عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور سماجی و معاشی انضمام سے متعلق مجوزہ ’’ری ہیبلیٹیشن اینڈ سوشیو اکنامک ری انٹیگریشن اسکیم فار ڈرگ ابیوز وکٹمز، 2026‘‘کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اسکیم کا مقصد پورے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال سے صحت یاب ہونے والے افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لانے کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔اجلاس میں چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ چندرکر بھارتی، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر کمشنر سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ نے مجوزہ اسکیم کی اہم خصوصیات پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ اسکیم تین سالہ بحالی منصوبے پر مشتمل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں علاج، طبی نگہداشت، مشاورت اور ہر متاثرہ فرد کے لیے انفرادی بحالی منصوبہ (IRP) تیار کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں تعلیم، ہنر مندی، روزگار کے مواقع اور خاندانی بحالی پر توجہ دی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں مسلسل نگرانی، دوبارہ نشے کی روک تھام، کمیونٹی سپورٹ اور مختلف محکموں کے باہمی اشتراک سے متاثرہ افراد کو مستقل طور پر معاشرے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک خصوصی ’’ری ہیبلیٹیشن مانیٹرنگ پورٹل (RMP)‘‘تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے انفرادی بحالی منصوبوں کی نگرانی، مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل، بحالی کے نتائج کی حقیقی وقت میں جانچ اور مستفید افراد کی رازداری کو یقینی بنایا جائے گا۔حکام نے بتایا کہ یہ اسکیم چیف سیکریٹری کی ہدایات پر محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس نے تیار کی ہے، جبکہ محکمہ سماجی بہبود کو اس کا نوڈل محکمہ مقرر کیا گیا ہے۔ ٹاسک فورس میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل تھے، جنہیں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور سماجی و معاشی انضمام کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اسکیم کی تیاری میں ٹاسک فورس کی مشترکہ اور جامع کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحالی کا نظام مربوط، انسان دوست اور نتائج پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد کی مستقل بحالی، سماجی شمولیت اور باعزت روزگار کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ بحالی کے عمل میں کمیونٹی کی شمولیت، خاندانی تعاون، ہنر مندی کی تربیت اور مسلسل نگرانی کو بنیادی حیثیت دی جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی تال میل کو یقینی بنایا جائے اور شفاف نگرانی و مؤثر فیصلوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ اسکیم کا پائلٹ پروجیکٹ ابتدائی طور پر دو سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شروع کیا جائے، جن میں ایک کشمیر ڈویژن اور دوسرا جموں ڈویژن سے منتخب کیا جائے، تاکہ اس کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے اور حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر اسے پورے جموں و کشمیر میں نافذ کیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید ہدایت دی کہ منشیات کے متاثرین کی بحالی کے لیے مخلص اور متحرک افسران کی نشاندہی کی جائے، جبکہ باصلاحیت اور پرجوش خواتین رضاکاروں اور گروپوں کو تربیت دے کر مشاورت اور بحالی کے عمل میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لانے کے لیے کمیونٹی کی فعال شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ رضاکاروں اور دلچسپی رکھنے والے سرکاری ملازمین کو بحالی کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی جائے، جبکہ متعلقہ عملے کی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے پروگرام فوری طور پر شروع کیے جائیں تاکہ بحالی کی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے جامع اسکیم 2026پر پیش رفت، ایل جی منوج سنہا نے جائزہ لیا