محمد کفیل
جمعہ اسلامی شعور کی تاریخ میں ہفتے کے تقویمی سلسلے کا نہ تو صرف ایک پڑاؤ ہے اور نہ ہی عبادتِ محض کا علامتی دن بلکہ یہ روحانی روایتوں کی تازگی، اجتماعی شعور کی بیداری اور امت کے فکری توازن کی از سرِ نو تشکیل کا موقع ہے،جس میں انسان اپنی منتشر داخلی کائنات کو یکجا کر کے ایک ایسی مقدس مرکزیت کی طرف بڑھتا ہے جہاں فرد اور جماعت دونوں ایک ہی نور کی لَے میں سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں فرد اپنی تنہائیوں سے نکل کر جماعت کی وُسعت میں آتا ہے اور جہاں جماعت فرد کے اندر چھپے سوالات تک رسائی حاصل کرتی ہے، یہ باہمی ربط در حقیقت اُمّت کی فکری اور روحانی بقاء کے بنیادی ستونوں میں سے ہے۔
یومِ جمعہ کے احکاماتی بیان میں قرآنِ حکیم کے اِس حکم ’’ جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو ‘‘( سورۃ الجمعہ 9)سے مراد محض قدموں کی تیز چال نہیںبلکہ خیالات کی پاکیزگی، ذہنوں کی صف بندی اور دلوں کی سمت آرائی بھی ہے۔ یہ وہ باطنی سفر ہے جو منتشر افکار اور ذہنی غبار کو غسلِ تطہیر دے کر وجود کو ایک نئی فکری سمت اور ایک خوشگوار روحانی سکون عطا کرتا ہے۔ یہی جمالیاتی اور روحانی ہم آہنگی اجتماعِ جمعہ کو محض ایک عبادتی عمل نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ایک اجتماعی فکری ریاضت میں ڈھال دیتی ہے۔ احادیث میں جمعہ کو ’سیدالایام‘ کہا گیا اور اس دن کی بعض ساعتوں کو قبولیتِ دعا کے لیے مخصوص قرار دیا گیا۔ احادیث میں جمعہ کے جن فضائل اور حکمتوں پر روشنی ڈالی گئی، وہ محض عبا د تی ثواب کے بیان تک محدود نہیں بلکہ امت کی فکری تربیت، شخصیت سازی اور اخلاقی رویّہ کی تشکیل کے لیے ایک گہرا اجتماعی نظام بھی ہے۔ دورِ رواں جب انسانی زِندگی حد درجہ تیز رفتار، منتشر اور ذہنی دباؤ سے بھری ہوئی ہے، اجتماعِ جمعہ ایک ایسا موقع ہے جو اُسکے ٹوٹتے ہوئے توازن کو بحال کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبوی ؐاور بعد کے ادوار میں خطبہ جمعہ کبھی رسمی الفاظ کا مجموعہ نہیں رہا بلکہ وقت کے حالات، معاشرتی اصلاح، فکری شعور کی بیداری اور ایمانی وجدان کی تازگی کا مظہر رہا ہے۔خطبۂ جمعہ کا تصوّر صرف نمازِ جمعہ کے ایک لازمی جُز کی حد تک محدود نہیںبلکہ یہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے ایک باشعور رہنما کا وہ فکری پیغام ہے جو امت کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے۔خطبہ جمعہ کا منبر اسی لیے ہمیشہ انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں منبر سے بعض جگہوں پر وہی روایتی معلوماتی تکرار سنائی دیتی ہے جسے سن کر ذہن بیدار ہونے کے بجائے، غفلت کا ہی شکار رہتا ہے۔ روایت پسندی اپنی جگہ درست ہے مگر روایت کو ذہنی جمود بنا دینا اس کی روح اور مقصد سے فکری انحراف ہے۔ منبر کو عصرِ حاضر کے تناظر میں امت کی فکری رہنمائی کا مرکز ہونا چاہیے،ایسا مرکز جہاں سے نہ صرف عبادت کی تلقین ہو بلکہ زندگی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے، اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور عالمی حالات کے ہنگاموں میں وحی اِلٰہی کی روشنی سے ا پنی جگہ تلاش کرنے کا شعور بھی پیدا ہو۔
