سرینگر//ڈائریکٹرہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھرنے فائنانشل کمشنرصحت اورطبی تعلیم کے او ایس ڈی ڈاکٹر شفقت خان کے ساتھ ہفتے کو بڈگام کا دورہ کیا اور شعبہ صحت کے کارکنوں کیلئے تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ سروسز کشمیر کے ترجمان نے بتایا کہ تربیت کا مقصد کووڈ کو روکنا ہے ۔ورکشاپ کے افتتاح کے بعد ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ تیسری کووڈ لہر سے نمٹنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کو اپنانا ہے۔انہوںنے کہا ’’ہم ان تمام پنچائتی راج اداروں سے تعاون حاصل کریں گے جن میں پنچایت ، بلاک اور دیہی کمیٹیاں شامل ہوں گی ، اس کے علاوہ نمبرداروں اور چوکیداروں سمیت محصولات کے عہدیداروں کی خدمات کو بھی موثر انداز میں متحرک کرنے کے لئے تیار کیا جائے گا‘‘۔ڈائریکٹر نے اعادہ کیا کہ وہ تیسری کوووڈ لہر کے خدشات کے درمیان کسی بھی طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس موقع پر کانفرنس ہال بڈگام میں سی ایم او بڈگام ڈاکٹر تجمل الحسن ، کووڈ۔19 کے ساتھ منسلک ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف موجود تھا۔ڈاکٹر مشتاق راتھر نے کورونا سے نمٹنے کیلئے ضلع اننت ناگ کے ماڈل اسپتال ڈورو اور پرائمری ہیلتھ سینٹر ویری ناگ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران موصوف نے طبی عملہ سے تبادلہ خیال کیا اور انہیں درپیش مشکلات کا جائزہ لیا۔انہوں نے ویکسین کے حوالے سے کی جارہی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ویکسینیشن محفوظ ہے لہذا لوگ ویکسینیشن کے لئے آگے آئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آنے والے وقت میں طبی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔شاہ آباد سٹیزن فورم، ٹریڈ یونین ڈورو، اوقاف کمیٹی ڈورو، واوقاف کمیٹی ناڈورو نے مشرکہ طور پر ڈائریکٹر سے ملے اور ماڈل اسپتال ڈورو میں عملہ کی کمی اور اسپتال میں آکسیجن پلانٹ کو جلد چالو کرنے اورزچہ بچہ اسپتال چالو کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔ ڈائریکٹر نے لوگوں کو یقین دلایا کہ اسپتال کے حوالے سے عوام کو جو بھی مسائل درپیش ہیں،انہیں آنے والے چند دنوں میں دور کیا جائے گا اور زچہ بچہ اسپتال پر بہت جلد کام شروع کیا جائے گا ۔