رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اپنے شاعر کو جس نے گائے کی تعریف میں رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہماری گائے بنا دی ۔ شاعر نے نہ جانے کتنے سال پہلے گائے کے بارے میں کہہ دیا جبھی تو ان کی ذہانت کی داد دینی پڑتی ہے شاید پیش بینی تھی کہ میرے بعد گائے کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر لے جانے والی ایک نرالی مخلوق زمین پر پید اہو گی جو گائے کو رب کی تخلیق نہیں بلکہ خود رب سمجھے گی ۔ خیر شاعر کی ذہانت ایک طرف لیکن طلباء تو سارے ذہین نہیں ہوتے کچھ تو بے چارے کند ذہن غبی ہوتے ہیں لیکن کوئی اپنی یہ کمزوری تسلیم کرے، ایسے کم ہی ہوتے ہیں ۔مجھے تو اس طالب علم کی دیدہ دلیری پر رشک آتا ہے جس نے اپنے امتحانی پرچے کے ذریعے اعلان کردیا کہ’’ گائے ہماری ماتا ہے، آگے کچھ نہیں آتا ہے‘‘۔پھر پر چے چیک کر نے والا بھی کوئی کچے چنے نہیں چبایا تھا ، واپس لکھ دیا کہ بیل تیرا باپ ہے نمبر دینا پاپ ہے،لیکن اپنے سیاست دان آفت کے پرکالے ہیں کہ نمبر مارنے کا کوئی بہانہ کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔انہوں نے گائے کو ماتا جتا جتا کر وکاس کی نئی راہیں کھوج ڈالی ہیں ۔اور کچھ ایک نے گائے کو ماتا نہ جتانے والوں پر یا ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والوں پر سیاسی شکنجہ کس لیا اور سیاسی ہیر پھیر کے فسانہ ٔ عجائب میں نئی کہانی جڑ گئی۔
حالیہ نامہربان موسم اور نہ تھمنے والی بارش کے دوران بیٹھے بٹھائے میں نے سوچا کیوں نہ وادی میں سیاسی حرارت کے آسمان سے تھوڑی سی تمازت لے کر اپنے آپ کو راحت دیں ؎
ان دنوں چرخ پر نہیں ہے مہر
گود میں کانگڑی رکھے ہیں سہ پہر
اپریل کا مہینہ ہو تو اسے انجوائے کر نے سے کون پیچھے رہے؟ہم بھی چاہتے تھے کہ چلہ کلانی عرصہ گزرنے کے بعد دھوپ سینکیں کہ اچانک اپنے ہل والے قائد ثانی کو ایک خوب مذاق سوجھا ، وہ غضب کا اعلان فرمادیا کہ سن کر ہماری گدگدی ہوئی۔وہ اس لئے کہ ہمیں اپریل ۱۹۷۹ء کا زمانہ یاد آیا ۔یہ الیکشن بھی کیا کیا رنگ دکھاتا ہے!کرسی کا جنون وشوق اپنے قائدین کو کتنابھلکر یا رفو چکر بناتا ہے کہ وہ ماضی اور حال یکسر بھول جاتے ہیں ،بس چال کی فکر کرتے ہیں ،مستقبل کا رونا روئیں اُن کے دشمن۔ اچھا تو میں کہہ رہا تھا کہ اپنے ہل والے قائد ثانی نے جماعت اسلامی سے ایک عدددرخواست بدین عنوان کر دی کہ جناب والاا!پی ڈی پی کو ہرانے میں جماعت والے اپنا جادوئی کردار نبھائیں کیونکہ قلم دوات آر ایس ایس کی پٹھو ہے ، فرمایا یہ جوویجی بور کے سیب اور ناگپور کے سنگترے کا انضمام کیا گیا ہے، وہ غلط ہی نہیں نقصان دہ بھی ہے ،مسلمانوں کے لئے گھاٹے کا سود ا بھی ہے ۔ہمیں دفعتاً گزرا ہوازمانہ یاد آیا ۔ اُدھر مملکت خداداد کے معزول ومحبوس سربراہ بھٹو کو ضیا حکومت پھانسی دے گئی ، اِدھر نیشنل نے شوشہ کھڑا کیا کہ پار والی پھانسی کا تعلق یہاں کی جماعتی برادری سے براہ راست ہے۔مطلب وہی ہوا نا کہ بانہال میں اونٹ نے کپاس کی بیلیں تباہ کردیں اور بارہمولہ میں دُھنائی کرنے والے کی ناک کاٹی گئی۔ پھر کیا تھا ہل نے ترازو کو دن میں ہی تارے دکھائے، جماعتی حلقے کی بڑی مر مت کروائی، جیسے جموں میں لٹے پٹے برمی مہاجر مسلمانوں کے کیچ اینڈ کل کا اعلان ہو ، اویسے ہی جماعت سماج میں اچھوت بنائی گئی۔ مگر زمانے کا چکر دیکھئے کہ قائد ثانی نے اسی سے مدد طلب کی ۔ کہیںاسی درخواست کا چمتکار یہ تو نہیں کہ ہل کو ایک عدد پارلیمانی نشست کی حسرت پوری ہوئی ۔
خیرابھی ہم قائد ثانی کے مذاق پر ہنس ہی رہے تھے کہ خاتون وزیر اعلیٰ نے اس سے بھی بڑھ کر اپنا لطیفہ میدان عمل میں اُتار دیا ۔ایسا لگا کہ الیکشن نہیں بلکہ مذاقوں لطیفوں کا مقابلہ ہورہاہے جیسے اپنے سیاسی رہنما کپل شرما اور ڈاکٹر گلاٹھی کو مات دینے کی کوشش میں لگے تھے۔بانوئے کشمیر نے کہا کہ پتھر باز ذہنی دبائو کا شکار ہیں، ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذہن کے پہاڑ اُکھاڑے جائیں۔ یہ بھی پھینکی کہ سنگ بازوںکے دروازوں پر دستک دے کر اور انہیں گھر سے نکال کر ان کے مسائل سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہم نے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے کہ یہ بات چیت کس کو کرنی ہے کس سے کرنی ہے ۔پھر خیال آیا کہیں اشارہ ہماری ہی طرف تو نہیں کہ کالم لکھنے کے بجائے سنگ بازوں سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کریں۔اپنے مدیر مہربان کے سامنے یہ مسلٔہ رکھا تو وہ بھی کھلکھلا کر ہنس پڑے کہ اہل سیاست ہنسی مذاق کے عادی ہوتے ہیں ، البتہ اپنے لئے مخمصہ یہ ہے کہ اس اعلان پر ہم کیا سرخی جمائیں؟ بہرحال سب اپنی اپنی جگہ پریشان کہ بات چیت کس کو کرنی ہے ، وزیراعلیٰ کار سرکار کی یہ دستارِ فضیلت کس کے سر باندھنا چاہتی ہے؟ وزراء کے پاس وقت نہیں اس لئے ہو نہ ہو اپنے کسی حلقہ پیژ ڈار کو یہ کام دیں۔ بڑا خوش نصیب ہو گی وہ شخصیت بیروہ کے اپنے نذیر خان کی طرح۔
قبل ا زیںاپنی باری پر وشال بھارت دیش کے پردھان منتری مودی نے ناشری ٹنل کا دم دار افتتاح کیا ، اعلان بھی فرمایا کہ کشمیری نوجوانوں کو دہشت گردی اور سیاحت میں سے صرف ایک کو چننا ہوگا۔ موسم موقع دستور کے مطابق انسانیت کشمیریت جمہوریت کی راگ بھیروی ناز وانداز سے چھیڑدی ۔ اس کے سُرتال واجپائی کے موروثی ردیف قافیہ ملایا کر بنائے تھے۔ انسانیت کشمیریت جمہوریت کا گھسا پٹا نغمہ گاکر مہاراج نے وطن کے جیالوں کو پیغام دیا: بھائیو اور بہنو ! جمہوری تماشے کی ڈفلی بجاتے رہو ، بندگانِ خدا کوگنتے جاؤ تولنے کا کشٹ اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔ تیز بارشوں کے شور میں یہ سنا توہم نے بڑا بے ادبانہ قہقہہ مارا ۔ ہمیں تو اس لطیفے کا جواب بر محل نہ سوجھا لیکن یقین ہوا کہ اہل سیاست کے سامنے وہاب کھار بھی لاجواب ہے۔
