ترجمہ کار: شہباز ہاکباری
تبصرہ نگار : فرقاؔن مجید
قرآن اللہ کا کلام ہے، جو کامل ہدایت ہے، تمام انسانوں کے لیے۔ یہ وہ واحد کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ قرآنِ شریف میں وہ تمام علوم موجود ہیں جن سے بنی نوعِ انسان کو یا تو بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ’’وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں ،پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔‘‘ گویا اولادِ آدم کے لیے جو بھی علوم اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی کے لیے لازم بنائے، وہ سب کہیں مخفی تو کہیں صاف صاف بیان کیے گئے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے آخری نبیؐ کو مبعوث فرما کر جو کلام ان پر نازل کیا، وہ اولادِ آدم کے لیے ایک آخری نسخہ ہے۔اس لیے آنحضورؐ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ایسے عالم، فاضل، مفکر اور مفسر پیدا ہوئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کی خدمت مختلف انداز میں کی۔ حکیم محمد طاہر زیرِ تبصرہ کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔’’کئی ممتاز مبصروں کی رائے ہے کہ بہت سی سائنسی ایجادات اور کارناموں کا پہلے سے ہی قرآن میں تذکرہ موجود ہے ۔ میں اس فکر میں لگا کہ ان مشاہدات کو سائنس یا ریاضی کی زبان میں اظہار دیا جائے برسوں کی عمل کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ قرآن میں جگہ جگہ ریاضی کا ذیلی متن شاملِ حال ہے ۔‘‘( ص۔۱۹)یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ حکیم طاہر صاحب کی کتاب بھی ایک ایسے موضوع پر دلالت کرتی ہے جس میں عالمِ اسلام میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔حکیم محمد طاہر ایک ممتاز زرعی سائنسدان تھے، جنہوں نے ریاست کی زرعی ترقی، خصوصاً شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST) کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ زراعت کے ساتھ ساتھ وہ حیاتیاتی علوم، فلکیات، تاریخ، مذہب اور ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ اُنہوں نے ایک وسیع علمی کتب خانہ قائم کیا اور زندگی کے آخری برس قرآن کے مطالعے اور تفاسیر کے ذخیرے کی جمع آوری میں صرف کیے۔ اپنی تحقیق میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جدید سائنسی حقائق کی جھلک قرآن میں پہلے سے موجود ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے ایک اہم کتاب تصنیف کی، جو پہلے انگریزی میں شائع ہوئی اور جبکہ چند روز قبل اس کتاب کااردو ترجمہ شائع ہوا ۔ یہ تصنیف سائنس اور روحانیت دونوں سے اُن کی گہری وابستگی کی عکاس ہے۔ واضع رہے، یہ تبصرہ اردو ترجمہ کا ہے، جس کی رسمِ رونمائی ۳ مئی ۲۰۲۶ ءکو سرینگر میں ہوئی۔
یہ کتاب چھ (۶) ابواب پر مشتمل ہے، جن میں قرآنِ پاک کے ریاضیاتی پہلو سے متعلق مختلف مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے، مثلاً:’تخلیق اور تکوین‘، ’حروف، اعداد اور الفاظ‘، ’تخلیقِ کائنات اور انسان‘، اور ’ایمان یا عقیدہ کے ستون‘ وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ مصنف نے ابتدا میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآنِ مجید میں عددیات کا ذیلی متن موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’سورتوں کا نمبر شمار، آیت کا نمبر شمار، آیات کی تعداد، الفاظ میں حروف کی تعداد، کسی لفظ یا جملے کی تکرار، اور حروف کی ابجدی قیمت وغیرہ‘ جیسے تصورات کو اس میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔
