ڈاکٹر شوکت احمد ڈار
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وشعور عطا کیا اور اسے اچھے بُرے کی تمیز سکھائی۔انسان کی اصل پہچان اس کے گفتار ،کردار اور اطوار سے ہوتی ہے یہی تین اوصاف کسی فرد کو مہذب اور معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں ۔گفتار انسان کی شخصیت کا پہلا تعارف ہے ۔کیونکہ جس طرح دکان کھولتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ دکان کے اندر کیا ہے اس طرح کسی کے بات کرتے ہی اس کی شخصیت اُبھر کر اُجاگر ہوتی ہے ۔نرم لہجہ ،سچائی اور شائستہ زبان دلوں کو قریب لاتی ہے ۔جب کہ تلخ کلامی نفرت اور دوریاں پیدا کرتی ہے ۔نرم اور خوش اخلاق گفتگو سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں ۔ایسا انسان معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اچھی بات اعتماد کو بڑھاتی ہے اور لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے ۔تعلیمی اداروں ،گھروں اور دفاتر میں خوشگوار ماحول قائم رہتا ہے ۔اس کے برعکس غلط بات کہنے کے بہت سے نقصانات ہیں ۔تلخ اور ناپسندیدہ گفتگو دوسروں کے دلوں کوٹھیس پہنچاتی ہے اور رشتوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے ۔غلط بات جھگڑوں ،نفرت اوردشمنی کو جنم دیتی ہے ۔ایسا شخص آہستہ آہستہ لوگوں کا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور معاشرے میں اس کی قدر کم ہو جاتی ہے ۔خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر غلط باتوں کا گہرا منفی اثر پڑتا ہے ۔جب بچوں کے سامنے غلط،سخت،ناپسندیدہ باتیں کہی جاتی ہیں تو ان کے ذہن پر منفی اثر پڑتا ہے ۔بچے ایسی باتوں کو معمول سمجھنے لگتے ہیں ۔اور آہستہ آہستہ خود بھی وہی زبان استعمال کرنے لگتے ہیں اس سے ان کے اخلاق متاثر ہوتے ہیں ۔ اور ان کی گفتگو میں بدتمیزی اور سختی آجاتی ہے ۔عام طو رپر والدین اوراساتذہ بچوں کی تربیت میں انہیں نصیحت کرتے رہتے ۔تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی جامہ پہنانے سے ہوتی ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کے سامنے ہمیشہ اچھی،نرم اور مثبت بات کریں تاکہ وہ اچھے اخلاق ،برداشت اور احترام سیکھ سکیں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک بات ادا کرتے وقت ہم مختلف طریقے اپنا سکتے ہے ۔ مثال کے طور پراگر کسی لنگڑے کو ہمیں یہ کہنا کہ آپ کا یہ لنگڑا پن کب سے ہے ۔بہتر یہ ہے کہ ہم اسی ان الفاط سے مخاطب ہوجائے کہ آپ کو کب سے اس ٹانگ کی تکلیف ہے ۔معنی ایک جیسا ہے لیکن زبان کے اچھے الفاط اداکرنے سے اسکی عزت نفس برقرار رہی اور ان کے نظروں میں ہماری عزت بھی بڑھ گئی اس طرح کی بے شمار الفاظ اور جملے ہے جن کے بول سے ہم سماج کو ایک اچھے معاشرے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بہترین شکل وصورت سے نوازا ۔اس کے تعمیر وترویج میں مختلف اعضاء استعمال میں لائے۔ان میں زبان کو امتیازی خصوصیت حاصل ہے ۔زبان کے ذریعے انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے ، مگریہی زبان اگر بے قابو ہوجائے تو بڑے بڑے گناہوں اور فساد کا سبب بن جاتی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے صحیح استعمال میں بہت سارے باتیں بیان کی ۔اس سلسلے میں ایک بامعنی حدیث میں واضح فرمایا کہ جب انسان صبح کرتا ہے تو اسکے جسم کے تمام اعضاء زبان سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ۔ــــ’’ ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ،کیونکہ ہمارا دارومدارتم پر ہے ۔