بارہمولہ //ضلع بارہمولہ کے چھاندل ٹنگمرگ میں سرکار کی جانب سے 13سال قبل لاکھوں روپے کی لاگت سے قائم ایک پرائمری ہیلتھ سینٹرمکمل ہونے کے باوجود بھی دھول چاٹ رہا ہے اور اس عمارت میںڈاکٹروں و نیم طبی عملے کے بجائے جنگلی جانو ر بشمول بندر،بھالو اور پرندے پائے جاتے ہیں مگر سرکار اس کی طرف سے کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ بدر کوٹ ،رنگوالی ،براری کھوڈ،داراکوشی،زنڈہال،ماچھی گنڈ،چنہ چک،چک پرسراشی ،بومکھل،گنی بابا،وانی گام اور چھاندل کے علاوہ کئی دیہات کے لوگوں کو طبی سہولیات کیلئے ابھی بھی ٹنگمرگ اور کنزر کے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔لوگوں کے مطابق سابق سرکار نے اس پرائمری ہیلتھ سینٹر کو لوگوں کی آسائش کیلئے بنایا تھالیکن 13سا ل گزرنے کے باوجود بھی اسے عوام کے نام وقف نہیں کیا گیا ۔ایک مقامی شہری مشتاق احمدنے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ وہ ہر روز اس عمارت کو دیکھتے رہتے ہیں کہ کب یہ ہیلتھ سینٹر عوام کے نام وقف کیا جائے گا۔ا نہوں نے بتایا کہ اگر اس عمارت کو بہت جلد زیر استعمال نہیں لایا گیا تو یہ کھنڈر میں تبدیل ہو سکتی ہے اور لاکھوں روپے کی لاگت ضا ئع ہو سکتی ہے ۔اس سلسلے محکمہ صحت کے ایک افسر نے بتایا کہ دراصل یہ عمارت محکمہ آر اینڈ بی نے تعمیر کی ہے جو ابھی پوری طرح سے مکمل نہیں ہے اور جونہی یہ عمارت مکمل ہوگی اور آر اینڈبی اسے محکمہ صحت کے حوالے کرے گا تو اسے استعمال میںلایا جائے گا ۔