مصنف کے مطابق، مثال کے طور پر نزولِ قرآن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہےکہ،’’رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا‘‘، اور دوسری جگہ فرمایا،’’ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔‘‘ ان دونوں آیات سے مصنف نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ نہایت دلچسپ بھی ہے اور موجودہ سائنسی تحقیقات کے مطابق بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ماہِ رمضان کے نمبر شمار اور ’’لیلۃ القدر‘‘ کی ابجدی قیمت سے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ قرآن کا آغاز 610ء میں ہوا تھا، جو ایک شمسی تاریخ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ مصنف نے اس طرح کے مزید ریاضیاتی اسلوب بھی بیان کیے ہیں۔ مثال کے طور پر باب ’’تخلیق اور تکوین کی زبان‘‘ میں موصوف نے قرآنِ شریف کی سورۂ الجن کی آیت،’’تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے۔‘‘ کی روشنی میں لکھتے ہیں کہ دراصل عربی زبان کے ہر حرف کی ابجدی قیمت ہی اسے ریاضیات کے استعمال کے قابل بناتی ہے، جس کا اشارہ سورۂ الجن کی اس آیت سے ملتا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں۔برسوں کی لگن اور محنت نے مجھے یہ باور کرایا کہ عربی زبان تخلیق و اختراع کی زبان ہے۔ اس زبان کے حروف و الفاظ مجھے اصول کے تعمیری ڈھانچے کے بنیادی اجزاء لگے، جن سے ’’کُن فیکون‘‘ کا درس ملتا ہے۔ یہ محض شوق اور جذبے کی بات نہیں کہ عربی کے حروفِ تہجی کو عربی کا ابجد کہا جاتا ہے، اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ریاضیاتی کوڈنگ اور ڈی کوڈنگ پہلے ہی سے ان میں موجود تھی۔( ص۔ 38)
حکیم طاہر دعویٰ کرتے ہیں کہ عربی حروف کی ابجدی قیمت صرف سائنسی معلومات ہی نہیں رکھتی بلکہ اس میں باطنی پہلو بھی شامل ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ، ’’حروف یا الفاظ ہونے کے علاوہ جب ان حروف کی ابجدی قیمت لگا کر ریاضیاتی عمل کیا جاتا ہے تو آیت نمبر، سورت نمبر وغیرہ بھی اُن سے اخذ کیے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ابجدی قیمت قرآنی متن کے ریاضیاتی حقائق کے عین مطابق ہے۔( ص۔ 39)
مصنف نے ابجدی علوم کی بنیاد پر کئی حیرت انگیز نتائج پیش کیے ہیں، جن میں زمین یعنی الارض، خشکی یعنی البر، چاند یعنی القمر، نظامِ شمسی، سیارے، فلکیاتی پیمانے اور روشنی یعنی نور کا ریاضیاتی حساب لگا کر جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں، وہ موجودہ سائنسی معلومات کے عین مطابق بیان کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ،’’ہم دراصل کوئی خیالی یا من مانی عدد نہیں لیتے ہیں بلکہ چیز کے عربی نام کا ابجد نکال کر اسے ڈھیر سارے اعداد نکل آتے ہیں اور اُن ہی اعداد سے ریاضیاتی اور سائنسی معینات کو سامنے لاتے ہیں۔‘‘( ص۔ 46 )
باب سوم ’’حروف، اعداد اور الفاظ‘‘ کے عنوان پر مشتمل ہے۔ اس باب میں مصنف نے مختلف حروف، اعداد اور الفاظ کے حوالے سے قرآنِ شریف میں موجود حروفِ مقطعات سے متعلق کچھ ایسے انکشافات پیش کیے ہیں جو بقولِ مصنف موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق ہیں۔ مثلاً، حروفِ مقطعات جن سورتوں کے آغاز میں آتے ہیں، ان میں سے جو آخری دو سورتیں ہیں، ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں:نمبر شمار کے حساب سے سورت نمبر50 اور سورت نمبر68 ۔اور مقطعات کے حساب سے سورۃ نمبر 28 اور 29، یہ دونوں سورتیں واحد حرف’ْق‘ اور’ن‘ سےشروع ہوتی ہیں،غیر معمولی حرف ’ن ‘ایک چھوٹے دائرے کے برابر دکھتا ہے، اس طرح سے ایک ایٹم ہائیڈ روجن کی علامت سے ملتا جلتا ہے اور اسی طرح حرف’ ق‘ کی شکل ایٹم ہیٖلیم، (Helium) کی علامت جیسا دکھتا ہے۔
