یادیں ہی تاریخ بنتی ہے اور تاریخ یادوں کا ہی مجموعہ ہوتی ہے۔ یادیں فرد کی بھی ہوتی ہیں اور جماعت کی بھی ہوتی ہیں۔ قوم کی بھی ہوتی ہیں اور اقوام کی بھی ہوتی ہیں۔ میری یادوں میں وہ یادیں بھی سماگئی ہیں جو تاریخ پڑھنے کے دوران میرے شعور کی گہرائیوںمیں اُتر گئیں اور لاشعور میں محفوظ ہوئیں۔ چلئے آج ہم اسلامی تاریخ میں جھانکتے ہیں اور کچھ پرانے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔جس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے بغیر اموی خاندان کے بقیہ حکمرانوں نے اسلام کی اصل روح کو نقصان پہنچایا اور عیش پرستی کو زندگی کا وطیرہ بنالیا اسی طرح عباسی حکومتوں میں بھی ہوا۔ حالانکہ ہارون الرشید کے دور میں مسلم حکومت اس حد تک پھیلی تھی کہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ہارون رشید نے بادل کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر اسے مخاطب ہوکے کہا:’’امطری حیث شت فسیاتینی خراجک‘‘۔
یعنی تیرے جی میں جہاں آئے جاکر برس جا، تیری پیداوار کا خراج بہرحال میرے ہی پاس آئے گا۔
چونکہ روحانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے کی تمام آلودگیاں دولت کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں اور عیاشیاں زر کے ساتھ ہی لپٹی رہتی ہیں، اس لئے اسلامی سلطنت میں مال ودولت کی بہتات کے سبب ساری دنیا کا سامان عیش وعشرت، گانے والیاں، غلام، باندیاں، شعرا اور باقی فنون کے اہل کمال بغداد آپہنچے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حکمران مامون کی شادی وزیر اعظم حسن بن سہل کی بیٹی سے ہوئی تو 19 روز تک شادیانے بجا لائے گئے۔ باراتیوں میں تمام فوجی افسران، شاہی خاندان کے تمام ارکان، خدام، اراکین دولت وغیرہ ہزاروں کی تعداد میں مدعو تھے اور 19 دن تک دعوتوں کا اہتمام تھا۔ اعلیٰ قسم کے مشک وعنبر میں ڈوبی ہوئی کاغذ کی گولیاں فوجی افسران اور عہداران سلطنت پر نثار کی گئیں۔ اب جس مہمان کے حصےمیں جو گولی آئی اور اسے کھول کر دیکھا اس میں نقدی، غلام، کنیزیں، جاگیر، املاک، خلعت وغیرہ کی ایک خاص تعداد لکھی ہوئی تھی اور خزانےکے انچارج کو حکم تھا کہ جونہی تمہیں کوئی یہ کاغذ دے دے تو اسی وقت اسے یہ تمام چیزیں مہیا کی جائیں۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ صرف حضرت سیدنا حسین ؓ نہ تھے جنہوں نے حق کو روشن رکھنے کے لئے اپنا اور اپنے رفقا کے خون کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کیا بلکہ اہل بیت کے جانباز ہمیشہ حق کی علم بلند رکھنے کے لئے باطل سے لڑنے آگے آئے اور راہ حق میں اپنی جانیں قربان کردیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد بھی خاندان نبوت ؐ کے متعدد افراد نے انقلاب کی کوشش کی۔ سیدنا حسینؓ کے بعد ان کے پوتے زید بن علی بن الحسین ؒنے ہشام بن عبدالملک کے مقابلہ میں علم جہاد بلند کیا اور 122ھ میں شہید ومصلوب ہوئے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی خدمت میں دس ہزار درہم بھیجے اور حاضر نہ ہوسکنے پر معذرت کی۔ ان کے بعد بنی حسن میں سے حضرت محمد ذوالنفس الزکیہ (بن عبداللہ المحض ابن الحسن المثنی بن سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ) نے مدینہ طیبہ اور ان کے مشورہ سے ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ نے کوفہ میں منصور کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ ان کی تائید وحمایت میں تھےاور پھر نبویؐ خاندان کے ان دو بھائیوں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔باطل صرف فرعون اور ابوالجہل کی صورت میں ہی سامنے نہیں آیا بلکہ کبھی عبداللہ بن ابی اور کبھی یزید کا روپ بھی اس نے دھار لیا۔ باطل نفاق کا لبادہ پہن کر بھی سامنے آیا اور بظاہر مسلمان نظر آیا مگر درحقیقت وہ منافق تھا۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔
کیا اسرائیل باقی رہ سکتا ہے؟
اللہ مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ شیطان کو بھی دیدی۔ مگر جب پکڑتا ہے تو کہتا ہے:’’میری پکڑ بڑی سخت ہے‘‘۔یہ وعید فرد کے لئے بھی ہے اور جماعت کے لئے بھی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کا تاریخی جملہ بہت مشہور ہے انہوں نے فرمایا: کفر کا معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے، مگر ناانصافی والا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔‘‘ یعنی جس معاشرے میں ظلم وزیادتی کا دور دورہ ہو۔ایسی بات بھی تو نہیں ہے کہ اسلامی سلطنتوں میں صرف حکمران ہی آئے جو عیش پرست تھے اور جنہوں نے محض عیاشیوںمیں اپنی زندگی برباد کردی اور اسلامی شبیہ اور روح کو بہت نقصان پہنچایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اس اُمت میں ایسے علما اور صلحا بھی پیدا کئے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی تعلیم کی نشر واشاعت اور ترتیب وتدوین پر صرف کردی۔ حضرت ابوالحسن ندوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسلامی علما اور صلحا نے دوسرے مذاہب کی طرح اپنے پیغمبر کے بت تراش کر ان کی پرستش نہیں کی بلکہ الفاظ میں اپنے نبی کے شمائل، عادات، طور طریقے اور احادیث محفوظ کرکے تمام عالم انسانیت کو راہ نجات دکھلادی۔
اس وقت جب ایشیا اور افریقہ کے براعظموں کے ساتھ یورپ میں سپین پر بھی مسلم سلطنت پھیلی تھی اور بغداد عیاشیوں اور ناچ نغمہ اور دیگر قسموں کے تقریبا تمام لہو و لہب کا گڑھ بن چکا تھا وہاں علما وصلحا کی موجودگی سے بغداد علم وعرفان کا مرکز بھی بنا رہا جہاں سے دور دور تک اسلامی تعلیمات کو اس کی اصل روح کے ساتھ پھیلانے کی کوششیں شدومد کے ساتھ جاری تھیں۔صحابہ کبار رضوان اللہ عنہم علیہ اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا تھا اور دیکھا تھا وہ انہوں نے سارے کا سارا آگے پہنچا دیا۔ جیسا کہ ایک اسلامی سکالر کا یہ کہنا برحق ہے کہ زمانہ نبوتؐ کے تئیس سال اور آں حضورؐ کی احادیث ایک طرح کا روز کا وظیفہ ٔ حیات تھا جو صحابہؓ نے آگے منتقل کردیا اور پھر علما نے اسے محفوظ کرلیا۔ان بزرگوں نے دین واصلاح کی دعوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنادیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا ایک ایسا نقشہ ہوبہو کھنچا تھا کہ کسی تصویر کی ضرورت ہی نہ رہی تھی۔ان بزرگوں میں جو نام نمایاں نظر آتے ہیں ان میں جنید بغدادیؒ، بشر حافیؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، فضیل بن عیاضؒ، معروف کرخیؒ، سفیان ثوری ؒوغیرہ شامل ہیں۔