خیر بات گائے کی چل رہی تھی کہ اس نے سیاست کو کہاں سے کہاں تک پہنچا یا۔ کہاں ہم زمانہ طالب علمی میں گائے پر مضمون لکھنے پر مجبور کئے جاتے تھے ، بلکہ ہم نے پورے پرایمری و مڈل کلاس اس کی ٹانگوں ، کان ، ناک، رنگ، دُم اور دودھ ملائی پر اتنی ساری سیاہی خرچ کر ڈالی، شمار نہیں ۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب یہی گائے سیاست کا رنگ روپ بدل دے گی ، بھلے ہی اس کا اپنا رنگ کالا ،سفید یا بھورا ہی رہا لیکن چمتکار یہ کیا کہ اپنے سیاسی رنگ سازوں سے خود کو بھگوان بنادیا، ملک کا مان بڑھایا، اقلیت کو فان کرایا۔ہمیں تب کیا پتہ تھا اس شریف زادی کے زیادہ شریف شردھالوں گائے کے آدر اور پریم میں گوالوں کی بھی اتنی مار پٹائی کریں گے کہ کوئی زخم زخم ، کوئی قبر قبر ہوگا ۔ میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ اگر اوپر والا گائے کو عاریتاًزبان دیتا تو وہ قاتلوں سے ضرور کہہتی : الو کے پٹھو! میں دودھ دہی پنیر ، اپنے بال اپنی کھال بھی تم کو ارپِت کر تی ہوں، میرا کام جیون کی رکھشا ہے اور تم راکھشس بن کر میرے نام پر ہتھیا کا نڈ کر تے ہو، تف ہو تم پر! مگر گائے ماتا کی یہ کھری کھری شردھالوں سن کر یہی کہیں گے : مارو سالی کو یہ بھی مسلمانوں سے سانٹھ گانٹھ رکھتی ہے۔ اس ڈر سے گائے خلقت ِ ہند کی طرح سنتی نہ بولتی ، دیکھتی نہ سوچتی ، اپنی جان کسے عزیز نہیں ۔ بات یہ نہ ہوتی تو یہ ضرور اپنے نام پر دادری میں اخلاق احمد اور الور میں پہلو خان کی ہلاکت پر غصہ ہوکر اپنی سنیگیںقاتلوں کے سنیوں میں ٹھونس کر یہ نغمہ گنگناتی ؎
دیکھو او دیوانو! تم یہ کام نہ کرو
گائے کا نام بدنام نہ کرو
چلئے گائے کے بہانے راج نیتی کے شیدائی یوگی ا ور جوگی اتنے سیانے ہوگئے کہ مطلب کے وقت گدھا بھی باپ کہلائے کا مطلب ان پر منکشف ہوا۔ شاید کسی زمانے میں کسی محترم گدھے نے انسانی دنیا میں ایساہی کمال دکھایا ہو جوآج کل زعفران زار میں گائے دکھا رہی ہے ۔ سچ مچ گائے نے اپنا نہ سہی مگر زمانے کا رنگ ِ سیاست کا ڈھنگ ہی بدل دیا ہے جیسے قائد ثانی نے جماعت اسلامی سے کہا ع
ہم نبے تم بنے اِک دوجے کے لئے
اور ’’مرد مومن‘‘ کی صاحبزادی نے سنگ بازو سے کہا ع
پتھر کے صنم تجھے ہم نے محبت کا خدا جانا
