جی کیو کامران
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران کانگریس کے سینئیر لیڈر اور قانون ساز اسمبلی کے رکن غلام احمد میر نے جموں و کشمیر کے ٹھوس کچرے کے انتظام (Solid Waste Management) کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کوڑا کرکٹ اور کچرے کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر وضاحت طلب کی۔جس پر حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کوڑا کرکٹ اور کچرے کے انتظام کی زیادہ تر سہولیات رہائشی مراکز اور آبی ذخائر سے دور رکھی گئی ہیں۔ تاہم حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کچرے کا انتظام اب ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کوڑا کرکٹ اور کچرے کی تیزی سے بڑھتی مقدار ہے جو کچرے کو ٹھکانے لگانے کی موجودہ صلاحیتوں سے تجاوز کر رہی ہے۔ جی اے میر کی مداخلت کا اہم پہلو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور زمینی سطح پر اسکے استعمال میں پایا جانے والا واضح فرق ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ دیہی علاقوں میں بنائے گئے سیگریگیشن شیڈز (Segregation Sheds) محض اس لیے غیر فعال ہے کیونکہ کوڑا کرکٹ اور کچرے کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ٹھکانے لگانے کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے۔
انسانی سرگرمیوں کے ہر شعبے میںروزمرہ کے گھریلو کاموں سے لیکر بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار تک کوڑا کرکٹ اور کچرے کی پیداوار زندگی کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔عام طور پر کوڑا کرکٹ یا کچرا اس مواد کو کہتے ہیں جو اپنی بنیادی افادیت کھو چکا ہو۔ تاہم اس مواد کو بیکار سمجھنا دراصل ہمارے انتظامی نظام کی ناکامی ہے نہ کہ مواد میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کی کمی۔ کسی مواد کو محض اس بنیاد پر نظر انداز کرنا کہ وہ اپنا ابتدائی مقصد پورا کر چکا ہے ایک سنگین ماحولیاتی غلطی ہے۔اگر سائنسی حکمت عملی اپنائی جائے۔تو اس غیر استعمال شدہ مواد کو دوبارہ کارآمد بنا کر ایک آلودگی پھیلانے والے عنصر سے قیمتی اثاثے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام گندگی اور غلاظت کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام کی حفاظت بھی کرتا ہے۔جس سے تمام جانداروں کے لیے معیار زندگی بہتر بن جاتا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں دو طرفہ نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی موجودہ انتظامی ناکامیوں کی جڑوں کی تشخیص کرنی ہوگی کہ کچرا جمع کرنے کا نظام کیوں ٹوٹ رہا ہے اور اس کی مقدار ہمارے قابو سے باہر کیوں ہو رہی ہے۔ ایک بار جب ان خامیوں کی نشاندہی ہو جائے، تو ہمیں کچرے کے اس بڑھتے ہوئے طوفان کو سنبھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر عملی اور قابلِ اطلاق سائنسی حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔
کوڑا کرکٹ اور کچرے کی بھاری مقدار گھروں اور اپارٹمنٹس سے پیدا ہوتی ہے۔ اس زمرے میں نامیاتی مادہ جیسے بچا ہوا کھانا، پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، نیز خشک کچرا جیسے شیشے کی بوتلیں، پرانے کپڑے، پلاسٹک کے ریپرز وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ان کی صحیح درجہ بندی کی جائے تو ان کا ایک بڑا حصہ دوبارہ کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، زہریلا کچرا (Hazardous Waste) ماحولیاتی نظام کے لیے فوری اور شدید خطرہ ہے۔ اس میں کیڑے مار ادویات، گھریلو صفائی میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، استعمال شدہ بیٹریاں، الیکٹرانک کچرا اور زائد المیعاد ادویات شامل ہیں۔ یہ مواد انسانی صحت اور دیگر جانداروں پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اسے مٹی اور پانی کی آلودگی روکنے کے لیے مخصوص سائنسی طریقے سے سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔
ٹھوس کچرے میں بے پناہ اضافہ تیزی سے بڑھتے ہوئے شہری پھیلاؤ ، صنعت کاری اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا نتیجہ ہے۔ معاشی ترقی سے لوگوں کے استعمال کے طریقے بدل گئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آمدنی نے ڈبہ بند اشیاء اور عوامی استعمال کی اشیاء کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، جس سے گھریلو کچرے کی مقدار بہت بڑھ گئی ہے۔ شہری مراکز میں ‘صارفیت کا یہ نظام براہِ راست لینڈ فل سائٹس کے بھر جانے کا سبب بن رہا ہے۔
بحران کے باوجود عوامی شمولیت ایک کمزور کڑی بنی ہوئی ہے۔ کچرے کی درجہ بندی کے حوالے سے شعور کی شدید کمی ہے۔ نامیاتی، غیر نامیاتی اور زہریلے کچرے کو ایک ہی کوڑے دان میں ڈالنے کی عادت سائنسی پروسیسنگ کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ مزید برآں، سڑکوں، کھلے میدانوں اور آبی ذخائر میں کچرا پھینکنا ماحولیاتی قوانین اور عوامی صحت سے لاپرواہی کی عکاسی کرتا ہے۔
