شاعر ی کے قواعد اور اصولوں سے کچھ خاص واقفیت نہیں بلکہ جب بھی کوئی شعر لکھا تو محض لیے اور آواز پر لکھا۔ بہرحال اپنے ہی کچھ اشعار سے اس قسط کی ابتدا کررہا ہوں ؎
ترے پھونکوں سے وہ بجھیں گے کیا نادان
جن چراغوں کا ہوا ہی ہو ایندھن
ترے غصے کا تنور تیری دوزخ ہےْ
خود ہی تو نے بنایا خود کو جو ایندھن
مجموعی طور ایک سماج ہی ایک آدمی کے لئے اصل استاد ہوتا ہے۔ سماج کیا ہے؟ سماج درحقیقت کلچر کا ہی دوسرا نام ہے۔ جس طرح کا آپ لوگ سماج بناتے ہیں، اسی طرح کا کلچر بنتا ہے، اور یہی کلچر انسانوں کی تربیت اور پرورش کرتا ہے۔ کلچر کا ہی ایک اور نام ماحول بھی ہے۔ اگر آپ کا سماج کورپٹ افراد سے بھرا پڑا ہے تو اس میں جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ جیسے اولولعزم لوگوں کے اُبھرنے کی اُمید رکھنا عبث ہے۔ ہاں کبھی کبھی قدرت کے کچھ کرشمے عموم کے خلاف ظاہر تو ہوتے ہیں مگر فطرت کا اصول یہی ہے کہ لیموں کے پیڑ سے کٹھا میوہ ہی نکلتا ہے اور آم کے پیڑ سے میٹھا میوہ ہی اُگتا ہے۔ قدرت کے لئے مشکل نہیں کہ کبھی لیموں کے پیڑ سے کوئی میٹھا سنگترہ بھی اُبھارے، مگر عام حالات میں قدرتی مظاہر قواعد کے ہی تابع ہوتے ہیں اور یہی سنت اللہ ہے ۔لکھتے لکھتے امجد اسلام امجدؔ کے یہ کچھ اشعار یہاں قلم بند کر نے کو جی چاہا ؎
اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون
کس سے مکالمہ ہے ! پس ِ گفتگو ہے کون
سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں
مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون
ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تو سوال
تجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تو ہے کون
آنکھوں میں رات آ گئی لیکن نہیں کھلا
میں کس کا مدعا ہوں؟ مری جستجو ہے کون
ہونا تو چاہیے کہ یہ میرا ہی عکس ہو
لیکن یہ آئینے میں مرے روبرو ہے کون
کورپشن کے معانی ہم نے بہت محدود کردئے ہیں۔ ہمارے نزدیک کورپٹ کا عام معنی رشوت خوری ہے مگر کورپشن کی اصطلاح کے معانی وسیع ہیں۔ کورپشن بددیانتی کا نام ہے۔ اگر کوئی کسی منصب و رتبے کے لائق نہیں ہے اور وہ اس پر مسلط ہے تو وہ کورپٹ ہے، کیونکہ وہ اس رتبے اور منصب کی امانت سے خیانت کررہا ہے۔ اگر کوئی سماج میں ہورہی برائیوں پر خاموش ہے تو وہ کورپٹ ہے کیونکہ وہ اپنی خاموشی کے سبب اس بددیانتی میں شریک ِکار ہے۔ اگر کوئی سیاسی، دینی، انتظامی اور سماجی منصب پر براجمان ہونے کی قابلیت نہیں رکھتا مگر پھر بھی اس منصب پر ہے تو وہ کورپٹ ہے۔ عہدے قوم کی امانت ہوتے ہیں اور اگر یہ وہ آدمی سنبھالتا ہے جو اس کے لائق نہیں تو وہ خائن ہے۔ کسی آدمی کی اجازت کے بغیر اس کی بے خبری میں اس کی تصویر اُتارنا یا اس کی ویڈیو بنانا بھی خیانت ہے اور کورپشن ہے۔ ہمارےدین کا مغز امانت ہے، جو اس کے معانی سمجھ سکا وہی صوفی وصافی ہے۔ یہ زندگی آپ کے پاس امانت ہے۔ یہ دینی، انتظامی، سماجی، سیاسی عہدے آپ کے پاس امانت ہیں، یہ زمین آپ کے پاس امانت ہے، یہ دریا، یہ پیڑ پودے، یہ جنگل ایک امانت ہے، تم خود ایک دوسرے کے لئے امانت ہو، یہ عقل تمہارے پاس امانت ہے، یہ صحت تمہارے پاس امانت ہے، یہ سماج کے معذور لوگ، بچے بوڑھے تمہارے پاس امانت ہیں، ڈاکٹر کے لئے ڈاکٹری کا پیشہ امانت اور انجنئیر کے لئے انجنئیری امانت ہے، استاد کے پاس درس و تدریس امانت ہے۔ ہر آدمی امین ہے اور جو امانت سے خیانت کرتا ہے وہ کورپٹ ہے۔ اگر سماج امانت کی ذمہ داریوں سے واقف ہے تو کلچر بھی نیکیوں اور خوبیوں کا امین ہوگا۔
