سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ کووڈ 19کی دوسری لہر کی وجہ سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں کشمیر کی معیشت کو ایک اور دھچکا لگا ہے اور ہر ایک شعبہ بری طرح متاثر ہوگیا ہے اور ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اُن تمام طبقوں کیلئے ایک جامع راحت کاری پیکیج کا اعلان کیا جائے جولاک ڈائون کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ گذشتہ 2برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی اقتصادی حالت کو 3جھٹکے لگے ہیں اور تمام متاثرہ طبقوں کیلئے ایک جامع اور بھر پور مالی پیکیج کا اعلان ضروری بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی معیشت کو پہلا جھٹکا 5اگست2019کو اُس وقت لگا جب یہاں خصوصی پوزیشن کو سلب کرنے کیلئے کئی ماہ تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد اقتصادی سرگرمیوں کی شروعات ہی ہونے لگی تھی کہ مارچ2020میں کورونا نے حالات کو اپنے شکنجے میں لے لیا اور لاک ڈائون نے ہماری معیشت کو دوسرا جھٹکا دیا۔ اگرچہ امسال پھر سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے لگی اور سیاحتی سیز ن کے شروعاتی ایام میں کافی تعداد میں سیاحوں نے یہاں کا رُخ کیا لیکن کورونا وائرس کی دوسری لہر نے حالات کو پھر وہی پر پہنچا دیا اور اس طرح سے پہلے ہی برباد ہوئی معیشت کو ایک اور دھچکا لگ گیا۔ ساگر نے کہا کہ جاری لاک ڈائون نے بیشتر طبقوں کی کمر توڑ دی اور لاتعداد کنبوں کو خط افلاس سے نیچے دھکیل دیاہے۔ لوگوں میں اب دووقت کی روٹی کا انتظام کرنے کی بساط بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جائزے کے مطابق کشمیر کی معیشت کو موجودہ لاک ڈائون سے 5000کروڑ کا نقصان جھیلنا پڑا ہے اور افسوس اس بات ہے کہ حکومتی سطح پر اتنے بڑے نقصان کی برپائی کیلئے 51کروڑ کے پیکیج کا اعلان کیا گیا۔اس پیکیج کے بارے میں بھی ابھی تک صرف ڈھنڈورے ہی پیٹے جارہے ہیں اور لوگوں تک اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔ ساگر نے حکومت پر زور دیا کہ زمین سطح پر لوگوں کی حالات دیکھنے کیلئے ایک سروے عمل میں لایا جائے اور لوگوں کی راحت رسانی کیلئے امداد کا تخمینہ لگایا جائے اور اس کے بعد ایک جامع امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