عظمیٰ ویب ڈیسک
یورپی یونین (EU) ہندوستان کے اہم اسٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ تیزی سے فروغ پاتے ہندوستان۔یورپی یونین تعلقات مشترکہ جمہوری اصول و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کا احترام اور کثیرالجہتی رویوں کی بنیاد پر قائم ہیں۔ہندوستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1962میں یورپی اکنامک کمیونٹی، جو یورپی یونین کا پیش رو تھا، کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔5واں ہندوستان۔یورپی یونین سربراہی اجلاس تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے گیا۔ 2024میں ہندوستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کی 20ویں سالگرہ منائی گئی۔آج ہندوستان اور یورپی یونین کے کثیرالجہتی تعلقات تجارت و سرمایہ کاری، صاف اور سبز توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، سلامتی و دفاع، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کنیکٹوٹی، خلائی شعبہ اور زراعت سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں ہیں۔
قیادتی سطح پر انہماک
ہندوستان۔یورپی یونین سربراہی اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیرِ اعظمِ ہند اور یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کرتے ہیں۔آخری سربراہی اجلاس جولائی 2020میں ورچول طور پر ہوا۔ہندوستان۔یورپی یونین سربراہان اجلاس کا انعقاد مئی 2021میں پورٹو میں ہوا تھا جس میں یورپی یونین کے 27رکن ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی (وزیرِ اعظم نے ورچول طور پر شرکت کی)۔فروری 2025میں صدراُرزولافان ڈیر لاین کی قیادت میں یورپی یونین کالج آف کمشنرزنے نئی دہلی کا دورہ کیا، جو یورپ سے باہر کسی دو طرفہ شراکت دار کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔صدر اُرزولافان ڈیر لاین نے اُس وقت کے یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کے ہمراہ ستمبر 2023میں جی20 سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا۔صدر اُرزولافان ڈیر لاین نے اپریل 2022 میں ہندوستان کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔فریقین کے رہنما باقاعدگی سے کثیرالجہتی اور کثیر فریقی جیسے کہ جی7اور جی20اجلاس کے موقع پر ملاقات کرتے رہے ہیں، اور حال ہی میں جون 2025میں کینیڈا میں بھی ایسی ملاقات ہوئی تھی۔وزیرِ اعظم نے ستمبر 2025میں صدر اُرزولافان ڈیر لاین اور صدر انتونیو کوسٹا سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔وزیرِ اعظم نے جنوری 2025میں صدر انتونیو کوسٹا سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی تھی۔
وزارتی اور اعلی سطحی انہماک
وزیرِ خارجہ نے نومبر 2025میں نیاگرا میں جی7وزرائے خارجہ اجلاس (FMM) کے موقع پر، ستمبر 2025میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) 2025کے دوران، اور فروری 2025میں جوہانسبرگ میں جی20وزرائے خارجہ اجلاس (FMM) کے موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ/نائب صدر (HRVP) کایا کالاس سے ملاقات کی۔وزیرِ خارجہ نے جون 2025میں برسلز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ/نائب صدر (HRVP) کے ساتھ مل کر ہندوستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے پہلے ایڈیشن کی مشترکہ صدارت کی۔اس دورے کے دوران انہوں نے صدر اُرزولافان ڈیر لاین سے ملاقات کی،یورپی ایوان کے صدر سے ملے؛ تجارت، بین الاقوامی شراکت داری، اور دفاع و خلاء کے امور کے یورپی کمشنرز سے ملاقات کی اور یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔وزیرِ تجارت و صنعت (CIM) آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے جاری مذاکرات کے تناظر میں یورپی کمشنر برائے تجارت کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں اور ایسی آخری ملاقات سی آئی ایم کے برسلز کے دورے کے دوران جنوری 2026 میں ہوئی تھی۔