اگر تم سیدھی رہوگی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے ،اور اگر تم ٹیڑھی ہوجاؤ گی تو ہم بھی تیڑھی ہوجائیں گے‘‘ گفتگو کے حوالے سے ایک مشہور قول ہے کہ ’’تلوار کا زخم بھر جاتا ہے لیکن زبان کا زخم نہیں بھرتا ‘‘ یہ قول اگرچہ حدیث نبویؐ نہیں ،مگر اس کا مفہوم اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔انسان کو زبان کے ذریعے عزت بھی ملتی ہے اور ذلت بھی جسم پر لگنے والا زخم وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتا ہے ،لیکن تلخ اور دل آزاری پر مبنی الفاظ انسان کے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑتے ہیں جو مدتوں باقی رہتا ہے زبان کا زخم انسان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور رشتوں کو کمزور کردیتا ہے ۔اسلام ہمیں نرم گفتگو ،سچائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے ۔زبان کی اہمیت کے بارے میں یہ مشہور حکایت واضح ہے ۔ایک بادشاہ نے اپنے غلام کو بازار بھیجا اور کہا کہ گوشت کا وہ ٹکڑا لے آؤ جو تمہیں پسند ہے ۔غلام بازارگیا اور قصائی سے زبان لے آیا ۔چند دن بعد بادشاہ نے کہا کہ وہ گوشت لے آؤ جو تمہیں ناپسند ہو ۔غلام نے دوبارہ زبان ہی لے آیا۔بادشاہ نے تعجب سے پوچھا ،تو غلام نے جواب دیا ـ ’حضور یہی زبان اگر درست استعمال ہو تو عزت اور مقام دیتی ہے اور غلط ہوجائے تو ذلت اور رسوائی کا سبب بنتی ہے ‘ ۔
آج کے پُر اشوب اور مادی دور میں جہاں انسان ظاہری کامیابیوں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے ،وہی اخلاقی اقدار اور کردار کی اہمیت پسِ پشت چلی گئی ہے ۔حالانکہ ایک اچھے انسان کی اصل پہچان اُس کے لباس ،منصب یا دولت سے نہیں بلکہ اسکے کردار سے ہوتی ہے ،کردار ہی وہ کسوٹی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے اور معاشرے میں اُس کا مقام متعین کرتی ہے ۔کردار دراصل انسان کے باطن کی عکاسی کرتا ہے۔سچائی ۔دیانت داری ،امانت داری ،انصاف،صبروتحمل اور رحم دلی جیسے اوصاف کسی بھی فرد کے کردار کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔سچا انسان نہ صرف خود اعتماد ی کے ساتھ جیتا ہے ،بلکہ دوسروں کے لئے بھی اعتماد کا سبب بنتا ہے اسی طرح امانت داری اور وعدوں کی پاسداری معاشرتی رشتوں کو استحکام بخشتی ہے ۔ معاشرتی زندگی میں کردار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ایک باکردار انسان ذاتی مفاد سے بلند ہوکر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیتا ہے ۔وہ انصاف کادامن نہیں چھوڑتا اور کمزور طبقے کے حقوق کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ایسے افراد ہی کسی بھی معاشرے کو امن ،بھائی چارے اور روا داری کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ علم ومہارت اُس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہوتیں جب تک ان کے ساتھ اچھا کردار شامل نہ ہو ۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن قوموں نے اخلاقی اقدار کو اپنایا ،وہ ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئیں ،اور جہاں کردار کو نظر انداز کیا گیا وہاں زوال نے ڈیرے ڈال دیے ۔
ایک اچھے انسان کی صحیح پہچان اُس کے قول سے نہیں ۔ بلکہ اُس کے عمل اور کردار سے ہوتی ہے اگر ہم ایک پُرامن ،مہذب ،اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں ۔توہمیں فرد کی سطح پر کردار سازی کو ترجیح دینا ہوگی ۔یہی راستہ اجتماعی فلاح اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے مشہور قول ہے : ’’ اگر دولت چلی جائے تو کچھ نہیں جاتا ،اگر صحت چلی جائے تو کچھ نہ کچھ جاتا ہے ،لیکن اگر کردار چلا جائے تو سب کچھ چلا جاتا ہے ‘‘ یہ قول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دولت اور صحت اگرچہ زندگی کے اہم عناصر ہیں ،مگر ان سے بڑھ کر کردار کی حیثیت ہے ۔