ڈاکٹر شگفتہ خالدی
سرینگر کے رعناواری علاقے میں واقع جواہر لال نہرو میموریل (JLNM) ہسپتال شہر کے اہم سرکاری طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ہسپتال کئی دہائیوں سے عوام کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے اور ہزاروں مریض روزانہ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ماضی میں محدود وسائل کے باوجود اس اسپتال کو عوامی خدمت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا لیکن اب حالت ایسی ہو گئی ہے کہ ’’اونچی دکان، پھیکا پکوان‘‘ کی کہاوت اس پر صادق آتی ہے۔چند برس قبل جب ہسپتال کی جدید کاری اور توسیع کا منصوبہ شروع کیا گیا تو عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نئی عمارتوں جدید سہولیات اور بہتر علاج کے وعدوں نے لوگوں کو امید دلائی کہ اب انہیں معیاری طبی خدمات میسر آئیں گی۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ہسپتال میں جدید طبی مشینری کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کئی اہم ٹیسٹ اور تشخیصی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں یا نجی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سےغریب اور متوسط طبقے کے لیے صورتحال پریشان کن ہے۔ ایک سرکاری ہسپتال سے عوام کی یہی توقع ہوتی ہے کہ انہیں کم خرچ اور بہتر علاج فراہم ہوگا، لیکن جب بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو مایوسی پیدا ہونا فطری امر ہے۔عملے کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ کئی شعبوں میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پیرامیڈیکل عملہ ضرورت سے کم ہے۔ نتیجتاً موجودہ عملے پر غیر معمولی دباؤ رہتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن محدود وسائل اور افرادی قوت کی کمی ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ہسپتال کے بعض وارڈز اور دیگر حصوں میں صفائی ستھرائی کا نظام بھی عوامی شکایات کا سبب بنتا ہے۔ ایک ہسپتال میں صاف ستھرا ماحول نہ صرف مریضوں کے اعتماد کو بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ٹوٹا پھوٹا فرنیچر ،ناکافی انتظار گاہیں اور بنیادی سہولیات کی کمی بھی عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ بزرگ افراد، خواتین اور بچوں کو گھنٹوں لائنوں میں انتظار کرناانتہائی کوفت کا باعث بن رہا ہے۔
ہسپتال کی کینٹین کا غیر فعال یا غیر تسلی بخش نظام بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والے تیمارداروں کو کھانے پینے کی مناسب سہولت حاصل نہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے یہ مسئلہ سنگین بن جاتا ہے۔ ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں معیاری اور فعال کینٹین بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ہسپتال میں مریضوں ضروری ادویات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال میں تمام ضروری ادویات مناسب مقدار میں دستیاب ہونی چاہئیں تاکہ مریضوں کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی کارکن محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی ڈاکٹرز دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ نظام اور وسائل کی کمی کا ہے۔ حکومت اور محکمہ صحت جے ایل این ایم اسپتال رعناواری کی حالت بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ جدید طبی آلات فراہم کیے جائیں، خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے، صفائی اور انتظامی نظام کو بہتر بنایا جائے اور مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔ صرف نئی عمارتیں تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا اصل مقصد ہونا چاہیے۔رعناواری ہسپتال سرینگر کی صحت عامہ کے نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ اگر اس کے مسائل کو بروقت حل کیا گیا تو یہ ادارہ ایک مثالی اسپتال بن سکتا ہے۔
�����������������