عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر // بی جے پی نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کو بادشاہت کرنے کیلئے سٹیٹ ہڈ نہیں دیا جائیگا بلکہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کو دیا جائیگا جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔اسمبلی میں بھاجپا اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہامجھے لگتا ہے کہ ہر فرنٹ میں ناکام ہونے کے بعد بہت گہرے سوچ و بچار کے بعد این سی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ددوبارہ سے کشمیر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے پھر کسی معاملے کو ہوا دیں‘‘۔انہوں نے کہا میں پوچھنا چاہتا ہوں’’کب عبداللہ پریوار کیساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ ہم سٹیٹ ہڈ دیں گے، بلکہ سٹیٹ ہڈ ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کو دیں گے، سٹیٹ ہڈ عبداللہ پروار کی بادشاہت کیلئے نہیں دیا جاسکتا‘‘۔
شرما نے کہا’’عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ جب تک بی جے پی حکومت میں نہیں آتی سٹیٹ ہڈ نہیں دیا جاسکتا، لیکن بی جے پی کہتی ہے کہ ویسے بھی ہمیں جوکرنا تھا وہ تو ویسے بھی آپ سے ہی کردیا ہے، ہمیںحکومت بنانے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہمارا مقصد تھا کہ عمر عبداللہ کے منہ سے دفعہ 370 کا لفظ نہ نکلے،کشمیر کے لوگوں کو بتادیا جائے کہ آپ کو سٹیٹ ہڈ ملے گا، اورعمر عبداللہ صاحب اسی لائن پر ہیں‘‘۔شرما نے کہا’’ہم نے کہا تھا کہ عمر عبداللہ 35Aکی بات نہ کرے صرف سٹیٹ ہڈ کی بات کرے،ہم نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے یہاں قتل و غارت گری کی،انکو عمر عبداللہ سیاسی قیدی نہ بنائے،ٹھیک وہ ساری چیزیں اسی حکومت کے دور میں ہوئیں تو ہمیں حکومت کرنے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔ سنیل شرما نے کہا کہ حکومت کرنے دوران غالباً این سی کچھ کمی محسوس کررہی ہے اسی لئے وہ اینی عیش پرستی کے لئے ریاستی درجہ بحالی کی مانگ کررہی ہے ورنہ انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔شرما نے کہا کہ ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ جس خاندان کو جموں و کشمیر کے لوگوں نے لگ بھگ تیسری پیٹری تک اقتدار سونپا ہے،کیا یہ پیٹری در پیٹری لوگوں کیساتھ مذاق کرتے رہیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2024میں جب عبداللہ خاندان اقتدار میں آیا،اور اقتدار میں آنے سے پہلے انہوں نے لوگوں کیساتھ کچھ وعدے کئے تھے، وہ وعدے کہاں گئے، جو ذمہ داری کون نبھائے گا،اس بات پر لوگ سوچنے کو مجبور ہیں کہ جو سرکار لوگوں کی بہبودی کیلئے زمین پر بجلی پانی، سڑک ہسپتال اور باقی چیزوں کیلئے دکھائی دیتی ہے۔ وہ پچھلے دو سالوں سے کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔اسکے بعد جو ان کے وعدے ہیں، ان وعدوں پر بھی کوئی بحث و تمحیض نہیں ہے۔