بلال فرقانی
سرینگر// بارہمولہ میں گزشتہ ماہ زیر تعمیر پل گرنے کے بیچ محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے کرائے گئے ایک جامع ساختی اور کمزوری کے جائزے میں سرینگر اور اس کے ملحقہ علاقوں کے متعدد اہم پلوں، سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو سیلاب، فلیش فلڈ اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کے لحاظ سے حساس قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ کئی پرانے پلوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ بعض اہم عوامی عمارتیں بھی خطرات سے دوچار علاقوں میں واقع ہیں، جس کے پیش نظر فوری مرمت، تفصیلی تکنیکی معائنہ اور حفاظتی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔کشمیر عظمیٰ کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ایگزیکٹو انجینئر آر اینڈ بی پروجیکٹ ڈویژن اول سرینگر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو پادشاہی باغ پل، حیدرپورہ فلائی اوور، نارہ بل نیا پل، نارہ بل پرانا پل، ماگام ولڈ اسٹیل برج، ماگام نیا پل اور کنزر پل کی ساختی جانچ کے دوران ان کی سواری سطح، ایکسپینشن جوائنٹس، بیرنگز، ڈیک اور دیگر اہم حصوں میں خرابیوں اور بگاڑ کی نشاندہی ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پلوں پر برسوں سے جاری بھاری ٹریفک اور موسمی اثرات کے باعث ساختی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر گاڑیوں کی رفتار محدود کرنا پڑی ہے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت جامع مرمت اور ساختی مضبوطی کا کام نہ کیا گیا تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں ان پلوں کا تفصیلی معائنہ، سپر اسٹرکچر اور سب اسٹرکچر کا تکنیکی جائزہ، ایکسپینشن جوائنٹس، بیرنگز، ڈیک سلیب، پیراپیٹس اور دیگر ساختی اجزاء کی مکمل جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔دستاویزات میں شہر کی متعدد اہم سڑکوں کو بھی سیلاب اور پانی جمع ہونے کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ ان میں عزیز برج تا گپکار جنکشن، ڈل گیٹ تا سونہ وار، چرچ لین سونہ وار، ڈل گیٹ سے نشاط تک بلیوارڈ روڈ، لسجن،سوئیہ ٹینگ،پادشاہی باغ روڈ اور ناردرن فورشور روڈ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلیوارڈ روڈ پر کئی مقامات پر حفاظتی دیواریں اور پیراپیٹس متاثر ہوئے ہیں جبکہ لسجن،سوئیہ ٹینگ روڈ کے اندرونی حصوں میں اب بھی پانی جمع ہونے کی شکایات موجود ہیں۔جائزہ رپورٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبے سے متعلق متعدد سرکاری عمارتوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان میں جی بی پنتھ ہسپتال، سی ڈی ہسپتال، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سونہ وار، بوائز مڈل اسکول لسجن، پرائمری سکول گنڈبل، گرلز مڈل سکول سوئیہ ٹینگ، مڈل سکول باغندر، یو پی ایچ سی لسجن، مختلف پنچایت گھر، یو پی ایچ سی ہارون اورگرلز ہائی سکول ہارون سمیت کئی ادارے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ بیشتر عمارتوں کی مجموعی حالت اطمینان بخش قرار دی گئی ہے، تاہم سی ڈی ہسپتال اورپرائمری سکول گنڈبل کی حالت کو خستہ بتایا گیا ہے اور ان کی فوری مرمت اور تکنیکی جانچ کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔ بعض پنچایت گھر زیر تعمیر ہیں جبکہ چند عمارتوں کا مکمل آڈٹ ابھی باقی ہے۔اسی طرح ہارون، دارا، فقیر گجری، ملنار اور دیگر پہاڑی علاقوں کے متعدد سکولوں کو فلیش فلڈ اور پہاڑی خطرات کے اعتبار سے حساس زون میں رکھا گیا ہے، جس سے شدید بارشوں کے دوران ان اداروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں شہر کے دیگر پلوں بشمول ہارون پل، درباغ اہل پل، سکیل ڈب ٹرس گرڈر پل، سید پورہ پل، چندپورہ پل، گنڈتل پل، دمی ہامہ پل، ڈل گیٹ لاک گیٹ پل، پرانا ڈل گیٹ پل، ویتھ پارہ سوئیہ ٹینگ پل، گنڈبل فٹ برج، پانتھہ چوک فٹ برج اور عزیز پل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ان میں بیشتر پلوں کو درمیانی درجے کے خطرے میں رکھا گیا ہے جبکہ ویتھ پارہ سوئیہ ٹینگ پل، گنڈبل فٹ برج، پانتھہ چوک فٹ برج اور عزیز پل کو زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مون سون کے پیش نظر ان تمام پلوں، سڑکوں اور سرکاری عمارتوں کی مسلسل نگرانی، بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