(ق) ← سورۃ نمبر 50 یا دوسرے طور ( مقطعات ) سورة 28 ۔ہیٖلیم کامخفف، ایک پروٹان، دوالیکٹران [کے ساتھ](ن) ←سورۃ نمبر 68 یا دوسرے طور ( مقطعات ) سورة 29 ہائیڈ روجن (Hydrogen) کا مخفف [ہے] ۔ ایک پروٹان ایک الیکڑان [کے ساتھ]
حکیم طاہر اس موضوع کی حساسیت کو بھی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ،’’محض کسی حرف کی شکل کے اعتبار سے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یہ حرف ایٹم ہیں۔ تاہم تحقیق، طلب اور تلاش کے راستے کھل جاتے ہیں، بہت ساری باتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔‘‘( ص۔ 48)مصنف نے سورۃ ق اور القلم سے جو اعدادی ماخذات حاصل کیے ہیں، ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان کی ابجدی قیمت اور اس سے منسلک اعداد و شمار کی روشنی میں قرآنِ کریم کے ہر حرف میں کچھ نہ کچھ عیاں اور پنہاں ضرور ہے۔مصنف نے سائنس دانوں کے کائنات سے متعلق ابتدائی حیاتیاتی آمیزہ (Primordial soup) سے ماخوذ حقائق پر بھی مفید بحث کی ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ کائنات کا ابتدائی مو (Primordial Soup) کے ٹھنڈے ہو جانے سے بڑے بڑے عناصر نکل آنا شروع ہوئے، جیسے کہ کاربن اور لوہا‘‘( ص۔ 53)
مصنف نے مختلف ابجدی قیمتوں اور اعداد و شمار کا حساب لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سائنسی اندازوں کے مطابق حدید (لوہا) کا اصل ایٹمی وزن 55.845 ہے اور ابجدی اعداد و شمار کے مطابق بھی یہی عدد حاصل ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ تحریری اور ریاضیاتی مواد سے نہ صرف لوہا بلکہ دیگر دھاتیں، جن کا ذکر قرآنِ پاک میں ہے، جیسے سونا، چاندی اور تانبا وغیرہ، کی بھی ریاضیاتی مطابقت سامنے آتی ہے۔
حکیم طاہر نے جس باب کو ’تخلیق ،کائنات اور انسان‘ سے منسوب کیا ہے، اس میں سائنس دانوں کے صدیوں پر محیط فرسودہ خیالات پر ایک مفصل بحث کی ہے، جن کے مطابق کائنات کے ساکن ہونے کا تصور رائج تھا۔ مصنف کہتے ہیں،’’قرآن واحد دستایز ہے، جس نے اس رائے کو نکارا‘‘( ص۔ 57)۔ چونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ،’’یہ ہم ہیں جس نے کائنات بنائی اپنی تخلیقی قوت سے اور بے شک یہ ہم ہی ہیں جو اُس کو پھیلاتے ہیں۔( 51۔47)
مصنف نے عربی زبان کے لفظ ’’نور‘‘ کا ابجدی حساب لگا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآنِ شریف نے کس طرح 1400 سال پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ زمین ساکن نہیں ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ اسی طرح کے کئی مضامین، جو بظاہر ہمیں سائنسی معلوم ہوتے ہیں، اس کتاب کے مطالعے سے بخوبی واضح ہو جاتے ہیں کہ قرآنیات میں ریاضیاتی علوم کو کس طرح کھنگالا جاتا ہے۔اس باب میں تخلیقِ آدم کے موضوع پر بھی ایک سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ جیسے ’طین‘ اور ’آدم‘ کے حروف کے ابجدی مباحث کا بیان نہ صرف ایک نئی تحقیق کو جنم دیتا ہے بلکہ نہایت دلچسپ اور بامعنی گفتگو پیش کرتا ہے۔
