عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور رکن اسمبلی طارق حمید قرہ نے ہفتے کے روز گزشتہ بجٹ کی عمل آوری میں سامنے آنے والی خامیوں، فنڈز کی تاخیر سے منصوبوں کے سست رفتار نفاذ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس صورتحال سے بے حد ناراض رہے، لہٰذا نئے بجٹ میں حکومت کو ذمہ داری کے ساتھ بہتر، مؤثر اور بروقت کام کرنا ہوگا۔اسمبلی کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں قرہ نے کہا’’گزشتہ بجٹ پیش ہونے کے بعد عمل درآمد کے معاملے میں شدید کوتاہیاں دیکھنے کو ملیں۔ زمینی سطح پر ترقیاتی کام رْکے رہے، فنڈز کی الاٹمنٹ غیر معمولی طور پر تاخیر کا شکار رہی، جس سے لوگوں میں بے چینی اور غصہ پیدا ہوا۔ انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ عوامی مفاد سے جڑا معاملہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر واقعی عوام دوست طرزِ حکمرانی چاہتی ہے تو اسے فنڈز کے بروقت استعمال، شفافیت اور جوابدہی کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔قرہ نے بجٹ میں درج ساسکی سکیم کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق ساسکی کوئی گرانٹ اِن ایڈ نہیں ہے بلکہ اس مد میں حکومت کو تقریباً 1,450کروڑ روپے تین مرتبہ موصول ہوتے ہیں۔ اس کی نوعیت اور رقم کو لے کر شفاف وضاحت ضروری ہے تاکہ غلط فہمی دور ہو سکے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب متعلقہ محکمے تیزی سے کام کریں، فائلیں دبیز الماریوں میں نہ پڑی رہیں اور فنڈز وقت پر خرچ ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجٹ کے اعلانات کو محض کاغذی نہ چھوڑے بلکہ ان کی عملی شکل عوام تک پہنچائے۔قرہ نے مزید کہا کہ بجٹ کاری کا مقصد زمینی سطح پر عوامی مشکلات دور کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ترقیاتی رفتار بڑھانا ہے،لیکن اگر فنڈ ہی وقت پر جاری نہ ہوں تو ترقی کیسے ممکن ہے؟ گزشتہ سال عوام نے اس تاخیر کا کڑوا تجربہ کیا، اس لیے اس بار بہتری ناگزیر ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور بروقت منصوبہ بندی ہی وہ عوامل ہیں جو موجودہ مالی سال کو عوام دوست بنا سکتے ہیں۔