میرے بچپن میں سالگرام نام کا ایک کشمیری پنڈت واٹر ورکس ڈیپارٹمنٹ میں افسر تھا۔ اس کی دیانت داری بڑی مشہور تھی۔ بتایا جاتا ہے اس نے ایک دن اپنی بیوی کو نل سے پانی ضائع کرتے دیکھا تو اس پر پانچ روپے جرمانہ عائد کیا اور پھر وہ رقم واٹر ورکس ڈیپارٹمنٹ میں جمع کردی۔ بچپن میں یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ایک دن اس وقت کے جموں کشمیر کے وزیراعظم بخشی غلام محمد بجبہاڑہ سے سرینگر آرہے تھے تو سڑک پر بس کے انتظار میں سالگرام کو دیکھا۔ چونکہ بخشی غلام محمد بھی اس کو جانتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے، انہوں ڈرائیور کو گاڑی روکنے اور سالگرام کو اس میں سوار کرنے کے لئے کہا۔ سالگرام وزیراعظم کی گاڑی میں تو چڑھا مگر سرینگر میں اُترتے وقت جیب سے ایک روپیہ نکال کر ڈرائیور کو اپنا کرایہ دیا۔ ڈرائیور یہ پیسہ پکڑنے میں تذبذب میں پڑگیا مگر سالگرام بھی نہ مانا۔ پھر بخشی صاحب نے ہی ڈرائیور سے کہا تھا کہ یہ پیسہ پکڑو، یہ اس کے بغیر مانے گا نہیں۔ میرے بچپن میں میونسپلٹی کے ایڈمنسٹریٹر عبدالرشید صاحب تھے۔ ان دنوں ان کی دیانت داری کے قصے بھی عام تھے۔ وہ معروف ای این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر مقبول کے بڑے بھائی تھے۔ میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا ،جب ڈاکٹر مقبول صاحب نے میرا ٹانسل آوپریشن کیا تھا۔ ان دنوں ایسا آپریش موت سے بھی زیادہ سخت اور ڈراؤنا ہوتا تھا۔ جب مجھے آپریشن تھیٹر پر لٹایا گیا تو دو آدمیوں نے میری ٹانگیں پکڑیں اور ایک نے کلائیوں کو اپنی سخت گرفت میں رکھا، ایک نے سیاہ ٹوپی سے میری ناک، آنکھیں اور منہ ڈھانپ دیا اور میں بے آب ماہی کی طرح تڑپنے لگا۔ اس طرح مجھے کلوفارم سے بے ہوش کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب مجھے اسی ٹانسل آوپریشن کی تیاری کی خاطر چیسٹ ایکسرے کے لئے لیا گیا تو ایک کمرے میں رکھا گیا جہاں گھپ اندھیرا تھا اور کئی لوگ فرش پر بیٹھے تھے، کوئی آدمی درد سے چیخ رہا تھا، کسی نے بتایا کی اس کی ٹانگ میں سوئی پھنس گئی ہے۔ مجھ پر گھبراہٹ نے حملہ کیا اور میں رونے لگا۔ میں بھاگ کر کمرے سے باہر آیا۔ باہر میری والدہ میرا انتظار کر رہی تھیں۔ اس نے پوچھا، تمہارا ایکسرے ہوا؟ میں نے کہا نہیں، میں گھبرا رہا ہوں۔ اس نے مجھے بہت دلاسہ دے کر واپس اس کمرے میں بھیج دیا۔ (اے میرے مولی، اے میرے رب! میرے ماں باپ پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے مجھے بچپن میں رحمت و شفقت سے پالا تھا۔ اپنے حبیب کے صدقے ان کو اپنے سایۂ عافیت میں رکھ)۔
