وادیٔ کشمیر
ڈاکٹر سید مصطفیٰ شاہ
برف سے ڈھکے پہاڑ، آسمان سے بات کرتے صنوبر و دیوداراور فطرت کی خاموش مگر پراثر موسیقی گلمرگ محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ہندوستان کے سیاحتی خواب کی عملی تصویر بنتا جا رہا ہے۔ وادیٔ کشمیر کے قلب میں واقع یہ خطہ آج عالمی سیاحت، ونٹر اسپورٹس اور پائیدار ترقی کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔گلمرگ کی سب سے بڑی خوبی اس کی ہمہ موسمی دلکشی ہے۔ بہار میں یہ مقام رنگا رنگ پھولوں، سرسبز میدانوں اور خوشگوار فضاؤں سے جنت ِ ارضی کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہی وہ موسم ہے جب فطرت اپنے مکمل حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اور سیاح ایک نئی توانائی کے ساتھ زندگی کی طرف لوٹتے ہیں۔
گرمیوں میںجب میدانی علاقوں میں حبس اور گرمی انسان کو بے چین کر دیتی ہے، گلمرگ اپنی معتدل آب و ہوا اور سکون بخش مناظر کے باعث ایک قدرتی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ کھلے میدان، نیلا آسمان اور ٹھنڈی ہوائیں یہاں آنے والوں کو نہ صرف راحت فراہم کرتی ہیں بلکہ ذہنی آسودگی کا سامان بھی بنتی ہیں۔تاہم گلمرگ کی اصل شناخت موسمِ سرما میں نکھر کر سامنے آتی ہے۔ برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑ اور قدرتی ڈھلوانیں اسکی کھیل کے شائقین کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں شمار ہوتی ہیں۔ ایشیا کی بلند ترین کیبل کار، گنڈولا، گلمرگ کو عالمی ونٹر اسپورٹس کے نقشے پر نمایاں مقام دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح اور پیشہ ور اسکیئرز یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
سیاحت کے اس فروغ نے گلمرگ کو محض تفریحی مرکز نہیں رہنے دیا بلکہ یہ علاقہ اب مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ ہوٹل انڈسٹری، سیاحتی خدمات، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور کھیلوں سے وابستہ سرگرمیوں نے ہزاروں مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیری ثقافت، روایات اور مہمان نوازی سیاحوں کے تجربے کو ایک یادگار داستان میں بدل دیتی ہیں۔
موجودہ سرکار گلمرگ کو عالمی معیار کے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے اور گلمرگِ عظمیٰ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے سنجیدہ اور ہمہ جہت کوششیں کر رہی ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، ماحول دوست منصوبے اور پائیدار سیاحت کے اصول اس وژن کا عملی اظہار ہیں۔اس ترقیاتی سفر میں گلمرگ کے ایم ایل اے محترم فاروق احمد شاہ صاحب کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ ان کی قیادت میں گلمرگ کو مزید جاذبِ نظر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، جو علاقے کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات دراصل وزیرِ اعظمِ ہند جناب نریندر مودی کے اس تصور کی عملی تعبیر ہیں کہ گلمرگ کو ہندوستان کے سرمائی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی جائے۔ اگر یہی عزم، تسلسل اور دیانت برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب گلمرگ عالمی سطح پر ہندوستان کی شناخت کا ایک روشن استعارہ بن جائے گا۔گلمرگ آج محض ایک مقام نہیں، بلکہ ایک وژن ہے،ایسا وژن جو فطرت کے احترام، ترقی کی رفتار اور مقامی خوشحالی کو ایک ہی دھارے میں سمو دیتا ہے۔۔ گلمر گ کی کثیر الجہاتی خوبصورتی اسے حسن عالم کا باوقار مرکز بناتے ہیں۔
[email protected]