جموں//2002سے لیکر اب تک جموں میں 8فدائین حملے ہوچکے ہیں جن میں 60سے زائد فوجی اہلکاروں و افسران کی ہلاکت ہوئی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنگجوئوں کی طرف سے زیادہ تر حملے علی الصبح کئے گئے ۔ہلاکتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں اہلکار وافسر زخمی بھی ہوئے جبکہ ان کے خاندان کے افراد اور کئی عام شہری بھی ان فدائین حملوں کا شکار بنے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کے حملے سے قبل 2003میں بھی سنجواں ملٹری کیمپ کو حملہ کا نشانہ بنایاگیاجس دوران 12فوجی اہلکار مارے گئے ۔28جون 2003کو دو جنگجوئو ں نے سنجواں میں ڈوگرہ ریجمنٹ کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 12اہلکار مارے گئے جبکہ سات دیگر زخمی ہوئے ۔اس حملے میں ایک لفٹنٹ بھی ماراگیاتھا۔اس سے قبل 14مئی 2002کو کالوچک آرمی کیمپ پر بڑا حملہ کیاگیا جس میں فوج کے 22اہلکار اور ان کے اہل خانہ کے افراد ہلاک ہوئے ۔ آرمی کیمپ پر حملہ سے قبل جنگجوئوں نے ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے سات افراد لقمہ اجل بنے اور کم سے کم پچیس زخمی ہوئے ۔ یہ حملہ تین جنگجوئوں پر مشتمل گروپ نے انجام دیا ۔21مارچ 2015کو صبح سویرے سانبہ میں فوجی کیمپ پر حملہ کیاگیا جس میں تین اہلکار اور ایک عام شہری زخمی ہوا جبکہ چھ گھنٹے تک چلنے والی جھڑپ میں دو جنگجو بھی ہلاک ہوئے ۔22جولائی 2003کواکھنور کے نزدیک علی الصبح ٹنڈا کے مقام پر تین جنگجوئوں نے قائم الیکٹریکل و مکینکل انجینئرز کیمپ کو نشانہ بنایاجس کی وجہ سے چھ اہلکار مارے گئے ۔اس حملے میں 16کارپس ہیڈ کوارٹر کیمپ کے انچارج بریگیڈیئر وی کے گوویل بھی مارے گئے جبکہ شمالی کمانڈ کے سربراہ لفٹنٹ جنرل ہری پرساداسی حملے میں زخمی ہوئے ۔اس دوران اکھنور کی 10ڈیویژن کے جنرل افسر کمانڈنگ میجر جنرل ٹی کے سپرو بھی گرینیڈ حملہ میں زخمی ہوئے جبکہ میجر جنرل ڈی کھنہ اور بریگیڈیئر بلدیو سنگھ بھی زخمی ہوئے اور دوجنگجوئوں کو بھی فوج نے مار گرایا۔29نومبر 2016کو ایک بڑے حملہ میں جنگجوئوں نے نگروٹہ میں واقع فوج کے 16کارپس کے ہیڈ کوارٹر سے 3کلو میٹر دور 166آرٹلری یونٹ کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے دو میجروں سمیت سات فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ جنگجوئوں کو بھی ماردیاگیا۔20مارچ 2015کو پولیس تھانہ کٹھوعہ پر فدائین حملہ کیاگیا جس کی وجہ سے 3سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ۔اسی طرح سے 9جنوری 2017کو اکھنور میں حد متارکہ پر گریف کیمپ کو نشانہ بنایاگیا جس میں تین مزدور مارے گئے ۔