محسن نقویؔ کے یہ اشعار بھی یاد آرہے ہیں ؎
کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر
کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں
کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی ؟
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
نا پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا
کہ میں تو خود اپنے گھر میں دو گھڑی رہا ہوں
جن دنوں میں اسلامیہ ہائی سکول، راجویری کدل، شہر خاص سرینگر میں پڑھتا تھا ،اُن دنوں ایک تو وہاں دینیات ایک مضمون کے طور پڑھائی جاتی تھی اور جامع مسجد سرینگر میں ظہر کی نماز ادا کرنا لازمی تھا۔ وہاں مسجد میں باضابطہ طور پر طلبا کی حاضری دیکھی جاتی اور جو سٹوڈنٹ غیر حاضر پایا جاتا اُسے اگلی صبح سکول میں سزا دی جاتی تھی۔ اس وقت یہ مضمون لکھتے وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے وہ تصویر گھوم رہی ہے کہ مشتاق (وہ میرا کلاس فیلو تھا۔ اصل نام مشتاق احمد خان ہے اور بعد میں انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا)، ہے اور ہم دونوں جامع مسجد کے وضو خانہ میں وضو بنارہے ہیں۔ بہرحال ان دوستوں میں کئی اللہ کو پیارے ہوگئے اور جو حیات ہیں ان سے رابطہ نہیںاور بہت سارے ساتھیوں کے نام یاد نہیں۔ میرے بچپن میں سرینگر کا سارا شہر سات پلوں کے درمیان سمٹا تھا۔ ہمارا سارا خاندان، جس میں میرے والد اور والدہ کے قبیلے والے بھی تھے، نواکدل سے فتح کدل کے درمیان رہتے تھے۔ اسی خطے میں ہماری تقریبا ساری رشتہ داری تھی اور میری ساری دوستی بھی اسی ایریا تک محدود تھی۔ ہم پہلے نوہٹہ میں رہتے تھے۔ سنا ہے سرینگر کے معروف مجذوب ’’لئسی موت‘‘ کا مکان ہمارے مکان کے ساتھ واقع تھا۔ یہ بھی سنا ہے کہ جب وہ میرے دادا جی سے خیریت و عافیت پوچھتا تھا تو بالکل نارمل لگتا تھا۔ اس مجذوب کے بارے میں یہ بات بڑی مشہور ہے کہ کہ ایک دن وہ نوہٹہ میں ہی کسی آہنگر کی دوکان پر گیا جو اس وقت آگ پر لوہے کا کوئی کڑا تاپ رہا تھا۔ وہ کڑا آگ میں تپ کر سرخ ہوچکا تھا۔ ’’لئسی موت‘‘ اس کے پاس گیا اور کہا اس کڑے کو میرے بازو میں پہنادے۔ آہنگر گھبراگیا کیونکہ ’’لئسی موت‘‘ جلالی طبیعت کا مجذوب تھا۔ چنانچہ اس آہنگر نے آگ میں تپا ہوا وہ کڑا ’’لئسی موت‘‘ کو پہنا دیا۔ اس واقعہ کو بڑی شہرت ملی۔ پھر ہم نے خواجہ بازار میں مکان خریدا اور 1956ء تک وہی ہماری رہائش تھی، اس کے بعد کلی مسجد صراف کدل میں نیا مکان خریدا اور پھر 1970ء میں حول سری نگر منتقل ہوگئے۔ میں اپنے بچپن میں تقریبا ًہر دن میں کئی بار اپنے گھر سے اپنے نانیہال کا چکر لگایا کرتا تھا۔ میری ایک پھوپی نوہٹہ میں رہتی تھی اور دوسری نواکدل گرٹہ بل میں تھی۔ میرے تینوں ماموں، نانی اور نانا جی نائد کدل میں رہتے تھے۔ میری والدہ کے چچے اور ماموں خواجہ بازار اور نوہٹہ میں رہتے تھے۔ میرے والد کا چچا اور چچیرے بھائی شہام پورہ نوہٹہ اور خانیار میں رہتے تھے۔بس اسی تھوڑے سے رقبے کے اندر لوگوں کی تمام رشتہ داریاں بھی تھیں اور دوستیاں بھی، اور اسی رقبے کے دائرے میں آپسی رشتے بھی طے ہوا کرتے تھے۔ اب سب بکھر گیا ہے۔ اب کوئی احمد نگر میں ہے اور کوئی ہمہ ہامہ میں ہے۔ میرے بچپن میں باپ کے چچیرے بھائیوں کی اولادوں سے بھی اتنی قربت اور محبت ہوتی تھی کہ ہم باپ کے چچیرے بھائیوں کی اولادوں کو بھی اپنے چچیرے بھائی ہی کہتے تھے اور ایک دوسرے کے گھر بالکل بھائیوں کی طرح آناجانا رہتا تھا۔ اب تو لوگ باپ کے چچا کو بھی نہیں جانتے ہیں تو باپ کے چچیرے بھائیوں کی اولادوں کی بات ہی نہیں۔ اب تو قریبی رشتہ داروں سے یا تو کسی شادی کی تقریب پر ملاقات ہوتی ہے یا تعزیت پُرسی پر۔ پچیس تیس سال پہلے کی بات ہے، مجھے گھنٹہ گھر لال چوک کے قریب اپنی ماموں زاد بہن مل گئی۔ اس کے ساتھ ایک اور جوان لڑکی تھی۔ جب میں اپنی ممیری بہن سے خیروعافیت پوچھنے لگا تو اس کے ساتھ والی لڑکی مجھے اجنبی سمجھ کر ہم سے تھوڑی دور کچھ فاصلے پر جاکر کھڑی ہوگئی۔ میں نے بہن سے پوچھا: یہ لڑکی کون ہے؟ پہلے اس نے کہا: یہ میری سہیلی ہے۔ پھر ساتھ ہی بولی:تم نے اسے پہچانا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ وہ بولی:یہ ہا چھیے دوستہ‘‘۔ کہا یہ 'دوستہ ہے۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوگئی۔ 'دوستہ اس کی چھوٹی بہن ہے، یعنی وہ بھی میری ماموں زاد بہن ہے۔ اب جب کہ ہم ایک دوسرے سے دس بارہ سال کے بعد ملے تھے تو نہ وہ مجھے پہچان سکی اور نہ میں اسے پہچان سکا۔ یہ ہے آج کے قریبی رشتوں کا حال!!! اب جب کہ دس دس پندرہ پندرہ سال کے بعد ملنے کے باعث ہم ممیروں، پھپیروں اور چچیروں کو بھی نہیں پہچان پاتے ہیں تو بھلا ہماری اولادیں ان کے بچوں اور ان کی اولادیں ہمارے بچوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟
اچھی شاعری مجھے پسند ہے مگر خود شاعری کا تجربہ نہیں۔ شاعری کے تجزئے اور تفسیر کا مجھے علم نہیں۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ مجھے لل دید کی شاعری پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ کیوں پیدا ہوا، یہ مجھے آج تک معلوم نہیں بلکہ خود بھی حیرانی ہے کہ ایسا تجسس میرے اندر کیوں کر پیدا ہوا؟ کشمیری شاعری سے یوں بھی میرا کچھ زیادہ شغف نہیں ہے۔ بہرحال میں نے کلچرل اکیڈمی والوں کے ’’کتاب گھ‘‘ لال چوک سے لل دید کی شاعری پر ایک کتاب خریدی۔ اس کو پڑھنے کے دوران مجھے لل دید کے اشعار کے معانی کے انبار دل میں آنے لگے۔ یہ کچھ ایسا تھا جیسے دریا سے بے شمار مچھلیاں اُچھل رہی ہیں اور میں انہیں پکڑنے کی سعی کررہا ہوں۔ میں خود حیران تھا یہ کیا ہورہا ہے! بہرحال، جو جو ’’مچھلی‘‘ ہاتھ میں آئی اس کو پکڑ لیا۔ پھر میں نے لل دید پر ایک کتاب لکھی جو تقریبا ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کے دوران مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے مجھے غیبی مدد مل رہی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بہت برسوں بعد خیال آیا کہ احد زرگرؔ کی شاعری پر ایک مضمون لکھوں۔ جب کچھ حصہ لکھ لیا تو پُراسرار طور ’’کرسر‘‘ واپس گھوم گیا اور وہ سارا مٹ گیا جو لکھا تھا۔ میں نے اسے محض ایک حادثہ سمجھ لیا۔ پھر ایک طویل وقت کے بعد دوبارہ کوشش کی، مگر جب مضمون کا کچھ حصہ لکھ لیا تو دوبارہ ’’کرسر‘‘ پُراسرار طور واپس گھوم گیا اور لکھا ہوا سارا مواد مٹ گیا۔ پھر آگے میں نے کوشش نہیں کی بلکہ لگا کہ مجھے اشارہ دیا جارہا ہے کہ میں اس کام کے اہل نہیں ہوں۔ اس واقعہ کا ذکر ایک دن ظریف احمد ظریف ؔصاحب سے بھی کیا۔
