بلا شبہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے اْس کی سرحدوں پر امن کا قیام لازمی ہوناضروری ہے اور ملک کی عظمت اور عوام کی خوشحالی کا رازمعاشی ترقی میں ہی مضمر ہوتا ہے۔بد امنی ہر صورت میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جو نہ صرف ملک کی پستی اور عوام کے لئے بدحالی کا سبب بنتی ہے بلکہ حکمران کا بیڑہ بھی غرق کردیتی ہے۔ا سی لئے دانشوروں کا قول ہے کہ امن کی طرف راستہ مل جانے کی صورت میں خوف و غفلت کی حالت میں رہنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ امن انسان کی آرام دہ اور فطری حالت ہے جبکہ جنگ اس کا زوال ہے اور جو جنگ و جدل کو امن و امان میں بدل دیتا ہے وہی بہادر اور عقل مند کہلاتا ہے۔
اس امر سے سبھی واقف ہیں کہ بر صغیر کے دو ایٹمی ہمسایہ ملک ہندوستان اور پاکستان جو نہ صرف جغرافیائی قربت رکھتے ہیں بلکہ مذہبی عقائد کے فرق کے باوجود تاریخ، تہذیب، زبان اورثقافت کے حوالوں سے بھی بڑی یکسانیت کے حامل ہیں،مگر بدقسمتی سے ان دونوں ممالک میں آج تک اچھے پڑوسیوں جیسے روابط فروغ نہیں پا سکے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد قریباً 75سال کے بیشتر حصے میں یہ دونوں پڑوسی ملک باہمی تعلقات کی کشیدگی میں ہی رہے ہیں۔دونوں پڑوسیوںکے درمیان باہمی مخاصمانہ پالیسی ، متعصبانہ رویہ اور غیر سنجیدہ حکمت عملی آج تک دونوں ممالک کے لئے زبردست نقصان دہ ثابت ہوچکی ہے۔الزام کا جواب الزام اورجارحیت کا جواب جارحیت کی حکمت ِ عملی سے جہاں دونوں ملکوںکو رسوائی اور ناکامی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے وہیں پرْامن مذاکرات کے ذریعے سے تنازعات کا تصفیہ اور پائیدار امن کے قیام سے بھی دور کرکے رکھ دیا ہے۔اب جبکہ حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی پابندی کو یقینی بنانے کی خاطرایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اب دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی کوششیں ہورہی ہیںتو دونوں ملکوں کے عوام خاص طور پر ایل او سی کے آر پار رہنے والے لوگوں نے سرحدی جنگ بندی کا خیر مقدم کرکے دونوں ہمسایہ ملکوں سے باہمی تمام حل طلب امور بات چیت سے طے کرنیکی کوششوں کو آگے بڑھانے اور امن کے لئے مزید پیش رفت کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی مانگ کی ہے۔چنانچہ یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں سے آنے والے بیانات کے تلفظ کی تْندی میں بھی کمی آئی ہے جبکہ ایل او سی یا سرحدوں پر بھی تا حال خلاف ورزی کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔جس سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید کمی کے امکانات روشن ہورہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی واضح کیا ہے کہ معاشی ترقی کیلئے سرحدوں پر امن کا قیام ضروری ہے۔اسی طرح پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ماضی کی تلخیوںکو دفن کرکے مستقبل کی طرف آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بھی واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے اور ہمارے باہمی تنازعات اْن کی غربت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ ہندو پاک کے بہتر تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو قریب لاسکتے ہیں ۔ پاکستان کے حکمران اورفوجی سربراہ کے بیانات سے یہ بات اْبھر کر سامنے آجاتی ہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتراور مستحکم بنانا چاہتا ہے۔ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسے کا ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان امن،سلامتی اور دوستی کا معاہدہ طے ہوسکے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے ایسے مواقع دستیاب ہیں جن سے دونوں ملک باہمی تعاون کاماحول پیدا کرسکتے ہیںاور پھر باہمی تعاون کو بڑھاوا بھی دے سکتے ہیں۔ دونوں اپنا اپنا وجود اور تشخص برقرار رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میںباہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے موجود مواقع کا فائیدہ اْٹھا سکتے ہیں،بشرطیکہ دونوں اطراف کی ہر بات میں اخلاص اور خوش خلقی ہو۔ظاہر ہے کہ خوش خلقی اور اخلاص سے نہ صرف اعتماد پیدا ہوتا ہے ، رشتے استوار ہوتے ہیں، دوستی پیدا ہوجاتی ہے بلکہ دوستی سے ہی ساری بدخواہی دور ہوکر وفا شعاری کی خصلت اْبھر آتی ہے۔چنانچہ پچھلے تین عشروں کے دوران وقفہ وقفہ کے بعد جب جب ہندوستان اور پاکستان کے لیڈروں کی طرف سے باہمی مفاہمت ،دوستی اور خوشگوار تعلقات کے قیام کا سلسلہ جاری رہا،تب تب اْس کو مزید موثر اور مثبت بنانے کی ضرورت کا اظہار دونوں ملکوں کی طرف سے بار بار دہراتا گیا اورہر بار مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسئلے طے کرنے کا اقرار بھی ہوتا رہا ۔
