بنی / /کوٹی چنڈھیارسڑک کی تعمیرسست روی اورانتظامیہ ومتعلقہ محکمہ کی غیرسنجیدگی کے خلاف علاقہ کے لوگوں نے مسلسل تیسرے روزبھی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔یہ لوگ مسلسل تیسرے روزسے احتجاج کررہے ہیں، پہلے روزلوگوں نے بنی میں احتجاجی ریلی نکالی تھی،اور دوسرے روز بھی مظاہرہ کرکے 4 گھنٹوں تک بنی بسوہلی سڑک کو بیکن کے مقام پر بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے بنی بسوہلی سڑک پر ٹریفک نظام معطل ہو کر رہ گئی تو وہی اسکولی بچوں و دیگر مسافروں کو سخت اس درمیان مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ،احتجا ج کے تیسرے روز مظاہرین نے بنی لوانگ سڑک کو ایک گھنٹے تک بند رکھا۔تفصیلات کے مطابق سات ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل بنی تحصیل کا دوردراز علاقہ کوٹی چنڈھیار سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ مذکورہ علاقے کے لوگوں نے سڑک کام جلد شروع کرنیکی مانگ کو لے کر ریاست کی مخلوط پی ڈی پی اور بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے مطابق قبل چار سال پہلے علاقے کی سڑک کی ڈی پی آر تیارہوئی تھی اور گزشتہ سال بنی کے ایم ایل اے نے سڑک کا سنگ بنیادرکھاتھااوراس کے باوجود بھی سڑک کا تعمیری کام شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کا ایک وفد نے وزیر جنگلات چوہدری لال سنگھ و دیگر اعلی لیڈران کے ساتھ ملاقات بھی کی اور ہر بار کی طرح لوگوں کو یقین دلایا گیا کہ مذکورہ علاقے کی سڑک کا تعمیری کام جلد ہی شروع کر دیا جائے گا لیکن یقین دہانی کے بعد دو ماہ گذر جانے کے بعد بھی سڑک کا کام شروع نہیں ہوا صرف لوگوں کو یقین دہانی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔انہوں بتایا کہ گزشتہ برس بھی ایم ایل بنی نے کرائے کی مشین لا کر سڑک کا کام شروع کرایا جو کہ صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کا کام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سرکاروں نے علاقے کوٹی چنڈھیار کے لوگوں کے ساتھ سْوتیلی ماں جیسا سْلوک تو کیا ہی ہے جبکہ موجودہ حکومت سے کافی اْمیدیں تھی تاہم موجودہ سرکار نے یہاں کی عوام کو بے وقوف بنا کر سڑک کا تعمیری کام شروع کیا تھا وہ سب ایک فلموں کے ٹریلر جیسا تھا ۔جاوید احمد اور ایڈوکیٹ رکیش ٹھاکور نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے چار ماہ میں 26 کلو میٹر سڑک محاذ 6 میٹر ہی بن پائی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ بی جے پی نے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ہیں اورصرف عوام کااستحصال ہی کیا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ مخلوط حکومت ایک طرف دہشت گردوں کو 6 لاکھ روپے دینے کا اعلان کر رہی ہے تو وہیں ریاست میں لاکھوں نوجوان روزگار کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ بنی کا پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے چنڈھیار کی عوام نے بنی میں ملی ٹنسی کے دور میں بھی دیش دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا یہ ایک ہزاروں کی مسلم آبادی پر مشتمل گاؤں ہے انہوں نے کبھی بھی ملک کے خلاف بات نہیں کی ہے اور نہ ہی کبھی کریں گے ۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ جہاں ایک طرف بھارت کی موجودہ سرکار بلٹ ٹرین کی بات کرتی ہے اور تو وہیں بنی سے بسوہلی بھداروا ہ کو بھی ڈبل لائن کا اعلان کیا گیا ہے تو اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسے ہزاروں ہی نہیں لاکھوں پسماندہ علاقے ہیں جو سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو پھر کس طرح ڈیجیٹل انڈیا بنانے کی بات کر رہے ہیں ۔ بعدازاں ایس ڈی ایم، اجیت سنگھ ، بنی آر اْو اور پی ایم جی ایس وائی کے جے ای عوام نے لوگوں کویقین دہانی کرائی کہ اس مسئلے کوحل کیاجائے گا۔