لاک ڈائون سے اب تک نو ہزار سے زائد نئے مستحق لوگوں اور کنبوں کو رائج سرکاری سکیموں سے فائیدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018-19 سے موجودہ مالی سال تک 9465 نئے مستحقین کو ماہانہ ایک ہزار روپئے کے حساب سے رقم ان کے بنک کھاتوں میں جمع کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک میرج اسسٹننس سکیم کے تحت سماج کی 691بیٹیوں کی 38500روپئے فی کس کے تحت مدد کی ۔