حکومت نے ملکی معیشت کو 2024-25 تک پانچ کھرب ڈالر تک لے جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اگر چہ بہت سے ماہرین کے نزدیک اس ہدف کو حاصل کرنا آسان نہیں تھا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور حکومت کے اقتصادی مشیروں کو یہ اعتماد تھا کہ حکومت کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا اور ہندوستان جو کہ دنیا کی ایک بہت بڑی قوت بننے کی کوشش کر رہا ہے اس میں کامیاب ہو جائے گا۔ وزیر اعظم، حکومت کے بہت سے وزرا اور بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں کی جانب سے اسے ہندوستان کا ’’وشو گرو‘‘ بننا کہا جا رہا تھا۔ یعنی اگر ہم مذکورہ ہدف حاصل کر لیں تو دنیا کے نمبر ون ملک بن جائیں گے۔ لیکن مستقبل کی زنبیل میں کیا کچھ ہے اور وہ کب کیا چیز نکال کر دنیا کے سامنے پیش کر دے کوئی نہیں جانتا۔ کیا کسی کو معلوم تھا کہ کرونا وائرس یا کووڈ۔19 نامی کوئی بیماری آنے والی ہے جو نہ صرف کسی ایک ملک یا خطے کو متاثر کرے گی بلکہ پوری دنیا اس کی زد پر آجائے گی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ دنیا کے تمام ممالک کے باشندے اپنے اپنے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہو جائیں گے تاکہ اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن اس بیماری نے چین سے اپنی ہلاکت خیزی کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ تقریباً پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اس نے نہ صرف انسانی جانوں کی قربانی لی بلکہ دنیا کی بہت بڑی آبادی کو بے روزگار بھی کر دیا۔ کروڑوں افراد بھکمری کے شکار ہو گئے۔ اس نے تقریباً تمام ملکوں کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا۔ اس تباہی و بربادی کے ملبے سے باہر نکلنے کے لیے متاثرہ ملکوں کو برسوں تک جاں فشانی کرنی پڑے گی۔ ہندوستان بھی اس وبا سے اچھوتا نہیں رہا۔ یہاں بھی اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کروڑوں کی روزی روٹی ختم ہو گئی ہے۔ کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہندوستانی معیشت کی گاڑی پانچ کھرب ڈالر کے اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے ہی بہت بڑے حادثے کا شکار ہو جائے گی۔ اب کسی بھی اقتصادی ماہر کے اندر یہ کہنے کی جرأت نہیں رہ گئی کہ ہندوستانی معیشت پانچ کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ خیال رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ نے گزشتہ سال ہندوستان کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ اگر ہندوستان 2026 تک بھی 2019-20کی شرح نمو کو پا لے تو غنیمت ہے۔ ورنہ یہ صورت حال اور آگے تک برقرار رہ سکتی ہے۔
کرونا وبا نے معیشت کو اس طرح متاثر کیا کہ ایسی تباہی چالیس برسوں میں پہلی بار آئی ہے۔ چار دہائیوں میں ایسا پہلی بار دیکھا جا رہا ہے کہ معیشت کی ترقی معکوس ہوئی ہے اور وہ مثبت سمت میں جانے کے بجائے منفی سمت میں چلی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق مالی سال 2021 میں ہندوستان کی شرح نمو منفی سات اعشاریہ تین فیصد درج کی گئی۔ اعداد و شمار سے متعلق حکومت کے ادارے نیشنل اسٹیٹسٹکل آفس (این ایس او) کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق 2020-21 کی چوتھی سہ ماہی (جنوری۔مارچ) کے دوران اقتصادی شرح نمو میں 1.6 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ جبکہ پورے مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں منفی سات اعشاریہ تین فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ حالانکہ جنوری تا مارچ 2021 کے دوران شرح نمو پچھلی سہ ماہی کے صفر اعشاریہ پانچ فیصد کے مقابلے میں بہتر رہی۔ لیکن چوتھی سہ ماہی کے نتائج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کی صحت بہتر نہیں ہے اور اگر اسے سنبھالا نہیں گیا تو اس میں اور ابتری آسکتی ہے۔ بنگلور کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق گزشتہ سال کرونا کی پہلی لہر کے دوران 23 کروڑ ہندوستانی شہری غربت میں چلے گئے تھے۔ مطالعے میں 375 روپے یومیہ سے کم میں زندگی گزارنے والوں کو غریب مانا گیا ہے۔ ہندوستانی معیشت کی نگرانی کرنے والے ادارے ’’سینٹر فار مانیٹرنگ دی انڈین اکانومی‘‘ کے مطابق کرونا کی دوسری لہر کے دوران نافذ کیے جانے والے لاک ڈاون کی وجہ سے 73 لاکھ افراد نے صرف اپریل ماہ میں اپنا روزگار گنوا دیا۔ یاد رہے کہ کرونا کی دوسری لہر میں آٹھ ہفتوں کے دوران ایک لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق غیر منظم شعبے کے 90 فیصد کارکنوں کو حکومت کی جانب سے کوئی مالیاتی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ وزارت تجارت نے گزشتہ دنوں اپریل ماہ کے لیے آٹھ اہم صنعتوں کے پیداواری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نئے مالی سال میں یہ اقتصادی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مذکورہ صنعتوں کی پیداوار میں منفی 15.1 فیصد تک گراوٹ آئی ہے۔ جبکہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے معاشی ماہرین نے رواں سال 2021-22 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10.4 فیصد کی شرح نمو کے اندازے کو گھٹا کر 7.3 فیصد کر دیا ہے۔ اہم سرکاری بینکوں کے ماہرین کے مطابق معیشت میں ابتری کی وجہ کرونا کی دوسری لہر ہے۔ آنے والے دنوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں صورت حال بہت خراب رہنے والی ہے۔ حکومت کے اقدامات پر متعدد ماہرین معیشت نے تنقید کی ہے۔ نوبیل امن انعام یافتہ ماہر معیشت ایستھر ڈوفلو اور ابھیجیت بنرجی نے حکومت کی جانب سے غریبوں کو براہ راست کیش ٹرانسفر نہ کرنے پر حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔ برطانیہ کی ایک مالیاتی فرم ’’برکلیز‘‘ نے اندازہ لگایا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ہندوستانی معیشت کو 74 ارب ڈالر یا مجموعی قومی پیداوار کا 2.4 فیصد کا نقصان ہواہے۔ بہرحال وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں ویکسین کے سلسلے میں جو اعلان کیا اس کے دوران انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت ملک کے 80 کروڑ لوگوں کو نومبر تک مفت راشن دیا جائے گا۔ یہ ایک اچھا اعلان ہے۔ اس سے کم از کم روزی روٹی کے لیے محتاج افراد کو کچھ تو سہارا ملے گا۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی بہت زیادہ بڑھی ہے جو کہ غریبوں کی زندگی پر ایک کاری ضرب ہے۔ حزب اختلاف نے الزام عاید کیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں ملکی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ہم نے پہلے ہی حکومت سے اپیل کی تھی کہ سرکاری خرچ بڑھایا جائے، غریبوں کے کھاتے میں پیسے پہنچائے جائیں اور انھیں مفت راشن دیا جائے۔ لیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ان کا یہاں تک کہنا ہے کہ موجودہ اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دو برسوں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ لوگ غریب ہوئے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ معیشت کی موجودہ منفی شرح نمو خلاف توقع نہیں ہے۔ متعدد ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ کنٹریکشن یا منفی شرح نمو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ شرح نمو کا اندازہ لگانے کا موجودہ حکومت کا جو طریقہ کار ہے وہ درست نہیں ہے۔ غیر منظم شعبے کا اندازہ کافی کمزور طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ حکومت میں جو لوگ اقتصادی پالیسی وضع کرتے ہیں انھوں نے ماہرین معیشت کے متعدد مشوروں کو پوری طرح نظرانداز کیا۔ پوری دنیا میں معیشت کو سدھارنے کے لیے غریبوں کے کھاتے میں پیسے منتقل کیے گئے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہوا۔ جبکہ ماہرین نے مشورہ دیا تھا کہ غریبوں کو ماہانہ پانچ سے آٹھ ہزار روپے تین ماہ یا چھ ماہ تک دیے جائیں۔
کرونا وبا نے ہندوستان کی صرف معیشت کو ہی شدید دھچکہ نہیں پہنچایا بلکہ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کا خیال ہے کہ حکومت کرونا وبا پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی رہنماؤں کی مقبولیت کا سروے کرنے والی ایک امریکی ایجنسی ’’مارننگ کنسلٹ‘‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم مودی کی مقبولیت میں 22 پوائنٹ کی گرواٹ آئی ہے۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی ان کی مقبولیت کا گراف 63 پوائنٹ پر ہے۔ حکومت اور بی جے پی کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ گراف اب بھی اونچا ہے اور مودی اب بھی ملک کے سب سے مقبول وزیر اعظم ہیں۔ اسی دوران نیوز چینل اے بی وی پی اور سی ووٹر نے بھی ایک سروے کیا ہے۔ اس میں بھی مودی کی مقبولیت میں کمی دکھائی گئی ہے۔ اس سروے کے مطابق 31 فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ وہ مودی حکومت کے سات برسوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن 37 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ جبکہ 28 فیصد ایسے ہیں جو جزوی طور پر متفق اور جزوی طور پر ناراض ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جو 28 فیصد لوگ ہیں یہ مودی حکومت کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کو 31 فیصد میں شمار کرنے کے بجائے 37 فیصد میں شمار کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ پارلیمانی انتخابات میں مودی کو 38 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ا س لحاظ سے ان کی مقبولیت میں کافی کمی آئی ہے۔ سی ووٹر کا کہنا ہے کہ یہ سروے یکم جنوری سے 28 مئی 2021 کے درمیان 543 لوک سبھا حلقوں میں ایک لاکھ 39 ہزار افراد سے پوچھے گئے سوالوں پر مبنی ہے۔ مبصرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ اگر آج پارلیمانی انتخابات ہوں تو مودی حکومت کو محض 31 فیصد ہی ووٹ ملیں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق 41.1 فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ کرونا وبا مودی حکومت کی پہلی بڑی ناکامی ہے۔ 23.1 فیصد کا کہنا ہے کہ زرعی قوانین دوسری بڑی ناکامی ہے۔ ساٹھ فیصد کا خیال ہے کہ کرونا وبا کے دوران انتخابات نہیں کرائے جانے چاہئیں تھے۔ 52 فیصد کے خیال میں حکومت نے لاک ڈاون کے دوران غریبوں کی مدد نہیں کی۔ 55 فیصد کا خیال ہے کہ کرونا وبا میں کمبھ میلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہرحال وزیر اعظم مودی کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے چلا گیا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مودی کا کوئی متبادل سامنے آجائے تو بی جے پی کے لیے 2024 کا الیکشن جیتنا آسان نہیں ہوگا۔
( مضمون کا ایک نیا پہلو اگلے ہفتے مضمون ملاحظہ فرمائیں)
موبائل۔ 9818195929