دولت کا نقصان محنت اور لگن سے پورا کیا جا سکتا ہے اور صحت بھی احتیاط وعلاج سے واپس آسکتی ہے ۔لیکن اگر انسان اپنا کردار کھودے تو اس کے لئے معاشرے میں دوبارہ اعتماد حاصل کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کردار میں اپنی عزت نفس ،سچائی ،دیانت ،صبر ،برداشت اور حسن اخلاق شامل ہیں ۔یہی اوصاف انسان کو باوقار بناتے ہیں ۔اور اسے دوسروں کے لئے قابل اعتماد بناتے ہیں ۔خاص طور پر طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے کردار سازی کی تعمیر پر بھی توجہ دیں ،کیونکہ علم بغیر کردار کے بے فائدہ ثابت ہوتا ہے ۔
مہذب معاشرے کے قیام کے لیے انسان کا صحیح گفتار ،عمدہ کردار کے ساتھ ساتھ شائستہ اطوار کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے ۔اطوار سے مراد انسان کے روز مرہ رویے ،برتاؤ اور طرز عمل ہیں جو وہ دوسروں کے ساتھ اختیار کرتا ہے اچھے اطوار میں بڑوں کا احترام ،چھوٹوں سے شفقت ،پڑوسیوں سے حسنِ سلوک ،اختلاف رائے میں برداشت اور کمزوروں کے ساتھ ہمدردی شامل ہیں ۔مہذب طور طریقے انسان کو سماج میں محبوب بناتے ہیں ۔جو شخص دوسروں کی بات غور سے سنتا ہے غصے پر قابو رکھتا ہے معاف کرنا جانتا ہے اور مشکل وقت میں دوسروں کا ساتھ دیتا ہے وہی حقیقی معنوں میں شائستہ اطوار کا حامل کہلاتا ہے ۔اس کے برعکس بدتمیزی ،خود غرضی ۔عدم برداشت اور سخت رویہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں ۔اسی لئے اطوار کی درستگی صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے ۔گھریلو تربیت ۔تعلیمی ادارے اور سماجی ماحول اطوار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔اسلام کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اچھے اطوار ایمان کی علامت ہیں ۔ایک مسلمان کا برتاؤ اس کے عقیدے کی عملی تصویر ہوتا ہے ۔قران مجید میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ،پڑوسیوں کے حقوق ،یتیموں اور محتاجوں سے ہمدردی اور عام انسانوں کے ساتھ نرمی اور انصاف کا حکم دیا گیا ہے ۔یہی اصول ایک مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے ۔سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے نظریہ اطوار کا کامل نمونہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عفو ودرگذر ،تحمل اور رحم دلی کو اختیار فرمایا دشمنوں کے ساتھ بھی حسن َ سلوک ،کمزور وں کے لئے شفقت اور اختلاف کے مواقع پر صبر و حکمت آپ کے نمایاں طورطریقے تھے۔اسلام میں تکبر ،بدزبانی ،ظلم اور بے حسی جیسے رویّوں کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔کیونکہ یہ معاشرتی انتشار کا سبب بنتے ہیں ۔اس کے برعکس عاجزی ،عدل ،اخوت اور ایثار کو فروغ دیا گیا ہے اسلام چاہتا ہے کہ فرد اپنی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ اپنے اچھے اطوار کے ذریعے دوسروں کے لئے آسانی اور راحت کا سبب بنے ۔ آج کے دور میں جب معاشرتی اقدار زوال پذیر نظر آتی ہیں ۔اسلام کا نظریہ ہماری رہنمائی کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اگرفرد اپنے رویّوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لے تو معاشرے میں امن ،برداشت اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو سکتی ہے ۔مختصراً یہ کہا جاتا سکتا ہے کہ گفتار انسان کو پہچان ،کردار اسے وقار اور اطوار معاشرے میں مقام عطاکرتے ہیں ۔جب فرد ان تینوں اوصاف کو اپنا لیتا ہے تو ایک مہذب اور پُر امن معاشرہ وجود میں آتا ہے ۔
(رابطہ۔9419294917)