2014 میں صفائی ستھرائی کے نظام میں انقلاب لانے کے لیے شروع کیے گئے ‘سوچھ بھارت مشن نے ضروری انفراسٹرکچر جیسے شیڈز، کمپوسٹ یونٹس اور کلیکشن بن فراہم کیے، لیکن یہ مشن ناقص نفاذ کا شکار ہے۔ بہت سے سیگریگیشن شیڈز ماحولیاتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی بستیوں، شاہراہوں اور آبی ذخائر کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ سری نگر میں اچھن (Achan) ڈمپنگ سائٹ صحت کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے، جس کی بدبو رہائشیوں اور قریب ہی موجود سکمز (SKIMS) ہسپتال کے مریضوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اسی طرح، قومی شاہراہ این ایچ 44 کے قریب اونتی پورہ سالڈ ویسٹ پلانٹ کی موجودہ حالت انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں میونسپل کمیٹی بظاہر ‘سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز 2016’ کی براہِ راست خلاف ورزی کر رہی ہے۔
دیہی علاقوں میں سیگریگیشن شیڈز خستہ حال، غیر فعال اور لاوارث پڑے ہیں۔ عوامی کوڑے دان اکثر چوری ہو جاتے ہیں یا توڈ دیئےجاتے ہیں، جو عوامی ملکیت کے احساس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ نظامی انحطاط کا بنیادی محرک کچرے کے انتظام کے لیے کسی سائنسی طریقہ کار کا فقدان ہے۔ اگرچہ سیگریگیشن شیڈز تعمیر کئے گئے، لیکن حکومت ری سائیکلنگ کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ علیحدہ کیے گئے کچرے کو پروسیس کرنے کے لیے کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ تربیت یافتہ افرادی قوت اور تکنیکی مہارت کی کمی کی وجہ سے انفراسٹرکچر بیکار پڑا ہے۔ نتیجے کے طور پر، عوامی خزانے (ٹیکس دہندگان کا پیسہ) کا ایک بڑا حصہ ایسے غیر فعال ڈھانچے پر ضائع ہو رہا ہے جس کا کوئی عملی مقصد نہیں ہے۔گل مرگ، پہلگام ، سونہ مرگ اور دیگر اہم اور دلکش سیاحتی مقامات بھی کوڑا کرکٹ اور کچرے کی بڑھتی مقدار کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں سیاحوں کی کثیر تعداد اپنے ساتھ پلاسٹک اور پالیتھن کے کچرے کا سیلاب لا رہی ہے ۔
حل کی راہیں:کچرے کا موثر انتظام محض اسے ٹھکانے لگانے کا نام نہیں، بلکہ یہ کچرا جمع کرنے، اس کی ترسیل، سائنسی پروسیسنگ اور سخت ضابطہ کاری کا ایک ہمہ گیر عمل ہے۔ ایک صاف ستھرے جموں و کشمیر کی بنیاد ‘سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز 2016’ کے سخت نفاذ میں پنہاں ہے۔ حکومت کو محض ہدایات سے آگے بڑھ کر سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ پیداواری سطح پر ہی یک طرفہ استعمال والے پلاسٹک (Single-use Plastics) پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ ہمیں ‘آلودگی پھیلانے والا جرمانہ ادا کرے۔
(Polluter Pays) کے اصول کو اپنانا ہوگا، جہاں گندگی پھیلانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ ساتھ ہی، ان علاقوں اور دیہاتوں کو ترغیب دینے کے لیے ماحولیاتی اعزاز سے نوازا جانا چاہیے جو کچرے کے انتظام میں مثالی کارکردگی دکھائیں۔
گھریلو کچرے کو نامیاتی، غیر نامیاتی اور زہریلے حصوں میں تقسیم کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ کچرے کی منتقلی کے لیے بند اور ڈھکے ہوئے ٹیمپوز (Tempos) استعمال کیے جائیں تاکہ راستے میں بدبو نہ پھیلے۔ صفائی کرمچاریوں کی تربیت اور حفاظت کے لیے سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے۔ ہمیں کچرے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک ‘وسیلہ سمجھنا ہوگا۔ کچن اور نامیاتی کچرے کو کمیونٹی کمپوسٹنگ یونٹس یا بائیو گیس پلانٹس کی طرف منتقل کرناچاہیے تاکہ ہمیں گھریلو استعمال کے لیے توانائی کے ساتھ ساتھ باغات اور کھیتوں کے لیے موثر نامیاتی کھاد مل سکے۔
ہمیں ماحولیاتی لچک کے تین ستونوں یعنی کم کرنا (Reduce)، بازیافت کرنا (Recycle), اور دوبارہ استعمال کرنا (Reuse) کو ترجیح دینی چاہیے۔ پالیتھن کی جگہ کپڑے کے تھیلوں کا استعمال ایک چھوٹی سی لیکن انقلابی تبدیلی ہے۔ مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں اور ماحولیاتی کارکنوں کو اخلاقی اور عوامی شعور کی بیداری میں پیش پیش رہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کو ماحولیاتی نقصان پہنچانے والوں کی نشاندہی کرنے اور ماحولیاتی کامیابیوں کا جشن منانے کے لیے ایک طاقتور آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر کو کچرے کے بحران سے محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی عزم کا امتحان ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سخت قانونی نگرانی اور عوام کے غیر متزلزل تعاون کے ذریعے ہی مشترکہ ماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر کو آلودگی کے ڈھیر سے ایک ‘پائیدار خطے میں تبدیل کرنا محض ایک انتظامی ہدف ہی نہیں ، بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