جس طرح مسلمانوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا اور ایک ایک بات محفوظ کرلی ہے ،یہ سعادت کسی پیغمبر کی امت کو حاصل نہیں۔ چنانچہ اگر بغداد ایک طرف عیش وعشرت اور مال ودولت کا گہوارہ تھا تو دوسری طرف علما وصلحا احادیث کو جمع کرکے محفوظ کرنے اور اجتہادی اور اسلامی نشرواشاعت کے کاموں میں لگے تھے۔ اس دُھن میں اسلام کے طالب علم کچھ اس طرح مگن وسرشاراور دریائے عشق میں غوطہ زن تھے کہ انہوں نے دنیا کا کونہ کونہ چھان مارا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے چودہ برس کی عمر سے ہی اپنی زندگی اس کام میں لگادی اور بخارا سے لے کر مصر تک سارے ممالک کھنگال ڈالے۔ امام ابو حاتم رازیؒ نے اس کام کے لئے نو ہزار میل پیدل سفر کیا اور پھر میلوں کا شمار کرنا چھوڑ دیا۔ ایک اور محدث نے اندلس، عراق، حجازاور یمن کے مشائخ کی خدمت میں حاضری دے کر احادیث جمح کئے۔ حضرت ابوالحسن ندوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان مخلصین نے صرف حدیث وروایات کے جمع وتدوین پر اکتفا نہیں کی بلکہ درمیانی واسطوں کی بھی تحقیق کی اور ان تمام راویوں کے نام ونشان و تاریخ زندگی اور اخلاق وعادات کو محفوظ کردیا جن کے توسط سے یہ روایات ان تک پہنچی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ احادیث وروایات کے ساتھ ایک نیا علم ’’ اسماءالرجال‘‘ کا وجود میں آگیا۔ ڈاکٹر اسپنگر نے ’’ الاصابتہ فی احوال الصحابتہ‘‘ (حافظ ابن حجر) کے انگریزی مقدمہ میں بالکل صحیح لکھا ہے کہ:کوئی قوم دنیا میں ایسی گزری، نہ آج موجود ہے، جس نے مسلمانوں کی طرح ’’اسماء الرجال‘‘کا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کی بدولت آج پانچ لاکھ شخصوں کا حال معلوم ہوسکتا ہو۔
چلئے آگے بڑھتے ہیں اور یادوں کے سفر کے اور چلتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ عام عادت یہی ہے کہ اکثر وبیش تر فکشن رائیٹر اور شاعر کی زندگی میں کوئی نہ کوئی عورت ضرور ہوتی ہے اور عشق کے بغیر نہ شاعری ڈھنگ کی ہوسکتی ہے اور نہ اس میں گہرائی ہوسکتی ہے۔ ایسا ہی فکشن کے معاملے میں بھی ہوتا ہے۔ ہاں، اگر کسی کی زندگی عشق کے تجربے سے نہ گزری ہو اور پھر بھی وہ شاعر اور فکشن رائیٹر ہے تو منع کون کرتا ہے۔ میرے کہنے کا بس یہ مطلب ہے کہ ہنسنا اسی چہرے پہ جچتا ہے جس کے دانت ہوں۔ اب کوئی بے دانت والا آدمی بھی ہنسے تو منع کون کرتا ہے! ہاں، الا ماشااللہ، کچھ لوگ مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر منور راناؔ اچھی شاعری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پرائی عورت ہی آدمی کا محبوب بنے، محبوب ماں بھی بن سکتی ہے۔ منور راناؔ نے ماں پر بڑی خوبصورت شاعری کی ہےمگر عام عادت وہی ہے جو میں نے آگے بیان کی۔ نوجوانی میں انسان شاعر اور فکشن رائیٹر نہ بھی ہو پھر بھی عام طور طبیعت رومانوی ہی ہوتی ہے۔ ایک رائیٹر دوست نے مجھے ایک دن اپنی جوانی کی یادوں کے حوالے سے کچھ واقعات سنائے اور کہا کہ نوجوانی کا دور جب میری زندگی میں آیا تو ایک لڑکی میرے جی کو اچھی لگی۔ وہ غیر معمولی طور پر حسین تھی اور جسمانی طور بھی صحت مند تھی۔ ایک طویل عرصے تک میں اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا رہا، پیسہ بھی اس پر بہت خرچ ہوا مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔ پھر ایک دن اللہ تبارک و تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے توبہ کی توفیق دی اور میں اپنی مقدور کے مطابق گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا، وہ عورت میرے پاس آئی اور مجھے دعوت دی۔ یہ سن کر میرے پیر سے سر تک آگ لگ گئی۔ ساری خواہشات اُمڈ آئیں۔ ہونٹ کپکپانے لگے۔ ہاتھوں میں جیسے رعشہ کا اثر ہوا۔ میری زبان خشک ہوگئی۔ دل کی دھڑکنیں بہت تیز ہوگئیں۔ زبان میں لڑکڑاہٹ آگئی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کرم سے سنبھال لیا۔ میں نے اس عورت سے ہاتھ جوڑے اور کہا مجھے آزمائش میں مت ڈال، میں کمزور انسان ہوں، لڑکھڑا سکتا ہوں، مجھے چھوڑ، میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لئے بھی دعا کرتا رہوں گا۔ وہ چلی گئی۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا یا اللہ میں بازاری آدمی ہوں، کمزور ہوں، آپ کی آزمائشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، مجھے اپنی حفاظت میں رکھئے۔ پھر داڑھی لمبی کرلی اور خضاب چھوڑ دیا۔ لمبی سفید داڑھی والے کے پاس تو اپنی بیوی قریب نہیں آتی، پرائی کیا خاک آئے گی!!!لمبی سفید داڑھی بڑے فتنوں سے بچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے۔ یہاں میں نے عورت کو جو شاعری سے جوڑ دیا ہے وہ رومانوی شاعری ہے، باقی عقیدتی شاعری یا متصوفانہ شاعری یا اصلاحی شاعری کو عورت کی محبت سے کوئی واسطہ نہیں۔دنیا میں ایسے آدمیوں کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ بڑے خوش قسمت ہیں، ایک وہ جسے خوبصورت، دانا اور وفاشعار بیوی ملے، دوسرا وہ جسے مخلص اور وفادار دوست ملے، تیسرا وہ جسے کامل تندرستی ملے، چوتھا وہ جسے دل کا اطمینان اور دماغ کا سکون نصیب میں آئے۔ جس آدمی کو ان چار میں سے کوئی چیز نہیں ملی تو وہ زندگی کا لطف نہیں لے پاتا۔ اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ خدا کے فیصلے پر راضی رہے، اور اُمید رکھے کہ کبھی نہ کبھی اللہ کی رحمت جوش میں آئے گی۔ پھر اگر یہاں کچھ راحت نہیں تو یقین رکھیں کہ وہ دن آنے والا ہے جب فیصلے حق کے ہوں گے۔
بہت سی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جنہوں نے اپنی وفا شعاری، دانائی اور حسن سلوک سے اپنے شوہر کو راحت پہنچائی ہے اور اپنے لئے اللہ کی رضا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کی ہے۔ تقریباً چالیس سال پہلے کی بات ہے۔ ہمارا دفتر گوگجی باغ میں تھا۔ ہمارے دفتر کے ساتھ ایک اور مکان تھا جس میں ایک جوان جوڑا رہتا تھا۔ میاں بیوی دونوں بہت خوبصورت تھے مگر پھر اس جوان مرد کو ایک حادثہ میں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی اور اس کی دونوں ٹانگیں بے کار ہوگئیں۔ اس نے اپنی جواں سالہ بیوی کو اصرار کیا کہ وہ اس سے طلاق لے لے اور کہیں اور شادی کرکے زندگی خوشحال طریقے سے گزارے اور ایک اپاہچ کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی برباد نہ کردے، کیونکہ وہ ابھی جوان ہے، خوبصورت ہے اور اس کے آگے ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ وفاشعار بیوی نے انکار کردیا اور کہا کہ یہ حادثہ مجھ سے بھی ہوسکتا تھا تو کیا تم مجھے اس کے بعد چھوڑ دیتے؟ پھر ہم اپنے دفتر کی کھڑکی سے دیکھتے تھے کہ وہ کس طرح اپنے خاوند کو نہایت پیار سے سنبھالتی تھی اور اس کی خدمت کرتی تھی۔ وہ اس کے سر میں کنگھا کرتی، اسے نہایت صاف ستھرا رکھتی اور وہیل چیر پر گھماتی رہتی تھی۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایسے اوباش قسم کے لوگ بھی جو اپنی بدنظری میں خاصا بدنام تھے، اس عورت کے لئے اپنے دل میں تعظیم اور احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔ ضروری نہیں کہ جو عورت ہمیں بری نظر آئے وہ واقعی بری ہو اور جو ہمیں اچھی لگے وہ واقعی اچھی ہو۔ حضرت لوط علیہ السلام نبی تھے مگر قرآن گواہ ہے کہ آپ ؑ کی بیوی کو کافروں سے رابطہ تھا، پھر وہ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے قہر کی زد میں آگئی۔ معروف فلم اداکار دلیپ کمار کی بیوی سائرہ بانو یوں تو بہت سے لوگوں کو اس کے فلم شعبہ سے وابستہ رہنے کے سبب اچھی نہ لگتی ہوگی مگر وہ اپنے خاوند کے لئے کیسی وفاشعار ثابت ہوئی ہے کہ قابل ستائش اور قابل تعریف ہے۔ شوہر کی جس طرح وہ خدمت کرتی رہی ہے، ایسا کسی بہت نیک خاتون سے ہی توقع ہوسکتی ہے، مگر کچھ ایسی بھی ہیں کہ بے وقوف ہوتی ہیں۔ کچھ کم بے وقوف ہوتی ہیں اورکچھ ڈگری کے اعتبار سے ریکارڈ توڑ ہوتی ہیں۔ ایک دوست کے بارے میں دوسرے دوستوں سے سنا تھا کہ اُس کی بیوی سیانی ہے۔ اشتیاقاً جب میں اُس دوست سے ملنے اُس کے گھر گیا تاکہ کسی سیانی عورت کے دیدار سے مشرف ہوسکوں اور مرنے سے پہلے کسی سیانی عورت کو دیکھنے کی حسرت دل سے نکل جائے تو دیکھا کہ میرا دوست مصلے پر بیٹھا آنکھیں بند کئے ہوئے اللہ سے دعا مانگ رہا ہے: اے میرے رب! آپ نے جوانی دی اور پھر واپس لے لی، پیسے دئے پھر واپس لے لئے، مگر میری بیوی کے بارے میں یہ تاخیر کیوں! چنانچہ میں اُلٹے پاؤں واپس ہوآیا۔ ایک دن ایک پیر صاحب کو دیکھا کہ وعظ میں فرمارہے ہیں کہ صدقہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں۔ اس پر مجلس سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور پیر صاحب سے پوچھا: حضرت !کیا وہ بھی جس سے نکاح ہوا ہو؟ میرا ایک دوست ہے۔ میں نے اسے چلہ کلاں کی ٹھٹھرتی سردی میں پلاسٹک کی چپل لگائے سڑک پر چلتے دیکھا تو بہت افسوس ہوا۔ میں اُس کے قریب گیا اور پوچھا کہ ارے یار! یہ اپنا کیاحال بنا رکھا ہے،؟اس سخت سردی میں پلاسٹک چپل پہن کے کہاں جارہے ہو؟ وہ بولا: میرے بھائی اب وہ استعداد ہی کہاں ہے کہ جوتا خرید سکوں؟ میں بہت حیران ہوا تو پوچھا، مگر تمہاری تو دوکان سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے! وہ بولاتُو صحیح کہہ رہا ہے، بات دراصل یہ ہے کہ اپنی زبان دراز بیوی کو سبق سکھانے کی خاطر ایک غیر ریاستی عورت سے دوسری شادی کرلی، شادی کے بعد دریافت ہوا کہ اسے بکرے کے پائے کھانے کا ایسا چسکا پڑا ہے کہ اگر کبھی ناغہ ہوا تو اُس پر پاگل پن کا دورہ پڑتا ہے اور وہ گھر میں برتن اور دوسری چیزیں توڑنا شروع کردیتی ہے، حد تو یہ ہے کہ روزانہ بیس پچیس پائیوں کے بغیر اُس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں رہتا، جو کماتا ہوں وہ قصائی لے جاتا ہے، آج اُسے پھر دورہ پڑا ہے! میں نے پوچھااب کیا ڈاکٹر کو بلانے جارہے ہو؟ وہ آہ بھر کر بولا نہیں، پائے خریدنے! یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ دوستی کے حوالے سے ایک قصہ پڑھا ہے۔ یہ یاد نہیں کہ آیا یہ واقعہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے ملفوظات میں پڑھا ہے یا کہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ’’احیاء العلوم‘‘ میں درج ہے کہ ایک دوست نصف شب کے وقت اپنے دوست کے گھر گیا۔ دروازے پر صدا دی تو دوست نے اندر سے پوچھاکون ہے؟ صدا دینے والے دوست نے نام بتایا۔ اندر سے دوست نے دروازہ کھولنے میں تھوڑا سا وقت لگایا۔ جب اندر سے دوست نے دروازہ کھولا تو اس دوست نے گلہ کیا کہ تم نے دروازہ کھولنے میں دیر لگائی۔ دوسرے دوست نے کہا ایسی بات نہیں ہے، جب تمہیں نصف شب کو اپنے گھر کے دروازے پر پایا تو میں نے سوچا کہ اس وقت تمہارا میرے پاس آنا کسی ضرورت اور مجبوری کے باعث ہی ہوسکتا ہے، پھر میں نے سوچا وہ کیا مجبوری یا ضرورت ہوسکتی ہے، چنانچہ خیال آیا کہ یا تو تمہیں پیسوں کی ضرورت ہوگی اور میں اس تھیلی میں تمہارے لئے دس ہزار درہم لے آیا ہوں، پھر سوچا کہ یا تمہیں اس وقت کسی عورت کی ضرورت ہوگی اور میں نے اپنی کنیز کو بیدار کیا تاکہ اسے تمہارے ساتھ روانہ کرسکوں، پھر یہ بھی سوچا کہ شاید تمہیں کسی دشمن سے خطرے کا اندیشہ ہو اس لئے تلوار بھی ساتھ لے کے آیا تاکہ تمہارے ساتھ جاسکوں۔ یہ سن کر دوسرا دوست مسکرایا اور دوست سے بولا نہیں دوست !ان چیزوں میں سے مجھےکسی چیز کی ضرورت نہیں، بس اس وقت بہت جی چاہا کہ تم سے مل لوں اور کچھ دیر تمہارے ساتھ بیٹھوں۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس آدمی کو زندگی میں ایسا دوست مل جائے پھر اس سے بڑھ کر کون خوش قسمت ہوسکتا ہے؟ جب مکہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصار سے بھائی چارہ( اسلامی اصطلاح میں مواخات ) کرایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے کرایا، تو حضرت سعد نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دوں گا، آپ اس سے شادی کریں، میرا جتنا مال ہے اس کا بھی آپ نصف لیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دونوں باتوں میں کوئی بات نہ مانی، صرف اتنا کہاآپ مجھے بازار دکھادیں اور بس۔ پھر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے جب تجارت شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا کی کہ جب حضرت وفات پاگئے تو اپنے پیچھے اتنا مال چھوڑ گئے جس کی قیمت اس رقم سے زیادہ تھی جو آج ہندوستان کا سالانہ بجٹ ہوتا ہے۔ بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دوست ہوں تو ایسے۔ ورنہ نام کے تو ہر ایک کو درجنوں ہوتے ہیں۔