جولائی 1977ء کی 7 ؍تاریخ کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کشمیر میں جنتا پارٹی کے خلاف نیشنل کانفرنس کو غیر متوقع کامیابی ملی۔ جنتا پارٹی کے ایسے گرانڈیل لیڈر لڑھک گئے جن کی ناکامی کا کسی کو وہم وگمان بھی نہ تھا۔ اس غیرمتوقع جیت سے نیشنل کانفرنس کے کچھ کارکن بہت جذباتی ہوگئے تھے اور جوش میں آگئے تھے۔ انہوں نے جیت کا جشن منانے کے لئے بسوں میں چڑھ کر اور پیدل مارچ کر کر کے بڑے بڑے جلوس نکالے۔ بسنت باغ گاؤکدل کے اس دو راہے پر جہاں ایک سڑک نئی سڑک کے علاقے کی طرف جاتی ہے اور دوسری سڑک روگناتھ مندر کی طرف جاتی ہے، وہاں کالج سٹیڈیو نام کی ایک فوٹو گرافی دکان تھی۔ یہ دوکان مشتاق احمد زرگر کے والد صاحب کی تھی۔ یہ وہی مشتاق احمد زرگر ہیں جو بعد میں ایک عسکری تنظیم العمر مجاہدین کا چیف بنے۔ مشتاق احمد زرگر کے والد صاحب بھی مولانا فاروق کے حمایتیوں میں تھے۔ ان کی دوکان کو چند ایک لوگوں نے نقصان پہنچایا تھا۔ میں نہ جانے کس سلسلے میں مائسمہ بازار میں موجود تھا کہ میں نے دو چار لوگوں کے ساتھ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو لمبا گاؤن پہنے ہوئے گاؤکدل کی جانب پیدل جاتے ہوئے دیکھا۔ میں نے ایک آدمی سے پوچھا یہ فاروق صاحب کہاں جارہے ہیں؟ اس نے کہا کہ کالج سٹوڈیو دوکان کو چند ایک لوگوں نے نقصان پہنچایا ہے اور اب فاروق صاحب کالج سٹوڈیو والے کے حق میں اپنی حمایت کا اعلان کرنے اور اس نقصان پر اپنی ناپسندیدگی اور دُکھ کا اظہار کرنے جارہے ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق دل کے اچھے ہیں، بس کچھ نازک معاملات میں ذرا نرم ہیں اور یہی بات مجھے ان کی پسند نہیں۔ بچپن کے وہ حالات بھی مجھے یاد ہیں کہ جب لوگوں کے ’’پھرن‘‘ (کشمیریوں کا مخصوص چوغہ نماپیرہن جو سردیوں میں اہل وطن پہنتے ہیں) آگے سے گھس جاتے تھے تو وہ اس کے گریباں کو آگے سے سی کر پیچھے کی طرف نیا گریباں بنادیتے تھے اور پہننے لگتے تھے۔ اب کچھ اپنی ذات کے حوالے سے عرض کروں گا۔ میرے ایک جگری دوست غازی مشتاق احمد شاہ ہیں، تعلق پلوامہ سے ہے اور وہیں رہائش رکھتےہیں۔ دس بارہ سال ہوگئے ان سے ملے ہوئے۔ میرے کولیگ بھی رہے ہیں۔ 1987ء میں کلچرل اکیڈمی والوں نے پکھرپورہ میں ڈرامہ فیسٹول منعقد کیا تھا جس میں ایک جج مجھے بھی بنایا گیا تھا۔ دیگر دو ججوں میں شبنم قیوم صاحب اور آنجہانی تیج کشن بھان تھے۔ یہ فیسٹول تین دن جاری رہا تھا۔ اس دوران مشتاق صاحب نے ایک دن مجھے لنچ پر اپنے گھر پر بلایا ۔ حق تو یہ ہے کہ تیس سال گزرنے کے بعد بھی اس دعوت کی لطافت آج بھی محسوس ہورہی ہے۔