عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کے روز کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر تجارت اور سپلائی کو لے کر کئی قسم کی غیر یقینی صورتحال ہندوستانی معیشت کے لیے چیلنج پیش کر رہی ہے، حالانکہ گھریلو مانگ سے معیشت کو مدد مل رہی ہے۔
محترمہ سیتارمن نے یہاں ‘مائنڈ مائن کانفرنس 2026’ کے ایک مکالماتی سیشن کے دوران ہندوستانی معیشت کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ موجودہ وقت میں عالمی تجارت میں کافی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہماری برآمدات مضبوط ہیں لیکن اچانک درآمدی ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے۔ ہم جن تین اشیاء کی سب سے زیادہ درآمد کرتے ہیں، ان کی قیمت اور سپلائی دونوں میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کے درمیان ہندوستان کے لیے راحت کی بات ہماری ملکی مارکیٹ ہے، جو کافی بڑی ہے۔ گھریلو مانگ مضبوط بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ مینوفیکچررز کے سامنے درآمد شدہ خام مال کی اونچی قیمت کا چیلنج بھی ہے۔
مقامی سطح پر مانسون کے چیلنج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس بار ال-نینو کے اثر کی وجہ سے کم بارش کا تخمینہ ہے۔ ملک کے پاس اناج کا کافی وافرچذخیرہ ہے، اس لیے غذائی اجناس کی کمی جیسی صورتحال تو نہیں ہوگی، لیکن کسانوں کی آمدنی پر کم مانسون کا اثر ضرور ہوگا۔ کھاد کی کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آنے والے خریف سیشن کے لیے کھاد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ربی سیشن کو لے کر تشویش تھی لیکن اب چین سے کھاد آنے سے وہ تشویش بھی دور ہو گئی ہے۔
غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت اور اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے ریزرو بینک کے ساتھ مل کر غیر ملکی زرمبادلہ اکٹھا کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ بانڈ مارکیٹ میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے قدم اٹھائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی بینکوں اور عوامی کمپنیوں کو بیرون ملک سے سرمایہ اکٹھا کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے لیے خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی کی ذمہ داری ریزرو بینک اٹھائے گا۔ اس سے بینک بیرون ملک سے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے حوصلہ افزا ہوں گے۔
عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان گھریلو مانگ سے معیشت کو مل رہی ہے مدد: سیتارمن