بغور دیکھا جائے تو پچھلے74سال کے دوران اگرچہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملک اپنے اپنے ملکی معاملات کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات میں بھی بہت آگے بڑھ چکے ہیں لیکن ایک دوسرے کے قریبی ہمسایہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے رقیب ہی رہے ہیںاوراس رقابت کی وجہ سے دونوں ملک مختلف معاملات میں اْن حدود کو حاصل نہیں کر پائے ہیںجن کووہ حاصل کرسکتے تھے۔ظاہر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رقابت کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہی ہے جس کو حل کئے بِنا آج تک دونوں ملکوں کے درمیان چل رہی کشیدگی دور ہوئی ہے نہ دور ہوسکتی ہے۔سچ تو یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دنیا کے بڑے تنازعات میں شامل ہے اور سیاسی و نظریاتی اعتبار سیا نتہائی پیچیدہ بھی ہے۔ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور پاکستان اسے اپنی شہہ رگ جتلاتاہے ۔اگرچہ اپنے اپنے موقف سے مکمل طور پر ہٹ جانا ان دونوں ملکوں کے لئے ممکن نہیں لیکن حل کی طرف جانے کے لئے درمیانی صورتوں کو بروئے کار لانا وقت کا اہم تقاضا بن گیا ہے۔
پچھلے سات عشروں کے دوران مختلف اوقات میںدونوں ملکوں نے اپنی اپنی پوزیشنوں میں تبدیلی لائی تھی اور بعض اوقات کئی بدلائو بھی نظر آئے ہیں۔1950کی دہائی میں ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار نہیں دیتا تھا جبکہ پاکستان کشمیر میں حق خود ارادیت کا حامی تھا۔وقت کے ساتھ ان دونوں کے موقف میںفرق آیا۔1970کی دہائی سے ہندوستان نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا اور پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رَگ جتلاتا رہا۔1989میں کشمیر میں مسلح تحریک اٹھی تو پاکستان نے استصواب ِ رائے میں کشمیر یوں کی آزادی کی اصطلاح زیادہ استعما ل کرنا شروع کردی۔2004-05میں ہندوستان اپنی اٹوٹ انگ کی پوزیشن سے اْس وقت واپس جاتا نظر آیا ، جب سرینگر مظفر آباد بس سروس شروع ہوئی تھی۔اکتوبر2005میں قیامت خیز زلزلے کی سنگینی کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر کنٹرول لائی کھولنے کی پاکستانی تجویز پر ہندوستان نے بھی جذبہ خیرسگالی کا اظہار کیا تاکہ دونوں ملکوںکے زیرانتظام منقسم کشمیری خاندانوںکے افراد ایک دوسرے کے دْکھ درد میں شریک ہوسکیں۔ 2006میں پاکستان کی پوزیشن میں بھی تبدیلی آئی تھی جب پاکستان نے کہا کہ اْس نے کشمیر کو کبھی بھی اپنا حصہ نہیں سمجھا ہے۔اسی طرح ایک زمانے میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے خوشگوار تعلقات کی بحالی پر کہا تھا کہ وہ اْس دن کا انتظار کررہے ہے ہیں جب ہم ناشتہ امرستر میں،لنچ لاہور میںاور شام کا کھانا کابل میں کھائیں گے جبکہ دوسرے دور کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ہندو پاک کی باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے برملا کہا تھا کہ دوست تو بدل سکتے ہیں مگر ہمسایہ نہیں بدل سکتے۔ ایک دور میں کرکٹ ڈپلوسی سے پیدا ہونے والے خوشگوار تعلقات کے دوران پاکستانی فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہندوستان کوچار نکاتی پروگرام بھی پیش کیا تھا۔لیکن ہر دور حل برآمد نہ ہوسکا۔ ظاہر ہے کہ اس معاملے میں دونوں ملکوں کی اپنی اپنی مصلحتیں ہیں ،دونوں ملکوں کے مفادات ہیں،دونوں ملکوں کی سوچ و اپروچ میں اختلاف ہیں۔حالانکہ دونوں ملکوں کے عوام نہ صرف خوشگوار تعلقات کی بحالی کے حامی ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے پْرامن حل کے بھی متمنی ہیںالبتہ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو امن اور دوستی کے تصور سے لرزہ بر اندام ہیں کیونکہ ان کی روٹی روزی کا دارومدار ہی رسہ کشی اور محاز آرائی پر ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا کے بیشتر لوگ جنگ سے ڈرتے ہیں اوران دونوں ملکوں کے کچھ لوگ امن سے خوفزدہ ہیں۔
موجود ہ معاشی بدحالی اورعالمی صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے باہمی کشیدگی ،محاذ آرائی اور دشمنی ختم کرنے کے لئے ایک ہی پٹری پر واپس لوٹنے کی ضرورت ہے اورباہمی تنازعات کے حل کیلئے پیش قدمی کی تائید کرنا لازمی ہے۔پاکستانی اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات میں جو پیغام مضمر ہے ،اْس کا فائیدہ اْٹھاتے ہوئے نئی دہلی کے حکمرانوں کو بھی باہمی مکالمے کی راہ ہموار کرنی چاہئے تاکہ تعلقات معمول پر لانے کی سبیل پیدا ہوسکے۔موجودہ دور کی بدلتی ہوئی صورت حال میں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہندوستان اور پاکستان تمام باہمی معاملات حل کرنے میں مزید تاخیرسے کام نہ لیں ۔ اسی سے دونوں ملکوں کے درمیان دیرپا اور پائیدار امن،دوستی ،سلامتی اور خوشگوار تعلقات قائم رہ سکتے ہیں،معاشی ترقی ہوسکتی ہے اور پورے خطے میں امن و سلامتی کی ضمانت ثابت ہوسکتی ہے۔