راجوری//حکومت کی طرف سے پہاڑی اور گوجری زبانوں کو نصاب میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف دونوں طبقوں کے نوجوانوں کی طرف سے مشترکہ طور پر گوجر پہاڑی اتحاد کا قیام عمل میں لایاگیاہے جو اس فیصلے کیخلاف جدوجہد کرے گا۔اس سلسلہ میں راجوری کی مختلف سماجی ،ملازمین اور طلباء تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک کنونشن کا انعقاد کیا جس میں سبھی نے متفقہ طور پر جدوجہد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔گوجر بکروال یوتھ کانفرنس کے ریاستی نائب صدر گفتار چوہدری کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدر چوہدری محمد اسد نعمانی بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ ریاستی حکومت نے گوجر ی اور پہاڑی زبان بولنے والوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ کشمیری ،ڈوگری اور بودھی زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن آخر گوجری اور پہاڑی زبانوں کے ساتھ کس بنیاد پر ناانصافی کی گئی ہے ۔اس موقعہ پر یوتھ لیڈر زاہد پرواز چودھری نے گو جر پہاڑی اتحاد زندہ باد کا نعرہ بلند کیا جس کی سبھی نے تائید کی ۔اپنے خطاب میں چوہدری محمد اسد نعمانی نے گوجر پہاڑی اتحاد پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ہونا ہی پڑے گا کیونکہ ہمارے مسائل بھی ایک جیسے ہیں اور ہمارامسکن بھی ایک جیساہے۔ان کاکہناتھاکہ حکومت کی دوغلی پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے سب کو ایک دوسرے کی طاقت بنناہوگا تب جاکر اپنے حق کو حاصل کرسکتے ہیں ۔ اسد نعمانی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ جو آواز سرحدی ضلع سے اٹھی تھی، اب وہ پورے پیرپنچال ہی نہیں ریاست کی آواز بن چکی ہے۔گفتار چوہدری نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرکے اپنے حقوق کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اور ڈوگری زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل کرنا اچھا قدم ہے اور وہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن پہاڑی اور گوجری زبان کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ ندیم مرزا نے کہا کہ پہاڑی اور گوجر کے نام سیاست کرنے والے آج کہا ںہیں اور ان کو کیوں حکومت کا فیصلہ غلط نظر نہیں آرہا۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے دونوں طبقوں کے ساتھ کھلواڑ کیاہے جس کا جواب گوجرپہاڑی اتحاد سے ہی دیاجاسکتاہے ۔ایڈووکیٹ ظہیر چوہدری نے بھی نوجوانوں پر زور دیاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور پہاڑی و گوجر کے نام پر تفریق کرنے والوں سے بھی ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی اور گوجری زبانوںکو نصاب میں شامل کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ریاست بھر میں احتجاج کیاجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ اس معاملے پر پہاڑی اور گوجر ارکان قانون سازیہ نے چب سادھ رکھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر وہ نمائندگی نہیں کرپارہے توعہدے سے مستعفی ہوجائیں ۔کنونشن میں دلدار احمد چودھری،عرفان انجم ،لیاقت علی ، زبیر خان ودیگر کئی نوجوان بھی موجو دتھے ۔بعد میں تنظیم کے اراکین نے حکومت کے نام ایک میمورنڈیم ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کو پیش کیا۔