ان کی حفاظت محض سرکار کی نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
فکرو ادراک
غلام قادر جیلانی
کشمیر کی آبی پناہ گاہیں جہاں سیلاب کی روک تھام اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے قدرتی مخزن کا کام انجام دیتی ہیں۔ وہیں یہ حیاتیاتی تنوع کا ایک ایسا انمول گہوارہ ہیں جو موسمِ سرما کے دوران لاکھوں مہاجر پرندوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں جو کشمیر میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ہزاروں میل دور سائبیریا، چین، فلپائن، مشرقی یورپ اور جاپان کے برفانی خطوں سے ہجرت کر کے وادی کے نیلگوں پانیوں کا رخ کرتے ہیں۔
وسط اکتوبر سے مارچ تک، تقریباً پانچ ماہ کے قیام کے لیے یہ پرندے کشمیر کی جھیلوں، دلدلی علاقوں اور آبی پناہ گاہوں (Wetlands) کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ یہاں کی معتدل سردی اور وافر خوراک انہیں اپنے آبائی علاقوں کی جان لیوا سردی کی شدت اور موسم کے قہر سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پن ٹیل، گیڈوال، ویجن، پوچارڈ، ملارڈ، سرخاب، ڈیفٹڈ ڈک،جل مرغی اور راج ہنس جیسے رنگ برنگے پرندے جب وادی کے پانیوں پر ڈیرہ ڈالتے ہیں، تو ایک سحر انگیز منظر تخلیق ہوتا ہے۔
کشمیر کے جن آبی پناگہوں کو یہ مہاجر پرندے اپنا مسکن بناتے ہیں ان میں ہوکرسر،جھیل ولر،ہائیگام اور شالہ بگ، ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کے باعث خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان اہم مقامات کے علاوہ ڈل جھیل، پرچھل اور چٹلم جیسے آبی ذخائر بھی موسم سرما کے دوران ان رنگ برنگے مہمان پرندوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں
مہاجر پرندوں کی ہجرت ایک دلکش، حیرت انگیز اور منظم نظام کے تحت ہوتی ہے سائنسدانوں اور ماہرین نے پرندوں کی ان پروازوں کے لئے دنیا بھر میں نو فضائی راستوں(Flyways) کی نشاندہی کی ہیں۔کشمیر کی آبی پناہ گاہیں جس عالمی شاہراہ پرواز کا حصہ ہے۔اسے بین الاقوامی سطح پر سنٹرل ایشین فلائی وے (Central Asian Flyway) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ہجرت کے دوران ان پرندوں کو دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ کو عبور کرنا پڑتا ہے۔بار ہیڈڈ گوس (Bar-headed Goose )نامی مہاجر پرندہ آمد اور واپسی پر مجموعی طور دس ہزار کلو میٹر کی طویل مسافت طے کرتا ہے۔
ہوکرسر جسےکوئین آف ویٹ لینڈز(Queen of Wetlands) کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔کشمر کی آبی پناگاہوں میں ایک منفرد اور کلیدی اہمیت رکھتا ہے تقریباً 13.75 مربع کلومیٹر پر محیط اس آبی پناہ گاہ کو اس کی بین الاقوامی اہمیت کے پیشِ نظر 2005 میں ‘رامسر سائٹ (Ramsar Site) کا درجہ دیا گیا۔ یہ آبی پناہ گاہ جہاں سیلاب کے خطرات کو کم کرنے اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں یہ اپنے سازگار ماحول کی بدولت لاکھوں مہاجر پرندوں کی پسندیدہ قیام گاہ بھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے بیچ میں واقع دلدل (Marshy areas) اور خشکی کے قطعات ہیں، جو پرندوں کے آرام اور بسیرا کرنے کے لیے موزوں جگہیں فراہم کرتے ہیں۔خوراک کی فراہمی کے لحاظ سے بھی ہوکرسر ایک خود کفیل آبی پناہ گاہ ہے۔ یہاں موجود آبی پودے، بیج، اناج، کیڑے مکوڑے اور چھوٹی مچھلیاں مہاجر اور مقامی پرندوں کو وافر مقدار میں غذا فراہم کرتی ہیں۔ یہ آبی پناہ گاہ ، پن ٹیل، ملارڈ، راج ہنس (Geese) اور سوان (Swan) جیسے خوبصورت پرندوں کا پسندیدہ آشیانہ ہے۔
ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل اور عالمی اہمیت کی حامل رامسر سائٹ، جھیلِ وولر، موسمِ سرما کے دوران لاکھوں مہاجر پرندوں کے لیے ایک کلیدی پناہ گاہ اور محفوظ قیام گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ جھیل نہ صرف پناہ گزین پرندوں کو وافر مقدار میں قدرتی خوراک فراہم کرتی ہے بلکہ اپنے وسیع دامن میں انہیں ایک سازگار ماحول بھی میسر کرتی ہے۔ یہاں قیام کرنے والے مہمان پرندوں میں نیل سر (Mallards)، پن ٹیل، گیڈوال اور چھوٹی مرغابیاں (Teals) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
آبی پناہ گاہ ہائیگام اپنے بے مثال حیاتیاتی تنوع اور سازگار ماحول کی بدولت مہاجر پرندوں کے لیے ایک مثالی مسکن کی حیثیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی اہمیت کی حامل یہ ‘رامسر سائٹ سنٹرل ایشین فلائی وے (Central Asian Flyway) کے ذریعے سائبیریا اور یورپ سے ہجرت کرنے والے لاکھوں پردیسی مہمان پرندوں، بالخصوص بطخوں، ہنس اور مرغابیوں کے لیے موسمِ سرما کے دوران ایک کلیدی پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ یہ مقام نہ صرف ان مسافر پرندوں کی بقا کا ضامن ہے بلکہ وادی کے ماحولیاتی حسن کا ایک انمول اثاثہ بھی ہے۔
