سید مصطفیٰ احمد
تنوع زندگی کا حسن ہے۔ جامد رویے اور بدصورت یکسانیت کو عظیم مفکرین نے ہمیشہ رد کیا ہے۔ ہمارے اردگرد ہر شے اپنی جداگانہ شکل اور نوعیت کے ساتھ موجود ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ’’ایک ہی ڈھنگ سب پر چلتا ہے‘‘ کا نظریہ غلط ہے۔ خواہ وہ انتہائی باریک زیریں جوہری ذرات ہوں یا لاتعداد کہکشائیں، کائنات میں ہرجگہ تفاوت اور کثرت نظر آتی ہے۔شاعر جیمز کرکپ کہتے ہیں کہ تمام انسان اور چیزیں دیکھنے میں یکساں محسوس ہو سکتی ہیں، مگر وہ لاتعداد طریقوں سے منفرد ہیں۔ ولیم ورڈزورتھ، جان کیٹس، نہرو اور گولڈسمتھ جیسے ادیبوں نے بھی دنیا کے اس تنوع کی تعریف کی ہے۔ گولڈسمتھ خود کو ‘دنیا کا شہری کہتے تھے۔ نہرو نے ہندوستان کے ہر تاریخی دور کی ثقافتی رونق کو سراہا۔ مورخ ول ڈورنٹ نے اپنی کتابوں میں ثقافتی ملاپ کے گہرے اثرات واضح کئے ہیں۔ آسمانی کتابیں بھی تنوع کو زندگی کی برکت قرار دیتی ہیں۔
اس کے برعکس، یکسانیت زندگی کو بے رنگ اور بے لطف بنا دیتی ہے۔ جب ہر جگہ ایک جیسے خیالات مسلط ہوں، تو دنیا کی وسعت بھی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس سے وہ ‘نیم مُردہ ذہنیت جنم لیتی ہے جس میں نئے راستوں کی جگہ پرانے ٹھہراؤ کے راستے ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں اکثر جھگڑوں کی بنیاد بھی یہی ہے کہ ہم اختلاف کو برداشت نہیں کرتے اور دوسروں پر اپنا نقطہ نظر تھوپنا چاہتے ہیں۔
خوشگوار اور پُرامن زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم روایت اور جدت، یکسانیت اور تنوع کے درمیان توازن قائم کریں۔ اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ’’ایک ہی ڈھنگ سب کے لیے‘‘ کے تصور کو ترک کر دیا جائے۔ مولانا وحید الدین خان کے مطابق، ہر نظریے کی اپنی بنیاد ہوتی ہے۔ ہم انہیں یکساں معیار پر پرکھ کر تعمیری مکالمے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
دوسروں کے خیالات اور عقائد کا احترام ہی واحد راستہ ہے۔ جیسا کہ اوشو نے کہا کہ تنوع اس دنیا کی زندگی ہے۔ دوسروں کو اپنی بات کہنے کا موقع دینا، انہیں جھڑکنے سے کہیں بہتر ہے۔آج جب ٹیکنالوجی کی تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور ہر بات کی تصدیق ممکن ہے، ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ کیوں نہ ہم یہ کہنا سیکھیں: ’’آپ بھی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ میں آپ کے عقیدے کا احترام کرتا ہوں۔‘‘ اپنی بات دوسروں پر تھوپنے کے بجائے، انہیں تنوع کی خوبی سمجھانے کی کوشش کریں۔ یہ راستہ کانٹوں بھرا ضرور ہے، لیکن منزل اگر دلوں کی مطمئن اور خدا کی خوشنودی ہو، تو راستے کی تکلیفیں ہلکی پڑ جاتی ہیں۔ آئیے، وعدہ کرتے ہیں کہ تنوع کو زندگی کا لازمی حصہ بنا کر جینا شروع کریں گے۔
[email protected]