سوشل میڈیا اور معلوماتی انبار کے اس دور میں آ ج کے نوجوان کا ذہن سوالات سے لبریز ہے۔ وہ تاریخ، سیاست، مذہب، اخلاق،شناخت اور مستقبل کے حوالے سے شبہات میں مبتلا ہے۔ اس کے سامنے مختلف بیانیے گتھم گتھا ہیں اور وہ نہیں جانتا کہ کس سمت سوچے، کس جانب قدم رکھے۔ اگر خطبہ اس کے سوالات کو نظر انداز کرے، اگر خطبہ محض رسمی عبارتوں تک محدود رہے، اگر خطبہ زندگی کے ان اصل مسائل سے چشم پوشی کرے جنہوں نے نوجوان کے ذہن کو بے سمت کر رکھا ہے تو منبر کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ ایک باوقار خطبہ وہ ہے جو روایت کا احترام، در پیش مسائل کی تفہیم ا ور حقیقت پسندی کا حق ادا کرے۔ وہ ہر نئے سوال سے گریز نہ کرے بلکہ اسے حکمت اور دلیل کے ساتھ سامنے رکھے۔ وہ عبادت کی اہمیت کے تناظر میں یہ بھی سمجھائے کہ عبادت کا اصل مقصد محض حصول ثواب نہیں بلکہ ا نسان کو باشعور، ذمہ دا ر اور با مقصد شخصیت میں ڈھالنا ہے۔خطبہ ا گر اِن فکری سمتو ں کا پاس رکھے تو اجتماعِ جمعہ عہدِ نبوی کی طرح پھر سے ایک عظیم فکری درسگاہ بن سکتا ہے۔
جمعہ کی تیاری بھی اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی عمل ہے۔ یہ صرف لباس، خوشبو یا پاکیزگی کا معاملہ نہیںبلکہ وہ ذہنی آمادگی ہے جس میں انسان دنیا کی ٹوٹ پھوٹ سے کچھ لمحوں کے لیے باہر آ کر ایک پاکیزہ فضا میں سانس لیتا ہے۔ یہ تیاری اس کے اندر موجود لطافتوں کو جگاتی ہے، اس کی سوچ کو صاف کرتی ہے اور اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ منبر کی آواز کو سمجھ سکے، جذب کر سکے اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔ ایسے میں اگر جمعہ کی تیاری کو صرف ظاہری تطہیر تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس کی روح کا انکار ہوگا۔ اصل تیاری وہ ہے جو انسان کے اندر کے خلا کو بھرے، اس کی سوچ میں یکسوئی پیدا کرے اور اسے ایک بہتر انسان بننے کی سمت لے جائے۔
جمعے کا سماجی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب گاؤں، شہر، محلے اوربستیوں کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو یہ منظر سماجی انصاف کی ایک عملی تصویر بن جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جس میں دولت مند اور غریب، تعلیم یافتہ اور ان پڑھ، طاقتور اور کمزور سب ایک سطح پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس میں اسلام کے اس اصول کی جھلک ملتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور نیت سے ہے نہ کہ اس کے مادی وسائل سے۔ یہی مساوات کا تصور اجتماعی زندگی کا بنیادی ستون بنتا ہے۔ اگر جمعہ کی صفیں خلوص سے بھری ہوں تو معاشرے میں سخت ترین فاصلے بھی پگھل سکتے ہیں۔معاصر دنیا میں جہاں مسلمان مختلف بحرانوں سے گزر رہے ہیں، سیاسی انتشار، معاشی دباؤ، ثقافتی الجھاؤ اور عالمی چیلنجوں کے طوفان،جمعہ ایک ایسا موقع ہے جو ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو جوڑ سکتا ہے۔ خطیب اگر حالاتِ حاضرہ کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہوئے امت کو علم، حکمت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دے تو یہ امت اجتماعی طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم جذبات میں بہت جلد بہہ جاتے ہیں، لیکن عقل اور حکمت کی روشنی کمزور پڑ رہی ہے۔ جمعہ اسی حکمت کو از سرِ نو جگانے کا دن ہے۔جمعہ انسان کو یہ یقین بھی دیتا ہے کہ اس کی زندگی محض حادثات کی بھول بھلیاں نہیں۔ ہر جمعہ ایک نئی ابتدا ہے۔ ایک ایسا نقطہ جہاں سے انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنے اعمال کی اصلاح کرتاہے اور اپنے رب کے سامنے ایک عاجز ی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی احساس اسے قوت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے اور اس کی زندگی کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔یومِ جمعہ محض ایک مخصوص عبادت کا دن نہیں، یہ ایک تہذیبی روایت،ایک روحانی تجربہ، ایک فکری تربیت،اور ایک اخلاقی نظام کا نام ہے۔ یہی وہ دن ہے جو فرد کو اس کی شناخت سے روشناس کراتا ہے، اسے اس کی ذمہ داری کا پابند بناتا ہے اور اسے اس عظیم امت کا حصہ بناتا ہے جس کی بنیاد توازن، حکمت اور عدل پر قائم ہے۔
رابطہ۔ 8299892440