نڈی// تحصیل صدرمقام سے آٹھ کلو میٹر دور گائوں سلونیہ میں واقع ہائی سکول کی چار کمروں پر مشتمل زیر تعمیر عمارت گزشتہ دوسال سے تشنہ تکمیل ہے جبکہ تیار شدہ عمارت بھی گزشتہ دو برس سے محکمہ کے رحم و کرم پر پڑی ہوئی ہے اور بچے دھوپ اور بارش میں باہر کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ سکول میں زیر تعلیم طلبا جگہ کی قلت سے پریشان ہیں۔محمد یونس نامی ایک مقامی شخص نے اس حوالے سے بات کرتے ہوے کہا کہ عوام کو سخت پریشانی اس وقت آتی ہے جب وہ اپنے بچوں کو دھوپ میں دیکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کئی بار چیف ایجوکیشن آفیسر کو یاداشت بھی پیش کی گئی لیکن نہ ہی تیار شدہ عمارت سکول عملہ کے حوالے کی گئی اور نہ ہی زیر تعمیر عمارت کا کام مکمل کیاگیاجس کی وجہ سے سخت تشویش پائی جارہی ہے ۔جہانگیر احمد ،محمد لطیف ،طارق احمد، لیاقت حسین، عبدالحمید ،محمد سلیم ،عبدالرشید ،مشتاق احمداور محمد رفیق نے مانگ کی کہ زیر تعمیر عمارت کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے اور تعمیر شدہ عمارت کو جلد سے جلد طلبا کے لئے کھول دیاجائے تاکہ بچوں کو مزید مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ کو ہدایت دیں کہ گورنمنٹ ہائی سکول سلونیہ کی زیر تعمیر عمارت کا کام مکمل کروایاجائے اورتیار شدہ عمارت کو بچوں کے لئے کھول دیاجائے ۔ گائوں کے کئی لوگوں نے انتظامیہ کو انتباہ دیا کہ اگر جلد از جلد گورنمنٹ ہائی سکول سلونیہ کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو عوام طلبا کے ہمراہ منڈی پونچھ سڑک پر دھرنادینے پر مجبور ہوجائیںگے ۔