دسمبر2025میں یورپی کمشنر برائے تجارت نے ہندوستان کا دورہ کیا، اس دوران انہوں نے وزیرِ تجارت و صنعت (CIM)، وزیرِ خارجہ، اور وزیرِ خزانہ سے ملاقات کی۔نومبر2025میں، وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے بیلیم میں COP30کے موقع پر یورپی کمشنر برائے موسمیاتی اقدامات سے ملاقات کی۔اکتوبر 2025میں وزیرِ تجارت و صنعت (CIM) نے برلن میں یورپی کمشنر برائے معیشت اور پیداواریت سے ملاقات کی، اور جنیوا میں UNCTAD16کے موقع پر یورپی ایگزیکٹو نائب صدر ٹریسا ریبیرا سے بھی ملے۔ستمبر 2025میں یورپی کمشنر برائے تجارت اور یورپی کمشنر برائے زراعت نے ہندوستان کا دورہ کیا اور وزیرِ تجارت و صنعت (CIM) سے ملاقات کی۔اس دورے کے دوران یورپی کمشنر برائے زراعت نے وزیر برائے غذائی پروسیسنگ انڈسٹریز سے بھی ملاقات کی۔دونوں طرف کے ایوان نمائندگان کے درمیان دورے سمیت باقاعدہ تبادلے ہوتے رہے ہیں۔2025میں ہونے والے ایسے دوروں میں شامل ہیں، یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارت کمیٹی کے اراکین کا اکتوبر میں دورہ، سب پارٹی پارلیمانی وفد، جس کی قیادت روی شنکر پرساد نے کی، کا جون میں برسلز کا دورہ، جس کا مقصد ہندوستان کے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی کے عزم کو اجاگر کرنا تھا، اینجلیکا نیبلر، جو ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی ڈیلیگیشن کی چیئر ہیں، کا مارچ میں نئی دہلی کا دورہ، اور انٹرنل مارکیٹ کمیٹی کے اراکین کا جنوری میں ہندوستان کا دورہ۔
ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل (TTC)
وزیرِ اعظم اور صدر اُرزولافان ڈیر لاین نے تجارت اور ٹیکنالوجی، اور سلامتی کے شعبوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اسٹریٹجک ہم آہنگی کا نظام قائم کرنے کے مقصد سے اپریل 2022میں ہوئے آخری سرکاری دورے کے دوران ہندوستان۔یورپی یونین ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل قائم کرنے کا اعلان کیا۔یہ ہندوستان کے کسی بھی شراکت دار کے ساتھ پہلا ایسا میکانزم ہے، اور یورپی یونین کے لیے امریکا کے ساتھ ٹی ٹی سی کے بعد دوسرا ہے۔2(دوسرا) ٹی ٹی سی وزارتی اجلاس فروری 2025میں نئی دہلی میں منعقد ہوا (کالج آف کمشنرز کے دورے کے دوران)، جو مئی 2023میں برسلز میں پہلے اجلاس اور نومبر 2023میں مجازی جائزہ کال کے بعد ہوا۔نومبر 2023میں سیمی کنڈکٹرز سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) اور مارچ 2024میں ہندوستان 6G الائنس اوریورپی 6G اسمارٹ نیٹ ورکس اور سروس انڈسٹری اسوسی ایشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔دیگر سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت پر جاری تبادلۂ خیال، اعلی کارکردگی پر مبنی کمپیوٹنگ میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، اور الیکٹرانک گاڑیوں کی بیٹریوں کے شعبے میں اسٹارٹ اپس کے درمیان باہمی تعاون شامل ہے۔
اقتصادی اور تجارتی تعلقات
یورپی یونین بطور ایک بلاک اشیاء کی تجارت میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔مالی سال 2024-25کے دوران، یورپی یونین کے ساتھ اشیاء کی تجارت میں ہندوستان کی مجموعی تجارت تقریباً امریکی ڈالر 136بلین رہی، جس میں برآمدات تقریباً امریکی ڈالر 76بلین اور درآمدات امریکی ڈالر 60بلین رہی۔
2019سے 2024کے دوران ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان سروسز کے شعبے میں باہمی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ہندوستان کی برآمدات 2019میں 19بلین یورو سے بڑھ کر 2024میں 37بلین یورو ہو گئیں۔ یورپی یونین سے درآمدات میں بھی اضافہ ہوا، جو 2024میں بڑھ کر 29بلین یورو تک پہنچ گئیں۔