ضلع گاندربل میں واقع شالہ بگ آبی پناہ ایک ایسی بین الاقوامی رام سر سائٹ ہے جو موسم سرما کے دوران نیل سر، پن ٹیل،شولر، اور سائبیرائی بطخوں جیسے خوبصورت مہاجر پرندوں کے لئے پرکشش اور محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔
وادی کشمیر کے مشہور زمانہ ڈل جھیل کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں واقع آبی پناہ گاہ چٹلم بھی موسم سرما کے دوران ان پردیسی مہمانوں کی میزبانی میں پیچھے نہیں رہتے جہاں ان پرندوں کی کثیر تعداد ہجرت کا وقت گزارنے کے لئے ڈیرہ ڈال دیتے ہیں ۔
کشمیر کے ماحولیاتی نظام کی پائیداری میں مہاجر پرندوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پرندے جہاں بڑی مقدار میں نقصان دہ کیڑے مکوڑوں اور ان کے لاروؤں کا شکار کر کے فصلوں کو بیماریوں سے بچاتے ہیں وہیں ان کا فضلہ آبی پناہ گاہوں کے لیے قدرتی کھاد کا کام بھی انجام دیتا ہے، جس سے آبی نباتات کی نشوونما میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ پرندے بیجوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقلی کا ذریعہ بن کر پودوں کی افزائش اور جنگلات کی صحت میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان پرندوں کی آمد، ان کی تعداد اور ہجرت کے بدلتے ہوئے انداز ‘حیاتیاتی اشاریے (Bio-indicators) کی حیثیت رکھتے ہیں، جو ہمیں وادی کی آبی پناہ گاہوں اور مجموعی ماحولیاتی نظام کی صحت یا اس میں آنے والے تنزلی سے بروقت آگاہ کرتے ہیں۔
ان رنگ برنگے مہاجر پرندوں کی دلکش اڑان اور دلنشین چہچہاہٹ فضا میں ایک جادوئی سماں باندھ دیتی ہے، جس سے مسحور ہو کر پرندوں کے مشاہدے کے شوقین (Birdwatchers) بڑی تعداد میں آبی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ وادی کے معروف برڈ واچر، محمد ریحان صوفی نے اس حوالے سے دلچسپ مشاہدات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔ کہ جب 2016 میں انہوں نے اس سفر کا آغاز کیا، تو اس وقت محض 16 سے 18 اقسام کے پرندے رپورٹ ہوئے تھے، لیکن ان کی مسلسل جستجو اور دستاویزی محنت (Documentation) کے نتیجے میں آج یہ تعداد 394 اقسام تک پہنچ چکی ہے۔ ریحان صوفی کے ذاتی مشاہدے کے مطابق، ہجرت کے اس موسم کا سب سے پہلا نقیب ‘گارگینی (Garganey) نامی پرندہ ہے، جو اگست کے مہینے میں ہی یہاں پہنچ جاتا ہے۔ یہ پرندہ ایک ‘پیش روکے طور پر پہلے حالات کا جائزہ لیتا ہے اور یہ اطمینان کرتا ہے کہ آیا یہ آبی پناہ گاہیں قیام کے لیے موزوں اور محفوظ ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ناردرن پن ٹیل یہاں اپنی جگہ بناتے ہیں، جس کے پیچھے پیچھے گیڈوال، کامن ٹیلز اور دیگر انواع کے پرندے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ محمد ریحان، جو کہ ریاست سے باہر کے مختلف برڈ واچر گروپس کے ساتھ بھی فعال طور پر منسلک ہیں، وادی کے اس حیاتیاتی تنوع کو قومی اور عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کنزرویٹر فارسٹس اور وارڈن ویٹ لینڈز کشمیر الطاف حسین نے اس سال پرندوں کی ریکارڈ آمد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری آبی پناہ گاہیں بحالی کی صحیح سمت میں گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی مردم شُماری کے مطابق 13 لاکھ سے زائد مہاجر پرندوں نے کشمیر کی آبی پناگاہوں میں قیام کیا تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
الطاف حسین کے مطابق، محکمۂ وائلڈ لائف نے ‘واٹر مینجمنٹ کے تحت آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کے محکمے کے ساتھ مل کر پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے واٹر ریگولیشن پر کام کیا، جس کے نتیجے میں آج ‘ہوکرسر جیسے مقامات پر پانی کی معقول مقدار موجود ہے۔ٹھوس فضلے کو آبی ذخائر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فیڈنگ چینلز پر ٹریش بیریئرز (Trash Bearers) نصب کی گئی ہیں۔ اور کشتیوں کے ذریعے آبی پناہ گاہوں کی مستقل صفائی کی جاتی ہے۔ پانی کی گہرائی برقرار رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً ڈی سلٹنگ کا کام بھی کیا جاتا ہے
آبی پناہ گاہوں اور ان میں پناہ گزین مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 اور ویٹ لینڈ کنزرویشن رولز جیسے موثر قوانین نافذ ہیں۔ لیکن ان قوانین سے زیادہ اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ آبی پناہ گاہوں کی حفاظت محض ایک فرد یا محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے اجتماعی طور پر ٹھوس اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہے تاکہ ان آبی پناہ گاہوں کو دوام مل سکے اور صدیوں سے جاری ان پردیسی مہمان پرندوں کا رشتہ کشمیر کے ساتھ برقرار رہے۔ یہ نہ صرف ہمارے ماحولیاتی توازن کے لئے ضروری ہے بلکہ یہاں کے سیاحتی مستقبل کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول زوہامہ چاڈورہ )
[email protected]