عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کے ایمز دورہ کرنے کے ایک دن بعد، جموں و کشمیر حکومت نے ہفتہ کوAIIMSکشمیرکے حکام کیساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی۔ حکمراں نیشنل کانفرنس نے سابق وزیراعلیٰ کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی مداخلت قرار دیا تھا کیونکہ محبوبہ مفتی کے پاس فی الحال کوئی قانون سازی یا آئینی عہدہ نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کی صحت اور طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے اعلیٰ سطح کے ہیلتھ انسٹی ٹیوٹAIIMSپر کام کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں موجود ایک اہلکار نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ عہدیداروں نے وزیرموصوفہ کو کام کی پیشرفت اور انسٹی ٹیوٹ میں فیکلٹی کی بھرتی کے لیے اشتہار دینے کے عمل سے آگاہ کیا۔
ایک دن پہلے، وزیرصحت وطبی تعلیم سکینہ ایتو نے محبوبہ مفتی کو بغیر کسی سرکاری عہدہ کے پروجیکٹ کا جائزہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ پی ڈی پی نے جموں و کشمیر حکومت پرمحبوبہ مفتی کے دورے کے بعد AIIMSکے حکام کو طلب کرنے کا الزام لگایا۔محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ ایک ہفتہ قبل طے کی گئی تھی۔محبوبہ مفتی جو نہ تو ممبراسمبلی ہیں اور نہ ہی رکن پارلیمان ہیں، نے AIIMSاونتی پورہ کا دورہ کیا اور متعلقہ حکام اور اس میں شامل ایجنسیوں کے انجینئروں سے بات کی۔ ان کیساتھ پارٹی کے2ارکان اسمبلی وحید الرحمان پرہ اور رفیق نائک تھے، جو پلوامہ اور ترال اسمبلی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ای ٹی وی بھارت کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ارکان اسمبلی نےAIIMS انتظامیہ کو ایک سرکاری خط بھیجا ہے جس میں اس دورے کیلئے سائٹ کے معائنہ کی درخواست کی گئی ہے۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے وزیر صحت ایتو نے سوال کیاکہ حیرت کی بات ہے کہ سابق حکمرانAIIMS اونتی پورہ پروجیکٹ کا کس حیثیت سے جائزہ لے رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ محبوبہ مفتی کو ایسا کرنے کی ہدایت کون دے رہا ہے؟ دہلی کا کون سا طاقت مرکز ان حرکتوں کی ہدایت کر رہا ہے؟۔ صحت اور طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے وادی میںAIIMS پروجیکٹ میں تاخیر کیلئے پچھلی پی ڈی پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، کیونکہ اس پروجیکٹ کو 2015میں منظور کیا گیا تھا۔اسے اپنے والد کا خوابیدہ پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے (چونکہ پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید اس وقت کے ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلی تھے جب اس کی منظوری دی گئی تھی)، محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کو فون کیا اور ان سے تعمیراتی کام کو تیز کرنے پر زور دیا۔محبوبہ مفتی نے کہا انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ اسے وقت پر مکمل کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں تعینات ٹیم دن رات محنت کر رہی ہے، لیکن جموں و کشمیر میں صحت کے بگڑتے ہوئے نظام کو دیکھتے ہوئے یہ بہت ضروری ہے کہ ایمس اونتی پورہ جلد کام مکمل کرے۔ اس سے لوگوں کو بہت زیادہ راحت اور بہتر صحت کی دیکھ بھال ملے گی۔یہ 1000 بستروں پر مشتمل ہسپتال، پردھان منتری سوستھیا تحفظ یوجنا کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے، کئی ڈیڈ لائنیں گزر چکی ہیں، جس میں دسمبر 2025 کی سب سے حالیہ ڈیڈ لائن بھی شامل ہے۔ اب اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، مارچ 2026 تک کم از کم 26 فیصد کام باقی ہے۔مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے لیے دو AIIMS کو منظوری دی: ایک وجے پورجموں میں، اور دوسرا اونتی پورہکشمیر میں۔ جموں میںAIIMS پچھلے سال سے کام کاج کرنے لیا، کشمیر میں AIIMS کو زمین کے حصول اور کنیکٹیویٹی سمیت مختلف وجوہات کی وجہ سے تاخیر کا سامنا ہے۔ AIIMS کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاہے کہ وہ دسمبر کی آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن یہ وادی میں موسمی حالات پر بھی منحصر ہے۔