مزید برآں، مصنف نے پیغمبروں کی سنہِ پیدائش سے متعلق جو انکشافات پیش کیے ہیں، وہ نہ صرف اہم ہیں بلکہ کافی معلوماتی اور بظاہر حقائق پر مبنی بھی ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مصنف نے انبیا ءکے مختلف واقعات سے جو ریاضیاتی حساب لگا کر ماخذات اخذ کیے ہیں، وہ نہایت مؤثر، تحقیقی اور جامع نوعیت کے حامل ہیں۔ مثلاًحضرت موسیٰؑ کے ساتھ چالیس راتوں کی ملاقات کے واقعے سے متعلق ان کی پیدائش کا تعین کرنے اور پھر فرعون کے اقتدار کے بارے میں معلومات اخذ کرنے کی کوشش شامل ہے۔اسی طرح مصنف نے دیگر کئی پیغمبروں کے بارے میں بھی مختلف انکشافات ریاضیاتی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، نامِ محمدؐ کی ابجدی قیمت لگا کر آپؐ کے سنہِ رسالت کا تعین اور ’’محمد رسول اللہؐ ‘‘ کے ابجدی شمار سے ہجرت کے وقت کا اندازہ لگانا، نیز دیگر آیات کی روشنی میں آپؐ کی مدتِ رسالت، بطور آخری پیغمبر اور بشر ہونے سے متعلق متعدد ریاضیاتی نکات بیان کیے گئے ہیں۔
اس کتاب کے آخری باب ’’ایمان اور عقیدہ کے ستون‘‘ میں مصنف نے کلمۂ شہادت میں ’’اللہ‘‘ اور ’’محمد‘‘ پر مبنی ابجدی بحث پیش کی ہے اور اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ ریاضیاتی اعتبار سے اسلام کا مفہوم اللہ اور محمد، یعنی مالک اور اس کے پیغمبر، سے مربوط ہے اور شہادت بھی اللہ اور محمد پر ایمان لانے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے دیگر ستونوں، جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج شامل ہیں، کے بارے میں بھی مختلف ریاضیاتی نکات بیان کیے گئے ہیں۔الغرض یہ کتاب ایک شاہکار ہے اور اس میں جن موضوعات پر بحث کی گئی ہے، اُن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ قرآنِ شریف کے اعجاز سے متعلق پیش کی گئی دلائل مزید واضح ہو سکیں اور یہ حقیقت بھی سامنے آئے کہ یہ کتاب، جو سراسر ہدایت ہے، اپنے اندر معجزاتی پہلو بھی رکھتی ہے۔
( نوٹ): واضح رہے کہ مصنف نے اپنی کتاب میں جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کے ذریعے حساب لگا کر کافی معلومات فراہم کی ہیں، جو زیادہ تر تحریری صورت ہی میں بہتر طور پر پیش اور سمجھی جا سکتی ہیں۔
کتاب کے اردو ترجمہ پر ایک مختصر نظر:
شہباز ہاکباری صاحب ایک مشہور شاعر، ریاضی دان، ادیب اور مترجم ہیں۔ موصوف نے اس کتاب کا ترجمہ نہایت حساس اور محتاط انداز میں کیا ہے۔ انہوں نے انگریزی ایڈیشن کے اصل متن کو جس خوبصورتی سے اردو کے سانچے میں ڈھالا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ماہرِ فن ہیں اور ریاضیاتی علوم پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ ہاکباری صاحب نے اس پورے ترجمے میں جو اسلوب اپنایا ہے، وہ اس کتاب کی اصل زبان میں کہی گئی ہر بات کی ممکنہ حد تک ترجمانی کرتا ہے، جو عام طور پر کسی بھی مترجم کے لیے ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ اس ترجمے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مترجم نے اکثر انگریزی اصطلاحات کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ انہیں اپنی اصل شکل میں برقرار رکھا ہے، مثلاً،گاڈ پارٹیکل، الیکٹران، فزکس، ایٹم، مرکری وغیرہ۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہاکباری صاحب کا یہ ترجمہ مرحوم حکیم طاہر صاحب کی انگریزی کتاب کی مکمل ترجمانی کرتا ہے اور اردو قارئین کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
(تبصرہ نگار ریسرچ اسکالرو مذہبی مطالیات ہیں)
رابطہ ۔ 7006583748