یہ بھی ایک چمتکار ہے کہ گائے بھلے ہی بے زبان ہو لیکن سیاسی مشٹنڈوں کو زبان درازی بنا نے والی شکتی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ زعفرانیوں کے یہاں اسی راج نیتی کا مشاہدہ کر تے کر تے ہم اوب گئے ہیں مگر کمال یہ ہے کہ بیگم امیتابھ بچن جیا بہادری کو گائے کی اچھی قسمت سے جلن ہونے لگی ہے۔ جیا نے ممتا بینر جی کا سر لانے والے کو گیارہ لاکھ نذرانہ دینے والے کسی سر پھرے جن سنگھی وزیر باتدبیر کے اعلان پر بھری سبھا میں یہ چوٹ کی: زعفرانیوں کو صرف گائے بچانا آتی ہے ، مہیلاؤں کو ایتاچار سے بچانے سے ان کا کوئی سرکار نہیں ۔ اس پر گائے پریمیوں کے پشتینی وفادار مختار عباس نقوی سٹپٹایا اور بولا: بھارتیہ ناری کا اَپمان ہمیں منظور نہیں ۔ یہ قسمیں وعدے پیار وفا سب باتیں ہیں باتوں کا کیا ۔ آج کی تاریخ میں حقیقت یہ ہے کہ یہ بقرہ بنت بقرہ ہے جس کی یوگی سے مودی تک رسائی ہے ، یہ اپنے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو کہیں سات سال، کہیں دس سال اور کہیں عمر بھر روزن ِزندان کا مہمان بنانے کا غیر مشروط اختیار رکھتی ہے ۔ گائے کے دو سینگ بھی ہوتے ہیں جو کہیں چھوٹے اور کہیں لمبے اور تگڑے ہوتے ہیں ۔ان سینگوں کا استعمال یہ خود نہ بھی کرے مگر سیاسی مشٹنڈے ان کا خوب استعمال کرتے ہیں ۔ یہ نارنگی چادریں پہنے سادھو سنت کسی بھر شٹا چاری کے پیٹ میں یہ سینگ گھونپ کر خود وحشی جانور کا روپ دھارن کر کے نروان پاتے ہیں ۔پھر کون مرا اور کون بچا ،اس کی ذمہ داری شر یمتی گائے جی اپنے اوپر لیتی ہے ۔اگر کسی نے ستی سا وتری جیسی گائے جی کے نام پر دیدہ دلیری یا خون خواری کر نے والی گائے سینا پر شور اٹھایا تو منتری اور سنتری سب مل بانٹ کر ایسی کہانی گھڑ لیتے ہیں کہ بے چارے مقتول کے سر اپنے انجام بدکی ذمہ داری عائد ہو نی ہی ہونی ہے لیکن کچھ زیادہ شور ہوا تو قبر کشائی کر کے مقتول سے اپنی صفائی پیش کرنے کو اسی طرح کہا جاتاہے کہ آسیہ نیلوفر کی طرح ایک نئی دکھ بھری کہانی جنم لیتی ہے ۔ خیر اب ہمیں اعتراف ہے کہ گائے ایک ایسا پالتو جانور ہے جو سیاسی پارٹی کا منشور ، قوم کا مزاج ، حکومت کا ہدف پلک جھپکتے ہی بدل سکتی ہے اور اس فرسودگی یا دیوانگی کو’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ نام دلا سکتی ہے ۔ گائے کامنشورا یسا ہوسکتا ہے کہ شمال میں ایک، جنوب میں دوسرا ، شمال مشرق میں تیسرے نعرے بازی سے جنتا کو مست کرسکتی ہے۔شمال میں گائے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں کسی کی جان لی جا سکتی ہے، جنوب میں یہ ووٹ کا طوفان لائے ، جب کہ اعلیٰ نسل کی عمدہ گائے دستر خوان بھی سجا سکتی ہے ، شمال مشرق میں یہی گائے کام ودہن کا مزے لینے کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔ گائے کا سیاسی جنتر منتر پڑھ کربھائی لوگ یہ بھی سمجھ گئے کہ ووٹ کاوجود سیاست دانوں کو کسی بھی جانور کے آگے سر بسجود کرا سکتی ہے ۔مطلب یہ کہ جناب ووٹ گائے کے نام پر ہو ، اٹونامی کے نام پر ہو ، سیلف رول کے نام پر ہویا بے نام ہو، یہ اپنے اپنے گھر میںعجب پر یم کی غضب کہانی بناتاہے۔
رابط([email protected]/9419009169