امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ایک عام دوا کرونا وائرس کو زکام یا نزلہ کی طرح قابل علاج بنا سکتی ہے۔نیویارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق کے مطابق اس وائرس کو اپنی بقا کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پھیپھڑوں کی خلیات کے اندر جمع ہونے والی چکنائی یا چربی وہ اہم ترین جز ہے، جس کی وائرس کو اپنی نقول بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔وائرس کو اس سے دور رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا ممکن ہوسکے گا اور محققین کا دعویٰ ہےکہ اس سے کووڈ 19 کی شدت کسی عام نزلہ زکام جتنی کم کی جاسکتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کس طرح ہمارے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جس کے بعد دوبارہ اس وائرس پر کنٹرول اور اسے اپنی بقا کے لیے درکار وسائل سے محروم کرسکتے ہیں۔تحقیق کے دوران مختلف ادویات کو استعمال کرکے دیکھا کہ وہ کس حد تک وائرس کو نقول بنانے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے دریافت کیا کہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے والی ایک دوا فینوفائبریٹ (fenofibrate) کے استعمال سے آنے والے نتائج حوصلہ افزا تھے جو پھیپھڑوں کے خلیات کو زیادہ چربی گھلانے میں مدد دیتی ہے اور کورونا وائرس کو پھلنے پھولنے کے لیے درکار ماحول کا خاتمہ کردیتی ہے۔لیبارٹری میں تحقیق کے دوران محققین نے 5 دن میں اس دوا سے علاج کے دوران وائرس کو لگ بھگ مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
چند ماہ قبل کیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ چین میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں ہر 4 میں سے 3 مریض کم از کم پہلے سے کسی بیماری کا شکار تھے۔ان میں سے 40 فیصد سے زیادہ افراد کو ہائی بلڈ پریشر جبکہ 25 فیصد سے زیادہ کو امراض قلب کا سامنا تھا اور یہ دونوں امراض ہائی کولیسٹرول سے جوڑے جاتے ہیں۔
امریکا کے رینسیلیر پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خون پتلا کرنے والی ایک دوا ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کا شکار ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکا کے ادارے فوڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظور شدہ ایک عام دوا کووڈ 19 کے خلاف کے لیے طاقتور ٹول ثابت ہوسکتی ہے۔
کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس اپنی سطح کے اسپائیک پروٹین کو استعمال کرکے انسانی خلیات کو جکڑتا ہے اور پھر بیماری کا باعث بن جاتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مداخلت کرکے ایسے افراد میں بھی بیماری کو کم کیا جاسکتا ہے جن میں وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے مگر علامات سامنے نہیں آئیں، مگر ہم اسے ایک بڑی اینٹی وائرل حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ یقیناً ہم ایک ایسا ویکسین چاہتے ہیں جس سے کسی وائرس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جیسا ہم نے ایچ آئی وی میں ادویات کے درست امتزاج کے ساتھ دیکھا، ہم اس وقت تک بیماری کو کنٹرول کرسکتے ہیں جب تک ایک ٹھوس ویکسین تیار نہیں ہوجاتی۔کسی خلیے کو متاثر کرنے کے لیے ایک وائرس پہلے خلیے کی سطح پر ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، پھر خلیے کی جھلی سے گزر کر اپنی جینیاتی ہدایات کو داخل کرکے مشینری کو ہائی جیک کرکے اپنی نقول بنانے لگتے ہیں۔
مگر وائرس کو آسانی سے ایک ایسے مالیکیول کی جانب دھوکا دے کر لایا جاسکتا ہے جو اس کے لیے خلیاتی ہدف کی شکل اختیار کرتا ہے، اگر با بار وہاں پھنسنے پر وائرس کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے اور وہ کسی خلیے کو متاثر یا خود کو آزاد نہیں کراپاتا، جبکہ بتدریج ناکارہ ہونے لگتا ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے اس دوا کی 3 اقسام میں دیکھا تھا کہ وہ وائرس کو کتنی سختی سے پکڑتی ہیں اور پھر کمپیوٹینشنل ماڈل کو استعمال کرکے ان مخصوص حصوں کا تعین کیا جہاں یہ مالیکیول وائرس کو جکڑ سکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ واحد وائرس نہیں جس کا سامنا ہم کسی وبا کے دوران کررہے ہیں، ہمارے پاس بہترین اینٹی وائرلز نہیں مگر آگے بڑھنے کا ایک راستہ موجود ہے۔
فون نمبر۔ 9682334479