مئی 2021میں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے موقع پر دونوں فریقوں نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ایک متوازن اور جامع آزاد تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں نیز جغرافیائی اشاریات سے متعلق ایک معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات پر مسلسل روابط کے ذریعے خوش اسلوبی سے پیش رفت جاری ہے۔سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے اور جغرافیائی اشاریات (جی آئی) کے معاہدے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔
سلامتی اور دفاع
فروری 2025میں کالج آف کمشنرز کے ہندوستان دورے کے بعد جاری ہونے والے رہنماؤں کے بیانات میں سلامتی اور دفاعی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس دورے کے دوران یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع اور خلاء نے وزیر مملکت برائے دفاع سے تبادلۂ خیال کیا۔
دسمبر 2025میں سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے ایک وفد نے برسلز کا دورہ کیا اور یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع اور خلاء سے ملاقات کی۔ستمبر 2025میں یورپی یونین کے تمام 27رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والایورپی یونین کی سیاسی و سلامتی کمیٹی کا ایک وفد نے ہندوستان کا دورہ کیا (یہ ایشیا کا پی ایس سی کا پہلا دورہ تھا) اور انہوں نے نائب قومی سلامتی مشیر اور سکریٹری (مغرب) کے ہمراہ خارجہ سکریٹری سے ملاقات کی۔جون 2025میں بحر ہند، اکتوبر 2023میں خلیج گنی، اور جون 2021میں خلیج عدن میں ہندوستان۔یورپی یونین کی مشترکہ بحری مشقیں ہوئیں۔انہوں نے2018اور 2019میں صومالیہ کے ساحل کے قریب انسانی امداد رسائی کی معاونت کے لیے اسکارٹ آپریشنز میں بھی تعاون کیا۔اپریل 2025میں وائس ایڈمرل اگناسیو ویلانیوا سیرانو، EUNAVFOR اٹلانٹا کے آپریشن کمانڈر نے ہندوستان کا دورہ کیا۔
توانائی اور ماحولیات
2016میں قائم کردہ ہندوستان۔یورپی یونین صاف توانائی اور موسمیاتی شراکت داری (CECP) کے تیسرے مرحلے کو نومبر 2024میں اختیار کر لیا گیا۔یورپی یونین2018سے بین الاقوامی سولر الائنس کا شراکت دار ادارہ رہا ہے۔یورپی سرمایہ کاری بینک ہندوستان میں ماحولیاتی اور توانائی کے مرحلہ وار منتقلی کی حمایت کرتا ہے اور پائیدار نقل و حمل اور شہری نقل و حرکت کے منصوبوں، جیسے شہری ریلوے اور بعض ہندوستانی شہروں میں میٹرو کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان دیگر تعاون کے شعبوں میں آف شور ونڈ انرجی، ہندوستان میں گیس انفراسٹرکچر کی ترقی، میتھین کے اخراج میں کمی، سرمایہ کاری، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں۔یورپی یونین نے مارچ 2021میں ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر (CDRI) کی اتحادی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔جولائی 2020میں جوہری توانائی کے محکمے اور EURATOM کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تحقیق و ترقی میں باہمی تعاون کی خاطرہ ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ہندوستان نے2017میں یورپی ادارہ برائے جوہری توانائی تحقیق (CERN) میں بطور شریک رکن شمولیت اختیار کی۔
اتصالیت
ہندوستان۔یورپی یونین کنیکٹیویٹی شراکت داری کا آغاز 2021میں ہوا تھا اور اس کا توجہ ارتکاز شعبہ نقل و حمل، ڈیجیٹل اور توانائی کے نیٹ ورکس، نیز لوگوں، اشیاء، خدمات، ڈیٹا اور سرمایہ کے بہاؤ ہے۔جون 2025میں دونوں فریقوں نے تیسرے ممالک میں مشترکہ منصوبوں پر سہ طرفہ ترقیاتی تعاون کے لیے ایک انتظامی امور قائم کرنے کا فیصلہ لیا۔ستمبر 2023میں نئی دہلی میں جی20سربراہی اجلاس کے موقع پر ہندوستان، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکی رہنماؤں نے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کا اعلان کیا، جس کے تحت نئے ہندوستان۔مڈل ایسٹ۔یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) کی ترقی کے لیے مشترکہ کام کرنے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔
سائنس و ٹیکنالوجی
دو طرفہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تعاون 2007میں دستخط شدہ ایس اینڈ ٹی کوآریشن ایگریمنٹ کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی سائنسی تعاون کے منصوبوں کی نگرانی اور فروغ دیتی ہے، جن میں اسمارٹ گرڈز، پانی، ویکسینز، آئی سی ٹی، پولر سائنس، اور یورپی ریسرچ کونسل کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کی حرکت پذیری جیسے شعبے شامل ہیں۔وزارت برائے زمینی سائنس اور یورپی کمیشن نے ایک مشترکہ مالی معاونت کا نظام قائم کیا ہے تاکہ ہندوستان کی شرکت کو کچھ ایسے منصوبوں میں سپورٹ فراہم کی جا سکے جو یورپی تحقیق و جدت کے فریم ورک پروگرام “ہورائزن 2020” کے تحت موسمیاتی تبدیلی اور پولر ریسرچ سے متعلق منتخب کیے گئے ہیں۔آبی شراکت داری:2016میں اختیار کردہ ہندوستان۔یورپی یونین واٹر پارٹنرشپ (IEWP) کے تحت، پانی پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ (JWG) آبی پالیسیوں میں تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کرتا ہے۔ یورپی یونین۔ہندوستان کا 6واں واٹر فورم ستمبر 2024 میں نئی دہلی میں منعقد ہوا۔
خلائی تعاون
ہندوستان۔یورپی یونین کا خلائی تعاون 1980کی دہائی سے شروع ہوتا ہے، جب ہندوستانی سیٹیلائٹس نے یورپ کے اریان لانچر استعمال کیا تھا۔یورپی کمیشن اور شعبہ خلاء کے درمیان اعانت سے متعلق معاہدے نے زمین کی نگرانی اور زمین کی نگرانی کے سیٹلائٹس سے ڈیٹا تک باہمی رسائی میں باہمی تعاون کو تقویت بخشی ہے۔اسرو اور یورپی اسپیس ایجنسی نے کراس۔سپورٹ انتظامات پر دستخط کیے اور چندریان۔3اور آدتیہ ایل۔1جیسے اہم مشنز کے دوران نیویگیشن، آپریشنز، اور ڈیٹا کے رکھ رکھاؤ میں باہمی تعاون کیا۔یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کا پروبا۔3مشن دسمبر 2024میں اسرو کے PSLV-XL کے ذریعے کامیابی کے ساتھ لاؤنچ کیا گیا۔فروری 2025میں یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع اور خلاء نے نئی دہلی میں وزیر مملکت برائے سائنس اور ٹیکنالوجی سے مزید تعاون پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔ہندوستان۔یورپی یونین اسپیس ڈائیلاگ کا پہلا اجلاس نومبر 2025میں برسلز میں منعقد ہوا۔مئی2025میں، اسرو (ISRO) اور یورپی خلائی ایجنسی(ESA) نے انسانی خلائی تحقیق کے لیے تعاون پر مشترکہ بیانٔ اراد ہ پر دستخط کیے۔
ہجرت اور نقل و حرکت
ہندوستان۔یورپی یونین کا مشترکہ ایجنڈا برائے ہجرت اور نقل و حرکت مشترکہ اہداف، سفارشات اور اقدامات کے تعلق سے باہمی تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔اعلی سطحی مذاکرات برائے ہجرت اور نقل و حرکت (HLDMM) ہجرت اور نقل و حرکت کے تناظر میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کرتا ہے تاکہ CAMM کے چار بنیادی ستونوں یعنی متعلقہ مہارت کی سطحوں پر باقاعدہ ہجرت کو فروغ دینا، سماجی تحفظ کے امور میں باہمی تعاون، غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کا تدارک، اور دستخط کنندگان کی متعلقہ ذمہ داریوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر سیفٹی اور سیکیورٹی کی فروغ دہی کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ہندوستان۔یورپی یونین HLDMM کی 9اں اجلاس نومبر 2025 میں نئی دہلی میں ہوا۔
پردیسی کمیونٹی، ہنر اور تعلیم
2023تک تقریباً 825000ہندوستانی شہری (یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق) یورپی یونین میںمقیم ہیں۔2024میں ہندوستانی شہریوں کو یورپی یونین میں تعلیم، تحقیق اور دیگر سرگرمیوں کے لیے رہائش کی سب سے زیادہ اجازتیں دی گئیں۔2024میں یورپی یونین کے بلیو کارڈز سب سے زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد کو ملے، جنہوں نے جاری کردہ بلیو کارڈز میں تقریباً20.8فیصد حاصل کیا۔ہندوستانی طلبہ اراسمس منڈس اسکالرشپ کے سب سے زیادہ مستفید ہونے والے طلبہ میں شامل رہے ہیں۔گزشتہ 20برسوں میں یورپ کے ممتاز اداروں میں تعلیم اور کام کے لیے ہندوستانی طلبہ کو 6,000سے زائد اسکالرشپ دی گئیں ہیں۔(مضمون بشکریہ وزارت خارجہ ،حکومت ہند)